Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اسکالر شپ اور شادی مبارک اسکیم میں نرمی کرنے کی درخواست

اسکالر شپ اور شادی مبارک اسکیم میں نرمی کرنے کی درخواست

ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبرکی حکومت تلنگانہ سے نمائندگی

ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبرکی حکومت تلنگانہ سے نمائندگی
حیدرآباد۔/21مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے اقلیتی طلبہ کے پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اور غریب مسلم لڑکیوں کی شادی پر امداد کے سلسلہ میں ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کی شرائط میں نرمی پیدا کرنے کیلئے حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے سلسلہ میں 7سال ابتدائی تعلیم کا بونافائیڈ سرٹیفکیٹ داخل کرنے سے متعلق شرط سے ہزاروں طلبہ اسکالر شپ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح شادی مبارک اسکیم کی درخواست کے ساتھ برتھ سرٹیفکیٹ کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ کو قبول کرنے سے متعلق چیف منسٹر کے تیقن پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبر نے ان دونوں اُمور کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی کہ جلد از جلد شرائط میں نرمی پیدا کی جائے تاکہ دونوں اسکیمات سے اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ استفادہ کا موقع فراہم ہو۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی تجویز ہے کہ مسلسل سات سال کا بونافائیڈ سرٹیفکیٹ داخل کرنے کے بجائے کسی دینی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے سے متعلق سرٹیفکیٹ کو بھی قبول کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک نوٹ حکومت کو روانہ کیا جائے گا۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بھی ان دونوں اسکیمات کی شرائط میں نرمی کے سلسلہ میں دلچسپی دکھائی ہے اور توقع ہے کہ محکمہ کی جانب سے باقاعدہ حکومت سے سفارش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ بونافائیڈ سرٹیفکیٹ کے ادخال کی شرط سے زیادہ تر مسلم طلبہ ہی متاثر ہوں گے۔ عام طور پر دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طلبہ راست طور پر ایس ایس سی کا امتحان تحریر کرتے ہیں۔ ایسے طلبہ کیلئے کسی اسکول کا بونافائیڈ سرٹیفکیٹ داخل کرنا ممکن نہیں ہے۔ دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ زیادہ تر او ایس ایس سی (OSSC) امتحان میں شرکت کرتے ہیں۔ حکومت نے بونافائیڈ سرٹیفکیٹ کی جو شرط رکھی ہے اس سے OSSC امتحان لکھنے والے طلبہ محروم ہوسکتے ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔ حکومت نے غیر مقامی طلبہ کو اسکالر شپ کی ادائیگی سے بچنے کیلئے سات سال کا بونافائیڈ سرٹیفکیٹ داخل کرنے کی شرط رکھی ہے تاکہ طلبہ کی ابتدائی تعلیم تلنگانہ میں ہونے کا ثبوت حاصل کیا جائے۔ اسکالر شپ پر عمل آوری کے سلسلہ میں توقع ہے کہ کم از کم آئندہ تعلیمی سال سے اقلیتی طلبہ کو رعایت کا اعلان کیا جائے گا۔ شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ برتھ سرٹیفکیٹ کی جگہ ووٹر آئی ڈی کارڈ کو قبول کیا جائے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود اس سلسلہ میں باقاعدہ احکامات جاری کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اگر اس مساعی میں کامیاب ہوجائیں تو دونوں اسکیمات سے اقلیتوں کو استفادہ کرنے میں سہولت ہوگی۔ اقلیتی بہبود کی نمائندگی پر حکومت نے شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں دولہے کے آدھار کارڈ کے ادخال سے استثنیٰ دیا ہے۔ واضح رہے کہ کلیان لکشمی اسکیم کے مقابلہ شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کی رفتار تیز ہے۔ اس سلسلہ میں شعور بیداری کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے جامع منصوبہ کو قطعیت دی ہے اور رضاکارانہ تنظیموں کا تعاون حاصل کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT