Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکولی بچوں کے تحفظ کا مسئلہ سنگین،انتظامیہ کے بشمول حکومت پر بھی ذمہ داری ، اسباب وجوہات پر توجہ ضروری

اسکولی بچوں کے تحفظ کا مسئلہ سنگین،انتظامیہ کے بشمول حکومت پر بھی ذمہ داری ، اسباب وجوہات پر توجہ ضروری

حیدرآباد ۔ 20 ۔ ستمبر : ( ایجنسیز ) : گرگاؤں میں ریان انٹرنیشنل اسکول میں دوسری کلاس کے طالب علم پردھومن ٹھاکر کی ہلاکت کے بعد اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کو لے کر سوال پھر سے اٹھنے لگے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سوال پہلی بار اٹھا ہے ، یا بعد میں نہیں اٹھے گا ۔ موجودہ حالات میں جب مرکز کو نئی ہدایتیں جاری کرنی پڑرہی ہیں تو اس کا یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ اسکولوں کو یاد دلانے کے لیے ایسا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یا وہ وقت کے پیمانے پر پرانے پڑتے جارہے ہیں ۔ اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے سے جاری بچوں کے تحفظ کے احکام پر ٹھیک عمل آوری نہیں ہو پارہی تھی ۔ ویسے بھی اسکولوں میں ہونے والے حادثات کے بعد اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے ۔ ایسے میں سوال اٹھنا لازمی ہے کہ اسکولوں میں تحفظ سے متعلق رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کیوں نہیں ہورہی ہے ؟ جب اسکولی بچوں کے ساتھ حادثات ہورہے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ تحفظ سے متعلق رہنمایانہ خطوط پر عمل نہیں ہورہا ہے ۔ اس کے لیے اسکول والے اور ایجنسیاں دونوں ہی ذمہ دار ہیں ۔ سرکاری اسکولوں میں تحفظ سے متعلق شکایت عام ہے لیکن خانگی اسکولوں کی حالت بھی کچھ الگ نہیںہے ۔ منافع کمانے کی چاہت میں خانگی اسکولوں میں تحفظ کے مسئلہ کو نظر انداز کرنا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔ سی سی ٹی وی ، بچوں کے تحفظ سے متعلق ملازمین ، سبھی ملازمین کی پولیس جانچ اور بعض اوقات مقامی تھانوں سے اسکولوں کے تحفظ سے متعلق توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ایسے حالات میں سرکاری ہی نہیں ، خانگی اسکول بھی چاہے انہیں اقلیتی اسکول کا ہی درجہ کیوں نہ حاصل ہو ۔ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری سے سرکار بچ نہیں سکتی ۔ اسکولی بچوں کے تحفط کا تعلق صرف اسکولوں کی چہار دیواری تک ہی محدود نہیں ہے ۔ اسکول کے احاطہ سے باہر بھی بچوں کے ساتھ حادثات ہوسکتے ہیں ۔ تعلیم سے متعلق انتظامات کی کمی یا پھر مقامی طور پر معیاری اسکول نہ ہونے کے سبب بچوں کو لمبی دوری طئے کرنی پڑتی ہے ۔ اگر بچوں کو لے جانے والی گاڑی انہیں گھر سے کچھ دور چھوڑ دے ، تو بچوں کے سڑک عبور کرنے یا لاپتہ ہوجانے یا اغواء کا ڈر رہتا ہے ۔ اگر پڑوس میں معیاری تعلیم کے اسکول دستیاب ہوجائیں یا پھر پڑوس کے بچوں کو اسکولوں میں داخلے سے انکار نہ کیا جائے تو ان مسائل سے بچا جاسکتا ہے ۔ لیکن ایسا نہ ہونے کے پس پردہ دو اسباب ہیں ایک تو کوٹھاری کمیشن کی رپورٹ کے 50 سال گذرجانے کے بعد بھی حکومت تعلیم پر جملہ جی ڈی پی کا چھ فیصد بھی خرچ نہیں کرتی ۔ اگر سرکاری اسکول تعداد اور معیار کے اعتبار سے بہتر ہوتے تو تحفظ کے مسائل بھی کم ہوجاتے کیوں کہ قریب میں اچھے اسکول مل جاتے ۔ سرکاری اسکولوں کی جگہ تیزی سے بڑھنے والے خانگی اسکولوں کا مقصد منافع کمانا ہوتا ہے دور دور سے گاڑیوں میں بھر کر بچوں کو اسکول تک لانا اس پیشہ کا حصہ بن گیا ہے ۔ سلم اور غریب بستیوں میں اچھے اسکولوں کی کمی کے سبب اسے مزید بڑھاوا ملتا ہے ۔ اگر غریب بستیوں میں ایسے اسکول کھل بھی جائیں تو کوئی گارنٹی نہیں کہ سماجی اور اقتصادی طور پر بالکل کمزور طبقہ کے طلبہ کو وہاں آسانی سے داخلہ مل جائے ۔ حالانکہ تعلیم کا حق قانون ایسے طبقوں کے لیے 25 فیصد نشستوں کے تحفظ کا حق دیتا ہے ۔ مگر یہ اصول و قانون اقلیتی اسکولوں کا درجہ رکھنے والے اسکولوں پر لاگو نہیں ہوگا ۔ 1991 ء میں آئی نئی پالیسی کے پہلے تک اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کو لے کر اتنی زیادہ فکر مندی دیکھی نہیں جاتی تھی ۔ لیکن آج کے دور میں جب تعلیم کو سیوا ( خدمات ) کے روپ میں دیکھا جاتا ہے تب سے خانگی اسکولوں کا سیلاب سا آگیا ہے ۔ چھوٹے قصبوں تک میں بھی خانگی اسکول کھلنے لگے ہیں ۔ اسکولوں کا ڈھانچہ بڑے بڑے ہوٹلوں کی طرح بننے لگا ۔ ایسے میں اسکولوں میں حادثات کا بڑھنا ممکن ہے ۔ چاہے وہ سوئمنگ پول سے ہو یا بجلی سے ۔۔

TOPPOPULARRECENT