Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / اسکامس اور مودی کی خاموشی

اسکامس اور مودی کی خاموشی

اسکامس اور مودی کی خاموشی
ملک میں حالیہ عرصہ میں معاشی دھاندلیوں اور خرد برد کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں ۔ عوام اور عوامی بینکوں کا ہزاروں کروڑ روپیہ لوٹ لیا گیا ہے اور چند مٹھی بھر عناصر نے اس دولت کو لوٹ کر خاموشی سے ملک بھی چھوڑ دیا اس کے باوجود حکومت کی جانب سے محض ضابطہ کی تکمیل کی کارروائی ہو رہی ہے اور ایسا کوئی جامع منصوبہ حکومت کے پاس نہیں ہے جس کے ذریعہ لوٹی گئی دولت کو واپس لایا جاسکے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اس طرح کے معاملات پر کسی طرح کی لب کشائی کیلئے تک تیار نہیں ہیں۔ وہ اس طرح کے اسکامس پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے اور عوام کو محض نزاعی مسائل میں الجھاکر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کبھی کانگریس مکت بھارت کی بات کرتے ہیں تو کبھی اپوزیشن کا صفایا کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے 2014 عام انتخابات سے قبل اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی کوئی انتخابی جملہ تھا یا پھر عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش تھی ۔ مودی کے راج میں وجئے ملیا ملک سے فرار ہوگئے ‘ للت مودی کو سفر کیلئے بی جے پی کی ایک چیف منسٹر کی سفارشی چٹھی حاصل ہوگئی تھی اور اب نیرو مودی ہزاروں کروڑ روپئے لوٹ کر نہ صرف ملک سے فرار ہوگئے بلکہ انہوں نے سوئیٹزر لینڈ میں وزیر اعظم نریند رمودی کے ساتھ ایک میٹنگ میں بھی شرکت کی ۔ اس کے باوجود مودی اس پر کوئی تبصرہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔مودی نے گذشتہ انتخابات سے قبل ملک کے عوام سے کہا تھا کہ وہ انہیں وزیر اعظم نہیں بلکہ چوکیدار بنائیں جو ملک کی دولت اور خزانہ کی حفاظت کریگا ۔ یہ ایسا چوکیدار ہے جو آنکھیں موندیں ڈیوٹی کر رہا ہے اور ٹھگنے والے ہزاروں کروڑ روپئے کا چونا لگا کر بیرون ملک فرار بھی ہوجاتے ہیں اور چوکیدار کو کوئی خبر بھی نہیں ہوتی ۔ کانگریس صدر راہول گاندھی کی جانب سے مسلسل یہ اصرار کیا جا رہا ہے کہ مودی اس پر کوئی تبصرہ کریں لیکن مودی کی خاموشی ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ رافیل معاملت پر بھی راہول گاندھی مودی سے سوال کر رہے ہیں اور مودی اس پر بھی خاموش ہیں جبکہ ان کی وزیر دفاع وقفہ وقفہ سے ایسے بیانات دے رہی ہیں جو متضاد کہے جاسکتے ہیں۔
نریندر مودی نے گذشتہ لوک سبھا انتخابات سے قبل یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرونی ممالک میں رکھا گیا کالا دھن ہندوستان واپس لائیں گے ۔ اب صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے ۔ وہ ہندوستانی عوام کی جیبوں میں رکھے گئے پیسے کو پہلے سرکاری بینکوں میں منتقل کر رہے ہیں اور پھر ان بینکوں سے دھوکہ باز انہیں رقومات کو بیرونی ممالک کو منتقل کرکے خود بھی فرار ہو رہے ہیں۔ یہ دعوی اور عمل کا تضاد ہے جس میں بی جے پی اور خود وزیر اعظم کو شہرت حاصل ہوتی جا رہی ہے ۔ وہ اس میں مہارت اختیار کرچکے ہیں۔ بات کا رخ بدل کر ‘ عوام کی توجہ ہٹا کر اصل مسئلہ کو کہیں پس منظر میں ڈالا جا رہا ہے ۔ سرکاری بینک عوام کی دولت ہوتے ہیں اور عوام کی دولت کی حفاظت کرنا ہر حکومت اور ہر دستوری عہدہ پر فائز شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ نریندر مودی حکومت میں ایسا نہیں ہو رہا ہے بلکہ دھوکہ باز افراد سرکاری بینکوں کو لوٹ رہے ہیں۔ بینکوں کی جانب سے بھی ان افراد کو ہزاروں کروڑ روپئے کا قرض قواعد و قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کئے جا رہے ہیں اور پھر یہ دھوکہ باز بیرونی ممالک میں کسی محفوظ مقام کو منتقل ہوجاتے ہیں۔ یہ منظم اور منصوبہ بند لوٹ مار ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ذمہ دار چوکیدار کی موجودگی میں ایسا ہو رہا ہے ۔ یہ چوکیدار اس طرح کے واقعات پر اپنی صفائی تک دینے کو تیار نہیں ہے اور خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جس سے دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔ لوگ ایک کے بعد دیگرے یہی راہ اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ہماری حکومت خاموشی میں عافیت سمجھ رہی ہے ۔
ملک کے عوام اس تعلق سے فکرمند ہیں۔ بینکوں پر سے عوام کا اعتماد ویسے بھی کم ہوتاجا رہا ہے ۔ نت نئے انداز سے عوام کی رقومات کو اینٹھتے ہوئے دھوکہ بازوں کی جیبیں اور گھر بھرے جا رہے ہیں ۔ جس سوال اس طرح کے اسکامس اور اسکینڈلس کے تعلق سے اٹھ رہے ہیں ان کا حکومت کو جواب دینا چاہئے ۔ کچھ گوشوں کی جانب سے حسب روایت اس کیلئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔ اگر کانگریس ہی واقعی ذمہ دار ہے تب بھی اس کی ساری تفصیل ملک کے عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ نریندر مودی حکومت کسی بھی واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے دوسروں کو اس کیلئے ذمہ دار قرار دے کر خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کی یہ روش قابل قبول نہیں ہوسکتی اور حکومت بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔ مودی کو اور ملک کے وزیر فینانس کو اس طرح کے اسکامس اور اسکینڈلس کے تعلق سے عوام کو جواب دینا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT