اسکول کے بعد ‘ کشمیر سے نقل مقام کرنے والے سالوں بعد ان لائن پہل کے بعد ملے دوبارہ

Courtesy Indian Express

جہاں پر تلاش جاری ہے وہیں بہت سارے دوستوں ‘ پڑوسیوں‘ اسٹوڈنٹس ‘ ٹیچرس‘ کو پچھلے دوماہ میں رابطہ نے دوبارہ ملانے کاکام کیاہے۔
فبروری میںآشیامہ کاؤل نے اپنے ایک دوست اور پڑوسی بارمولہ کے رہنے والے عباس کی تلاش میں ایک پیغام بھیجا تھا۔سال2014میں میں جابیر احمد نے اورکٹ پر ایک پیغام چھوڑ ا تھا کہ وہ اپنے دوست سمیردھار کے متلاشی ہیں۔کچھ لوگ اور بہتر ساری تبصرے کے بعد دونوں رابطے میں ائے۔

جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں پرائمری اسکول میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے بچپن کے دوست ایک گھنٹے کے اندر جنوبی دہلی میں ایک دوسرے سے ملاقات کی۔ جابیر دہلی میں تھے جبکہ سمیرگرگاؤں’’ اسی روز وہ دوڑا چلاآیا اور مجھ سے ملاقات کی‘‘۔پچھلے تیرہ سالوں سے قبل جابیر نے مختلف ان لائن پلیٹ فارمس پر رابطہ کی پہلی کی تاکہ کشمیر ی مسلمانوں اور پنڈتوں جو کسی وقت ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے ۔

کشمیرسے 1990کے دہے میں پنڈتوں کے نقل مقام کرنے کے بعد ‘ کیونکہ مذکورہ خاندان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کررہے تھے ‘ اسی وجہہ سے قدیم پڑوسیوں سے رابطہ ان کے لئے اہمیت نہیں رکھتاتھا۔سمیر نے دوبارہ ملاقات کا تذکرہ کچھ اس طرح کیاکہ ’’ میں نے اس کو پہلی نظر میں پہچان لیا اور ہم نے دوسرے سے گلے ملے اور پہلے پندرہ منٹ تک خاموش رہے ۔میں اسلامیہ حنفیا اسکول کا ان ایک یا دو ہندو طلبہ میں شامل تھے اور ہماری دوستی ایک عظیم یادگارتھی۔ہم 1989کے بعد سے ایک دوسرے کو نہیں ملے تھے اور ایک دوسرے کو دیکھنا ہمارے لئے ایک خواب تھا‘‘۔

اس کے گھر والے دہلی منتقل ہوگئے والد ڈاکٹر تھے او روہ اپنے دوستوں او ررشتوں کی مددسے کلینک شروع کرلیا۔دوستوں کے ساتھ اننت ناگ میں گذرے وہ پہلے جہاں پر مذہب کسی بھی زندگی کا حصہ او رکاوٹ نہیں تھا‘سمیر نے کہاکہ وہ اسکول کے لئے 21کیلومیٹر کا فاصلہ طئے کرنے کے لئے بس میں سفر کرتا ‘ جابیر علی گڑہ چلا گیاتاکہ وہ اپنی اعلی تعلیم پوری کرسکے اور اسی کے ساتھ دہلی میں اس نے ایڈورٹائزنگ شعبہ میں کام کرنا بھی شروع کردیا

۔جاریہ نئے سال کی رات کو 43جابیر جو گرگاؤں میں جیمس والٹر تھماپسن کی نائب صد ر ایکزیکیٹو بزنس ڈائرکٹر ہے نے متن میں اپنی پڑ دادی سے بات کرتے ہوئے بیٹھ گئے‘ جو ان کے بچپن کی باتیں یاد کررہی تھیں۔’’ انہوں نے دینانتھ انکل کا ذکر کیا ‘ جبکہ وہ کسی اہم دن یا تقریب میں نہیں تھی۔ وہ ان کے بیٹے سے زیادہ تھے‘ حالانکہ وہ ان کے پڑوسی تھے‘‘۔ دینانتھ کے کشمیرچھوڑ کر جانے کے تین سال بعد انہوں نے جابیر کی دادی کو ایک لیٹر لکھا جس میں انہوں نے کہاکہ ’’ آپ اپنے بیٹے کو بھول گئیں‘‘۔

وہ لیٹر آج بھی ان کے کلیجے سے لگا ہوا ہے۔جابیر نے کہاکہ ’’ میں نے محسوس کیاہے کہ بہت سارے لوگ اسی احساس کے ساتھ ہیں کہ وہ اپنے قدیم دوستوں اور پڑوسیوں سے ملاقات کریں گے ۔ انہیں اپنی اس دوستی کے نقصان کا شدید احساس ہے‘‘۔رابطہ کا نظریہ بات چیت پر منحصر ہے۔ وہ فیس بک پر ایک پوسٹ چھوڑ کر کہتا ہے کہ اگر کوئی جانتے ہیں کہ دیناناتھ کون تھے اور ان کو کس طرح تلاش کیاجاسکتا ہے۔جہاں پر تلاش جاری ہے وہیں بہت سارے دوستوں ‘ پڑوسیوں‘ اسٹوڈنٹس ‘ ٹیچرس‘ کو پچھلے دوماہ میں رابطہ نے دوبارہ ملانے کاکام کیاہے۔

فبروری میںآشیامہ کاؤل نے اپنے ایک دوست اور پڑوسی بارمولہ کے رہنے والے عباس کی تلاش میں ایک پیغام بھیجا تھا۔کسی نے کہاکہ وہ ایک وکیل ہیں اور وہاں پر نمبر چھوڑ دیا۔پھر دونوں کی ملاقات سے قبل آشیما نے بہت ساری جانکاری حاصل کی اور تصویر دیکھ کر کہاکہ آج بھی عباس اسی طرح کا لگ رہا ہے جیسا وہ زمانے قبل تھا۔ اس پہل کی وجہہ سے سری نگر نژاد کارٹونسٹ سہیل نقشبندی کی ملاقات اس کے پرائمری ٹیچر منجو میم سے ہوئی۔

سہیل کاکہنا ہے ’’ میں ریاضی میں کمزور تھا ‘ جہاں پر دوسرے ٹیچرس میرے والدین کو مجھے اسکول سے نکال کر لے جانے کے لئے کہتے تھے وہیں منجو میم نہایت رحم دل تھیں۔ انہوں نے میرا حوصلہ بڑھانے میں مدد کی اور اسکول کی راہ میں حائل رکاٹوں سے مقابلہ کرنا سیکھایا‘‘۔پھر اخراج کا معاملہ آیا اور سہیل نے اپنی ٹیچر کھودی’’ انہوں نے میری زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔ میرے والدین انہیں میری مدد کرنے پر روز ڈھیر ساری دعائیں بھیجتے تھے‘‘۔

سہیل نے رابطہ کے متعلق سنا ‘ او رایک ماہ بعد اس نے منجو موجو کی جانکاری کے متعلق ایک پوسٹ ڈالا۔منجو کے بھائی نے وہ پوسٹ دیکھا اور سہیل کوان کا نمبر دیا۔سہیل نے بتایاکہ ’’ اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ بنگلور میں رہ رہی ہیں۔ میں نے کچھ وقت انتظار کیااور دو ہفتوں بعد ‘ میں نے ان سے ویڈیو کال پر بات کی ‘ وہ مغلوب ہوگئی‘‘۔

و ہ لوگ ووڈ لاینڈ ہاوز اسکولس کی بات کی جہاں پر منجو سہیل کوپڑھاتی تھیں ‘ اس کے گھر والوں کے متعلق اپنے گھر والوں کے متعلق بات کی ۔ حال ہی میں سہیل کی والدہ کاانتقال ہوگیاتھا اور پچھلے سال والد فوت ہوگئی۔

منجو نے سہیل سے کہاکہ ’’ جب کبھی تمھیں ما ں کی یاد ائے تو مجھے فون کرلینا‘‘۔رابطہ کا فیس بک وال او رٹوئٹر ٹائم لائن پیغامات سے لبریز ہے جو تریتھا گوش کی ایجاد ہے تاکہ لوگوں ایک دوسرے حسب ضرورت ربط قائم کریں اور اپنی یادوں کو بحال کرسکیں‘ تاکہ قدیم رشتوں اور ماضی کی یادوں کا احیاء عمل میں لاسکیں۔

TOPPOPULARRECENT