Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اسپیکر اے پی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو شکست

اسپیکر اے پی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو شکست

حکومت کو گھیرنے کی کوشش میں اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس کو ناکامی
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مارچ (سیاست نیوز) وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے اسپیکر اسمبلی آندھراپردیش کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو شکست ہوگئی ۔ اسپیکر نے ان کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو تکلیف دہ قرار دیا ۔ اپنے فرائض سے انصاف کرنے کا دعویٰ کیا ۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے اسپیکر کو افسردہ نہ ہونے کا مشورہ دیا ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے جانبدارانہ رویہ اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی مسٹر کوڈیلا شیوا پرساد کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کی ، جس پر آج اسمبلی میں رائے دہی منعقد ہوئی جس میں تحریک عدم اعتماد کو شکست ہوگئی ۔ تحریک کی تائید میں 57 ووٹ اور مخالفت میں 97 ووٹ آئے۔ واضح رہے کہ پیر کو چندرا بابو نائیڈو کے زیر قیادت تلگو دیشم حکومت کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو بھی شکست ہو گئی تھی ۔ قائد اپوزیشن مسٹر جگن موہن ریڈی کی جانب سے حکومت اور اسپیکر اسمبلی دونوں کو تحریک عدم اعتماد نوٹس کے ساتھ گھیرنے کی کوشش میں انہیں ہی ناکامی ہوئی۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 8 ا رکان اسمبلی نے تلگو دیشم میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ انہیں نااہل قرار دینے کی  غرض سے وائی ایس آر کانگریس پار ٹی نے تلگو دیشم حکومت اور اسپیکر اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی تاکہ پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جاسکے ۔ تحریک عدم اعتماد کو شکست ہوجانے کے بعد دوبارہ کرسی صدارت پر فائز ہونے والے اسپیکر اسمبلی کوڈیلایشو پرساد نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر جانبداری سے کام کرنے کا الزام عائد کر تے ہوئے تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کی گئی جس پر انہیں کافی تکلیف ہوئی ہے ۔ تاہم انہوں نے اس پر مباحث کیلئے کوئی تاخیر نہیں کی۔ تاہم ان کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو شکست ہوگئی ہے ۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب اسپیکر اسمبلی کیلئے میرا نام پیش ہوا تھا تو متفقہ رائے سے مجھے کامیاب بنانے میں اصل اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے میرا ساتھ دیا تھا  جن کیلئے میں قائد اپوزیشن سے آج بھی اظہار تشکر کرتے ہیں۔ چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے اسپیکر اسمبلی کو افسردہ نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے فرائض کو غیر جانبدارانہ طریقہ سے بخوبی نبھایا ہے ۔ اگر حکمراں جماعت کو مباحث کیلئے 23 گھنٹے وقت دیا ہے تو اپوزیشن کو 20 گھنٹوں کا وقت دیا ہے ۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے ، مائیک حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی تھی ، آپ نے بغیر جدوجہد کے اپوزیشن کو مائیک دیتے ہوئے بھرپور تعاون کیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT