Tuesday , September 18 2018
Home / ہندوستان / اسکولس کیلئے دہشت گردانہ حملہ سے نمٹنے رہنمایانہ خطوط

اسکولس کیلئے دہشت گردانہ حملہ سے نمٹنے رہنمایانہ خطوط

نئی دہلی ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) طالبان کی جانب سے پشاور میں 148 افراد کو جن میں اکثریت بچوں کی تھی، ہلاک کردیئے جانے کے تناظر میں ملک بھر کے اسکولس کو جامع رہنمایانہ خطوط ارسال کئے جارہے ہیں کہ اگر کوئی دہشت گردانہ حملہ کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے تو انتظامیہ کو کس طرح اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسٹانڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرس کا تعلق احتیاطی ا

نئی دہلی ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) طالبان کی جانب سے پشاور میں 148 افراد کو جن میں اکثریت بچوں کی تھی، ہلاک کردیئے جانے کے تناظر میں ملک بھر کے اسکولس کو جامع رہنمایانہ خطوط ارسال کئے جارہے ہیں کہ اگر کوئی دہشت گردانہ حملہ کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے تو انتظامیہ کو کس طرح اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسٹانڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرس کا تعلق احتیاطی اقدامات، اغواء کی کسی کوشش کی صورت میں بچوں، ٹیچرس اور سیکوریٹی اسٹاف کو مشق، یکایک فائرنگ، یرغمال بنانے کیلئے مسلح دراندازی اور دھماکو مادوں کے ذریعہ حملوں نیز دیگر صورتوں سے ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ پرنسپلس سے درخواست کی ہیکہ ان رہنمایانہ خطوط کو جو وزارت داخلہ نے تیار کرتے ہوئے سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن کے ذریعہ گشت کرائے ہیں، ان کا توجہ سے جائزہ لیتے ہوئے اسکولس کے تمام اسٹاف اور ٹیچرس کو واپس کرائیں اور ان رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کیلئے کوئی جامع منصوبہ عمل تیار کریں۔ ان رہنمایانہ خطوط کے مطابق ہر اسکول کو کنکریٹ کی باونڈری وال رکھنی چاہئے، اسکول کے 3تا 4 گیٹس ہوں اور ہر گیٹ پر 24 گھنٹے کی اساس پر کم از کم 3 گارڈس کو متعین کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT