Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / اسکول فیس میں اضافہ کو التواء رکھنے حکومت کے احکامات

اسکول فیس میں اضافہ کو التواء رکھنے حکومت کے احکامات

احکامات خانگی و کارپوریٹ اسکولس کو وصول نہیں ہوئی، اسکول انتظامیہ کی عدالت سے رجوع ہونے کی تیاری
حیدرآباد۔7جنوری(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے اسکول فیس میں اضافہ کو زیر التواء رکھنے کے احکامات کے متعلق سرکردہ خانگی وکارپوریٹ اسکولوں کو موصول نہیں ہوئے!حکومت تلنگانہ کے محکمہ تعلیم کی جانب سے 4جنوری کو احکامات جاری کئے جاچکے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اسکول میں داخلوں کے عمل کو مکمل کریں لیکن فیس سال گذشتہ کے مطابق ہی وصول کی جائے اس کے باوجود بیشتر تمام اسکولو ں میں 10تا15 فیصد اضافی فیس وصول کی جانے لگی ہے اور جب ان سے فیس میں اضافہ پر حکومت کے حکم التواء کے متعلق کہا جا رہاہے تو یہ جواب دیا جانے لگا ہے کہ انہیں تاحال اس سلسلہ میں کوئی احکام محکمہ تعلیم کی جانب سے موصول نہیں ہوئے ہیں ۔حکومت کی جانب سے جی او کی اجرائی کے فوری بعد یہ اطلاع اور جی او میں دی گئی تمام تفصیلات بشمول جی او کی نقولات ذرائع ابلاغ کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہر کسی تک پہنچ چکی ہے لیکن اس کے باوجود اسکول انتظامیہ کا یہ کہنا قانونی جواز پیدا کرنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ اسکول انتظامیہ چند طلبہ کو اضافی فیس پر داخلہ فراہم کرتے ہوئے عدالت سے رجوع ہونے کی تیاری کر رہے ہیںحکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر حکم التواء حاصل کیا جاسکے اور اس کے لئے داخلہ دیئے گئے طلبہ کے ریکارڈ س کو بنیاد بنایاجائے۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے داخلوں کے عمل پر عائد پابندی کے باوجود اسکول انتظامیہ کی جانب سے خفیہ طور پر 80 فیصد داخلے کرلئے گئے ہیں اور اب تمام جماعتوں کی فیس میں اضافہ کے سلسلہ میں اقدامات بھی کئے جانے لگے ہیں۔شہر کے بعض سرکردہ اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس بات سے مطلع بھی جارہا ہے ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے دوران فیس میں 10تا15 فیصد کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کی جانب سے خانگی و کارپوریٹ اسکول انتظامیہ کے اس رویہ کو ہٹ دھرمی قرار دیا جارہاہے اور کہا جار ہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسکول انتظامیہ باغیانہ تیور اختیار کرنے لگے ہیں۔حکومت کی خاموشی اسکولوں کو استحصال کا لائسنس فراہم کرنے کے مترادف تصور کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT