Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی سے محروم طلباء کا احتجاجی دھرنا

اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی سے محروم طلباء کا احتجاجی دھرنا

طلبہ اور سرپرست الجھن کا شکار‘ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اطمینان بخش جواب سے قاصر
حیدرآباد۔18 ستمبر (سیاست نیوز) گزشتہ دو برسوں سے اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی سے محروم طلباء آخرکار احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے مختلف کالجس کے طلباء نے آج حج ہائوز پہنچ کر دھرنا منظم کیا اور نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کے سلسلہ میں اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر ہیں۔ طلبہ نے کہا کہ وہ روزانہ اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں جہاں کوئی بھی اعلی عہدیدار ان سے ملاقات کے لیے تیار نہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جو اسکیمات پر عمل آوری کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں وہ سکریٹریٹ میں بیٹھ کر طلباء کے مسائل اور ان کی تکالیف سے بے خبر ہیں۔ سکریٹریٹ میں طلباء کو داخلہ کی اجازت نہیں لہٰذا وہ حج ہائوز میں اقلیتی فینانس کارپوریشن اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کے دفاتر سے اپنی درخواستوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ طلباء و طالبات کا تعلق شہر کے مختلف کالجس سے ہے اور وہ دور دراز کے علاقوں سے طویل مسافت طے کرتے ہوئے حج ہائوز پہنچنے کے بعد مایوس واپس ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ کالجس کی جانب سے رقومات کے لیے طلباء پر دبائو بنایا جارہا ہے اور جب تک فیس داخل نہیں کی جاتی اس وقت تک سرٹیفکیٹس کی اجرائی سے انکار کے سبب طلباء مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طلباء جن کا کورس ابھی مکمل نہیں ہوا انہیں امتحانات میں شرکت کے لیے ہال ٹکٹ جاری نہیں کیا جارہا ہے۔ اس طرح حکومت اور کالجس کے درمیان طلباء غیر ضروری طور پر نشانہ بن رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں حکومت فوری وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسکیمات میں فیس بازادائیگی اور اسکالرشپ کا ذکر شامل ہے لیکن اقلیتی بہبود کے عہدیدار محکمہ فینانس سے بجٹ کی اجرائی میں ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جلد از جلد اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کی رقم جاری نہیں کی گئی تو احتجاج میں شدت پیدا کردی جائے گی۔ طلباء کے ساتھ موجود بعض سرپرستوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی بہبود کے مشیر اور سکریٹری روزانہ اخبارات اور ٹی وی چینلس کی زینت بنے ہوئے ہیں اور بلند بانگ دعوے کررہے ہیں۔ انہیں اپنی شہرت پر توجہ دینے کے بجائے طلباء کے مستقبل کو بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔ والدین نے کہا کہ عہدیدار اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی سے محرومی کے سبب تعلیمی مستقبل تاریک ہوسکتا ہے لیکن عہدیداروں کو مسئلہ کی یکسوئی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اسی دوران صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن اکبر حسین نے احتجاجی طلباء سے ملاقات کی اور حکومت سے نمائندگی کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ فیس بازادائیگی اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ سے اقلیتی فینانس کارپوریشن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پری میٹرک اسکالرشپ کے تحت 2015-16ء کے دوران 7,356 طلباء میں 2 کروڑ 4 لاکھ روپئے تقسیم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائرکٹریٹ اقلیتی بہبود کے تحت اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کے معاملات آتے ہیں اور سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل ڈائرکٹر اقلیتی بہبود بھی ہیں۔ الغرض احتجاجی طلباء مایوسی کے ساتھ حج ہائوز سے منتشر ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT