Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکول فیس میںا ضافہ ‘وزیر اعظم و چیف منسٹر کو پوسٹ کارڈ ز کی روانگی

اسکول فیس میںا ضافہ ‘وزیر اعظم و چیف منسٹر کو پوسٹ کارڈ ز کی روانگی

ہزاروں اولیائے طلبا و سرپرستوں کی مہم میں شمولیت ۔ تعلیم کو تجارت بننے سے روکنے پر زور
حیدرآباد۔24اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسکول فیس میں ہونے والے بے تحاشہ اضافہ کے خلاف دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کی جانب سے وزیر اعظم اور چیف منسٹر تلنگانہ کو پوسٹ کارڈ روانہ کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے اور اس مہم میں ہزاروں اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے حصہ لیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسکولی تعلیم کو تجارت بننے نہ دیا جائے کیونکہ ہر سال اسکول انتظامیہ کی جانب سے 15تا20فیصد فیس میںاضافہ کیا جا رہا ہے جو کہ نا قابل برداشت ہے۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں چلائے جانے والے سرکردہ اسکولوں میں معمول سے بڑھ کر فیس میں اضٓفہ کے باوجود ان کے خلاف کاروائی نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان اسکولوں کو ریاستی حکومت یا سرکاری عہدیداروں کی تائید حاصل ہے۔خانگی اسکولوں کی فیس میں اضافہ پر فوری روک لگاتے ہوئے ریاست کے خانگی اسکولوں ‘ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کے ہمراہ اجلاس منعقد کرنے کے بعد ہی اس بات کا قطعی فیصلہ کیا جائے کہ آیا اسکولوں کی فیس میں اضافہ کیا جانا چاہئے یا نہیں۔محکمہ تعلیم سے کی گئی متعدد شکایات کے باوجود فیس میں اضافہ کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار نہ کئے جانے پر برہم اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے چیف منسٹر اور وزیر اعظم کو پوسٹ کارڈ روانہ کرتے ہوئے خانگی اسکولو ںکو تجارتی مراکز میں تبدیل ہونے سے بچانے کے اقدامات کے لئے مہم کا آغاز کیا ہے ۔ حیدرآباد کی ضلعی تنظیم کے ذمہ دارو ںکا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے واضح احکامات کے باوجود عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے سبب خانگی اسکول انتظامیہ من مانی کرنے لگے ہیں۔ جی پی او سے سینکڑوں اولیائے طلبہ و سرپرستوں کے علاوہ بچوں نے چیف منسٹر تلنگانہ اور وزیر اعظم ہند کو پوسٹ کارڈ روانہ کئے اور بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے دیگر اضلاع سے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوبات روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اوراس سلسلہ میں شعور بیداری مہم چلاتے ہوئے خانگی اسکول انتظامیہ کی جانب سے جاری من مانی پر روک لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ والدین اور سرپرستوں نے کہا کہ ان کی یہ مہم ان اسکولوں کے خلاف ہے جو تجارتی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد صرف دولت کا بٹورنا ہے۔ کارپوریٹ اسکولوں میں اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کے مطالبات پر مذاکرات کیلئے ذمہ داروں کی عدم موجودگی اور بیشتر اسکولوں میںعملہ سے مذاکرات کا مشورہ دیئے جانے کے سبب بھی انتظامیہ اور سرپرستوں کے درمیان خلیج میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

TOPPOPULARRECENT