Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کیلئے ہزاروں طلبہ پریشان

اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کیلئے ہزاروں طلبہ پریشان

وجئے بینک سے 58کروڑ روپئے وصول کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 16۔ اکتوبر (سیاست نیوز) اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری میں سب سے اہم رکاوٹ بجٹ کی اجرائی ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے بجٹ کی اجرائی میں تیزی دکھائی جاتی ہے لیکن اقلیتی بہبود کے بجٹ جاری کرنے میں سست روی نے اسکیمات کو متاثر کر دیا ہے۔ اس بات کا انکشاف آج ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی جانب سے طلب کردہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اسکیمات کیلئے جاریہ سال بجٹ میں جو رقم مختص کی گئی اس کی اجرائی کی رفتار سست ہے اور یہ معاملہ صرف جاریہ سال کا نہیں بلکہ گزشتہ تین برسوں سے یہی صورتحال ہے ، جس کے باعث اسکالرشپ ، فیس بازادائیگی ، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم اور سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری متاثر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2014-15 ء سے جاریہ مالیاتی سال تک اہم اسکیمات کیلئے مکمل بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کیلئے مختص 1200 کروڑ کے بجٹ میں تاحال 327 کروڑ روپئے جاری کئے گئے جبکہ حکومت کے ریکارڈ کے مطابق 463 کروڑ کی اجرائی کے جی اوز جاری کئے گئے ہیں۔ جی او کی اجرائی اور رقم کی اجرائی میں کافی فرق ہے۔ جی اوجاری کرتے ہوئے محکمہ فینانس کے عہدیدار اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسکیمات پر اسی وقت عمل آوری ممکن ہے ، جب بجٹ جاری ہو ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ فیس باز ادائیگی اسکیم جس سے پیشہ ورانہ کورسس کے لاکھوں اقلیتی طلبہ کا مستقبل وابستہ ہے ، جاریہ سال بجٹ میں 180 کروڑ ر وپئے مختص کئے گئے تھے۔ لیکن 54 کروڑ روپئے ہی جاری کئے گئے اور محکمہ اقلیتی بہبود نے 51 کروڑ روپئے طلبہ کو جاری کردیئے ۔ 2014-15 ء میں فیس بازادائیگی کا بجٹ 400 کروڑ تھا لیکن اجرائی 150 کروڑ عمل میں آئی ۔ 2015-16 ء میں 425 کروڑ کے منجملہ صرف 164 کروڑ روپئے ہی جاری کئے گئے ۔ 2016-17 ء میں 238 کروڑ کے بجٹ میں 219 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ اس طرح گزشتہ 4 بجٹ میں مختص کردہ رقم مکمل طور پر جاری نہیں کی گئی۔ منظوری اور اجرائی کے درمیان فرق کے باعث اقلیتی طلبہ کو دشواریوں کا سامنا ہے ۔ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے سلسلہ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں کو تیقن دیا کہ وہ بجٹ کی عاجلانہ اجرائی کو یقینی بنانے وزیر فینانس ای راجندر اور فینانس سکریٹری کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے۔ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر نے فینانس کارپوریشن اسکام کے بارے میں استفسار کیا۔ 58 کروڑ روپئے کے مالیاتی بحران کے سلسلہ میں وجئے بینک سے ریکوری نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ اسکام کے بارے میں سی بی سی آئی ڈی تحقیقات نامکمل ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے 58 کروڑ روپئے کی ریکوری کی کارروائی تیز کرنے اور سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کی عاجلانہ تکمیل کی ہدایت دی۔ انہوں نے فینانس کارپوریشن کے دو عہدیداروں کو سدھیر کمیشن منتقل کرنے کے بارے میں استفسار کیا ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کارپوریشن میں اسٹاف کی قلت ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیلئے تجویز پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارہ میں جہاں بھی اسٹاف کی کمی ہے ، حکومت اسے دور کرے گی تاکہ اسکیمات پر موثر عمل آوری ممکن ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT