Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکولوں میں من مانی فیس وصولی پر آج عوامی سماعت

اسکولوں میں من مانی فیس وصولی پر آج عوامی سماعت

حکومت کی ہدایت اسکول انتظامیہ پر بے اثر ، اولیائے طلبہ پر مالی بوجھ ، کنٹرول کی مساعی
حیدرآباد۔21اپریل (سیاست نیوز) اسکولوں میں من مانی فیس کی وصولی کے معاملہ میں عوامی سماعت منعقد ہوگی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار اسکول فیس ریگولیشن کی جانب سے بشیر باغ پریس کلب میں 22اپریل بروز جمعہ صبح 10تا 1بجے دن منعقد ہونے والی اس عوامی سماعت میں اولیائے طلبہ و سرپرست رجوع ہوتے ہوئے پیانل کو اپنی شکایات حوالے کر سکتے ہیں۔ جسٹس بی چندرا کمار ‘ پروفیسر شانتا سنہا ‘ ڈاکٹر ایم گلیا کے علاوہ دیگر اہم شخصیات کی موجودگی میں منعقد ہونے والی اس عوامی سماعت کے دوران خانگی اسکولوں میں فیس باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں تجاویز وصول کی جائیں گی اور اس عوامی سماعت کے دوران موصولہ شکایات کو حکومت تک پہنچاتے ہوئے ان کی یکسوئی پر زور دیا جائے گا۔ریاست تلنگانہ میں خانگی اسکولوں میںوصول کی جا رہی من مانی فیس پر کسی قسم کا کنٹرول نہ ہونے کے سبب خانگی اسکولوں کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔ خانگی اسکولوں میں ہر سال سالانہ فیس کے نام پر 5تا 10ہزار روپئے وصول کیئے جا رہے ہیں علاوہ ازیں اسکولوں کی جانب سے یونیفارم ‘ کتب  و دیگر اشیاء کی فروخت کے ذریعہ اولیائے طلبہ و سرپرستوں پر مالی بوجھ عائد کیا جا رہا ہے۔ اسکول انتظامیہ سرپرستوں اور اولیائے طلبہ کو خوفزدہ کرتے ہوئے پیسے اینٹھنے میں مصروف ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے واضح ہدایات دی جا چکی ہیں کہ اسکولوں کے ذریعہ کسی بھی اشیاء کی فروخت نہ کی جائے لیکن ان احکامات کی برسر عام خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور اس خلاف ورزی کی شکایت کرنے کا انتباہ دینے والے اولیائے طلبہ کو دھمکایا جا رہا ہے کہ ان کے بچوں کو اسکول سے بیدخل کر دیا جائے گا۔سرپرست بچوں کو اسکول سے نکال دیئے جانے کے خوف سے خاموشی اختیار کر رہے ہیں جس کا اسکول انتظامیہ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے فیس کو باقاعدہ بنانے کیلئے کیئے جانے والے اقدامات میں اب تک اپوزیشن کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جاتی تھیں لیکن اب خود اپوزیشن بلخصوص کانگریس ‘ مجلس ‘ بی جے پی ‘ تلگودیشم نے بھی ریاست تلنگانہ میں عوام کو درپیش اس مسئلہ کی یکسوئی کا مطالبہ بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں کیا تھا جس سے حکومت کو عملی اقدامات میں دشواریاں نہ ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں اسی لیئے حکومت نے خانگی اسکولوں کے متعلق سخت گیر فیصلے کرنے شروع کردیئے ہیں اور ان فیصلوں کو چیف منسٹر کی بھرپور تائید حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بیشتر اسکول انتظامیہ کی جانب سے فیس کو باقاعدہ بنانے یا فیس میں اضافہ کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی پر عہدیداروں کی خاموشی اسکولوں اور محکمہ کے عہدیداروں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ثابت کرتی ہے۔ محکمہ تعلیمات کے احکامات میں بموجب کسی بھی خانگی اسکول کی فیس میں اضافہ کیلئے یہ ضروری ہے کہ اسکول انتظامیہ اولیائے طلبہ کی کمیٹی کے ہمراہ اجلاس منعقد کرے اور ان سے منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی فیس میں اضافہ کا فیصلہ کرے لیکن کسی بھی اسکول میں ایسا نہیں کیا جاتا اور عہدیدار اس بات سے واقف ہیں کہ ایسا نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ حکومت کی آنکھ میں دھول جھونکنے کیلئے اولیائے طلبہ کے فرضی دستخطوں کے علاوہ دیگر امور کیلئے انجام دی گئی دستخطوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔بہادرپورہ ‘ چارمینار ‘ سعیدآباد ‘ بندلہ گوڑہ منڈلوں میں یہ عام بات تصور کی جاتی ہے جبکہ یہ عمل حکومت کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔بہادر پورہ و چارمینار منڈل میں طویل عرصہ سے خدمات انجام دے رہے عہدیداروں کا تبادلہ بھی ناگزیر ہے چونکہ طویل مدت ایک ہی مقام پر خدمات کے سبب ان عہدیداروں کے اسکول انتظامیہ کے گہرے مراسم ہو چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT