Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / اسکول کو نذرآتش کرنے پر شرپسندوں کی گرفتاری

اسکول کو نذرآتش کرنے پر شرپسندوں کی گرفتاری

بہت جلد کشمیر کے حالات خوشگوار۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی کا ادعا

جموں، 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشیدگی کی شکار وادی کشمیر کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایک اچھی خبر ملے گی۔انہوں نے وادی میں اسکولوں کا پراسرار طور پر نذر آتش ہونے کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں ملوث کئی ایک شرپسندوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے ۔محترمہ مفتی نے وادی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس اُن سے اچھی طرح سے نمٹ رہے ہیں۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر جاری کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کا کوئی راستہ نکالا جانا چاہیے ۔محبوبہ مفتی پیر کو یہاں سول سکریٹریٹ میں دربار مو دفاتر کھلنے کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کررہی تھیں۔وزیر اعلیٰ نے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے فارمولے پر گامزن ہونا ہوگا۔انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں ایک اچھی خبر ملے گی۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ وادی میں گذشتہ 122 دنوں کے دوران کم از کم 90 عام شہری ہلاک جبکہ 15 ہزار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔وادی میں جاری احتجاجی تحریک کی قیادت کررہے علیحدگی پسند رہنماؤں نے آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے جملہ اسٹیک ہولڈرس کا اجلاس منگل کو مدعو کیا ہے جس میں امکانی طور پر جاری ہڑتال پر بات چیت ہوگی۔محترمہ مفتی نے وادی میں اسکولوں کا پراسرار طور پر نذر آتش ہونے کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں ملوث کئی ایک شرپسندوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے ۔انہوں نے کہا ‘کئی ایک اسکول نذر آتش کئے جاچکے ہیں۔ یہ بہت ہی افسوس ناک صورتحال ہے جس کو گذشتہ تین ماہ سے زائد عرصہ کے دوران پیدا کیا گیا۔ اس کے دوران کاروبار تھوڑا بہت چلتا رہا۔دکانیں کھلی رہیں۔ باقی کاروبار بھی چلتا رہا۔ اس کشیدگی کا سب سے بڑا خمیازہ اسکولوں اور تعلیم کو بھگتنا پڑا۔اس صورتحال کے باعث کشمیر سے کئی بچے جموں پڑھائی کے لئے آئے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے کچھ اسکول بھی جل گئے ہیں۔اسکول جلانے میں ملوث کچھ شرپسندوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے ایک ہفتے میں ہمیں ایک اچھی خبر ملے گی’۔محترمہ مفتی نے وادی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس اُن سے اچھی طرح سے نمٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا ‘عسکریت پسندی ہمیشہ سے ہی تشویش کا باعث رہی ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ جو مقامی جنگجوہیں بالخصوص جنہوں نے حالیہ ایام میں جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ، کو اپنے گھروں کو واپس لایا جائے ۔پچھلے 25 برسوں سے ہمارے فورسز اور پولیس نے عسکریت پسندی کو ڈیل کیا ہے ۔ اور مجھے امید ہے کہ وہ صورتحال سے بہ آسانی نمٹیں گے ‘۔وزیر اعلیٰ سرحدوں پر جاری کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کا کوئی راستہ نکالا جانا چاہیے ۔محترمہ مفتی نے وادی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس اُن سے اچھی طرح سے نمٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا ‘عسکریت پسندی ہمیشہ سے ہی تشویش کا باعث رہی ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ جو مقامی جنگجوہیں بالخصوص جنہوں نے حالیہ ایام میں جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ، کو اپنے گھروں کو واپس لایا جائے ۔پچھلے 25 برسوں سے ہمارے فورسز اور پولیس نے عسکریت پسندی کو ڈیل کیا ہے ۔ اور مجھے امید ہے کہ وہ صورتحال سے بہ آسانی نمٹیں گے ‘۔وزیر اعلیٰ سرحدوں پر جاری کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کا کوئی راستہ نکالا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا ‘سرحدوں پر گذشتہ ایک ماہ سے فائرنگ ہورہی ہے ۔ ہم یہ گذشتہ 70 سال سے برداشت کررہے ہیں۔ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے ۔
اسکول بند ہوجاتے ہیں جس کے باعث بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ واجپئی جی کے فارمولے کے بغیر اس کا کوئی حل نہیں ہے ۔ آپ اپنے دوست بدل سکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں۔ ہمیں کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے ۔مجھے امید ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا یہ سلسلہ جلد بند ہوگا اور جو واجپئی جی نے شروعات کی تھی جنگ بندی کی وہ دوبارہ بحال ہوگی’۔مسائل کے حل کے لئے سابق وزیر اعظم واجپئی کے فارمولے پر گامزن ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے محترمہ مفتی نے کہا ‘میرا ماننا ہے کہ جس طرح واجپئی جی نے اُس وقت بہت ہی جرامندانہ قدم اٹھایا اور کرگل جنگ کے باوجود آگرہ سمٹ میں شرکت کے لئے مشرف کو بلایا۔اس کے بعد پارلیمنٹ کا واقعہ ہوا ، لیکن واجپئی جی لاہور گئے ۔ مودی جی نے نواز شریف کو مدعو کیا۔ اس کے بعد وہ لاہور چلے گئے ۔ واجپئی جی جب لاہور گئے تو یہ عہد ہوا کہ پاکستان کی سرزمین ہندوستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان نے اس پر عمل بھی کیا۔ 2008 تک جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی۔بدقسمتی سے مودی جی کے لاہور جانے کے بعد وہاں سے وہ پہلا والا ردعمل نہیں ملا۔ میں امید اور دعا کرتی ہوں کہ پاکستان اس بات کو سمجھے گا کہ ہمیں اکٹھا رہنا ہے ۔ فائرنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا’۔دریں اثنا جموں وکشمیر میں دربار مو کی ڈیڑھ صدی پرانی روایت کے تحت گرمیوں کے چھ ماہ سری نگر میں رہنے کے بعد تمام دربار مو دفاتر بشمول گورنر، وزیر اعلیٰ اور کابینی وزراء کے دفاتر پیر کو یہاں کڑے سیکورٹی حصار میں کھل گئے ۔یہ دفاتر سری نگر میں 27 اکتوبر کو بند ہوئے تھے ۔ سول سکریٹریٹ پہنچنے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو جموں وکشمیر پولیس کے ایک دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ گارڈ آف آنر کے بعد محبوبہ مفتی نے کئی محکموں کا معائنہ بھی کیا۔

TOPPOPULARRECENT