اسکولس میں من مانی فیس اور اضافی بوجھ کے خلاف آج تعلیمی اداروں کا بند

   

اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا اعلان ۔ حکومت سے تعلیم کو تجارت بنانے سے روکنے اقدامات کا مطالبہ
حیدرآباد۔11جولائی(سیاست نیوز) اسکولوں میں من مانی فیس میں اضافہ کے علاوہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں پر بے تحاشہ بوجھ کے خلاف بائیں بازو طلبہ تنظیموں کی جانب سے 12 جولائی کو تعلیمی اداروں کے بند کا اعلان کیاگیا ہے اوراس کو اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا‘ آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن ‘ پروگریسیو ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس یونین‘ آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ‘ آل انڈیا پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین و دیگرطلبہ تنظیموں کی تائید حاصل ہے ۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی قلت ‘ تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی تعداد میں اضافہ ‘ سرکاری اسکولوں میں بیت الخلاء کی تعمیر اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ‘ صفائی عملہ کی تعداد میں اضافہ ‘ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کیلئے یونیفارم اور نصابی کتب کی فراہمی کو یقینی بنانے کامطالبہ کرتے ہوئے اس بند کے اعلان پر دونوں شہروں کے کئی سرکردہ کارپوریٹ تعلیمی اداروں نے بند میں شامل ہوکر اسکولوں کو تعطیل دینے کا اعلان کیا ہے۔حکومت کی شعبہ تعلیم سے متعلق پالیسی ‘ ریاست میں تعلیمی بجٹ ‘ اسکولی طلبہ کو فی کس دو یونیفارمس کی فراہمی کے ساتھ خانگی اسکولوں میں من مانی فیس کی وصولی کے خلاف اس بند کے ساتھ حکومت سے خانگی اسکولوں میں فیس کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ گذشتہ ماہ 26 جون کو ان مطالبات کے ساتھ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کی اپیل کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کی فوری یکسوئی کو یقینی بنائے۔ مختلف طلبہ تنظیموں سے حکومت پر دباؤ بنانے کی ان کوششوں کے دوران اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں داروں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خانگی اسکولوں کو جو تجارتی اداروں میں تبدیل ہوچکے ہیں ان میں فیس کو باقاعدہ بنانے اقدامات کریں کیونکہ اسکولوں کی جانب سے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی 20 فیصد تک فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے علاوہ ازیں اسکولوں میں نصابی کتب ‘ یونیفارم وغیرہ کی فروخت کے ذریعہ اولیائے طلبہ و سرپرستوں پر بوجھ عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے خلاف اولیائے طلبہ نے عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بند کی اپیل کے پیش نظر بعض اسکول انتظامیہ نے کل تعطیل کا اعلان بھی کیا ہے ۔م