Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / اسکالرشپس اور فیس باز ادائیگی کیلئے عنقریب نئی پالیسی مدون کرنے کا اعلان

اسکالرشپس اور فیس باز ادائیگی کیلئے عنقریب نئی پالیسی مدون کرنے کا اعلان

سابقہ اسکیم جوں کی توں برقرار، اپوزیشن کے اندیشے غیر ضروری، اسمبلی میں کڈیم سری ہری کا بیان

سابقہ اسکیم جوں کی توں برقرار، اپوزیشن کے اندیشے غیر ضروری، اسمبلی میں کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد۔/20مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر ووزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے تلنگانہ اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے درج فہرست اقوام، قبائل، پسماندہ طبقات اور اقلیتی طلبہ کی تعلیمی فیس اور اسکالر شپ کے بقایا جات کے طور پر1790 کروڑ 46لاکھ روپئے جاری کئے ہیں۔ یہ بقایا جات گذشتہ دو برسوں کے ہیں جنہیں سابق حکومت نے ادا نہیں کیا تھا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپ کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تعلیمی سال 2015-16 میں 16لاکھ طلبہ کو اسکالر شپ و فیس باز ادائیگی کے تحت 2500کروڑ روپئے کی اجرائی کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت بہت جلد نئی پالیسی مدون کرے گی جس کیلئے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس باز ادائیگی اسکیم جوں کی توں برقرار ہے صرف تلنگانہ حکومت نے صدارتی اعلامیہ کے تحت مقامی افراد کو یہ سہولت فراہم کرنے سے متعلق ترمیم کی ہے۔ انہوں نے فیس بازا دائیگی اسکیم کی برخواستگی سے متعلق اپوزیشن کے اندیشوں کو غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کڈیم سری ہری نے بتایا کہ 31مارچ 2014تک کے بقایا جات کے طور پر اقلیتی طلبہ کیلئے فیس باز ادائیگی کے تحت 160کروڑ 65لاکھ روپئے جبکہ اسکالر شپ کے تحت 35کروڑ 70لاکھ روپئے جاری کئے گئے۔ مجموعی طور پر 196کروڑ 35لاکھ اقلیتی طلبہ کے بقایا جات کے طور پر جاری کئے گئے ہیں۔ اس طرح طلبہ اور کالجس کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی طلبہ کیلئے جملہ 421کروڑ 99لاکھ ، قبائیلی طلبہ کیلئے184 کروڑ 38لاکھ، پسماندہ طبقات کیلئے 831کروڑ 53لاکھ اور معاشی طور پر پسماندہ طلبہ کیلئے 154کروڑ 71لاکھ روپئے جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2013-14 کے تحت 16لاکھ 57ہزار 691 طلبہ کیلئے فیس اور اسکالر شپ جاری کی گئی۔ کڈیم سری ہری نے یقین دلایا کہ آئندہ تعلیمی سال سے مقررہ وقت پر اسکالر شپ اور تعلیمی فیس جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ تعلیمی سال کیلئے درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے اور ابھی تک 41403 طلبہ نے فیس باز ادائیگی کیلئے درخواستیں داخل کردی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کڈیم سری ہری نے بتایا کہ اننت رامن کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کے ابتدائی 4زمروں سے 26 طبقات کے نام علحدہ کردیئے گئے۔ ان طبقات نے دوبارہ حکومت سے نمائندگی کی ہے جس کا جائزہ لیکر ان طبقات سے مکمل انصاف کیا جائے گا۔ فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپ میں سابق وزیر تعلیم کی جانب سے بے قاعدگیوں کے الزام پر کڈیم سری ہری نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔ کانگریس کے رکن بھٹی وکرامارکا نے اسکیم میں بے قاعدگیوں کی شکایت کی اور کہا کہ سابق وزیر تعلیم کے دور میں کئی بے قاعدگیاں کی گئیں جس کے بارے میں اخبارات میں رپورٹس شائع ہوئی ہیں۔ انہوں نے بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے این وی ایس ایس پربھاکر نے طلبہ کو کاسٹ سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں تاخیر کی شکایت کی اور کہا کہ اس سرٹیفکیٹ کیلئے کئی ماہ تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ پربھاکر کی نمائندگی پر وزیر تعلیم نے تیقن دیا کہ ایسے طلبہ جو فرسٹ ایئر مکمل کرچکے ہیں اور ان کی کاسٹ اب بی سی فہرست میں شامل نہیں تاہم ان طلبہ کی تعلیم کی تکمیل تک اسکالر شپ اور تعلیمی فیس جاری کی جائے گی۔ ٹی آر ایس کے رکن کے ایشور نے اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی کو ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT