Tuesday , December 11 2018

اسیر جمال مصطفی حضرت انس رضی اﷲ عنہ

ابو اُسید سید زبیر ہاشمی، مدرس جامعہ نظامیہ

ابو اُسید سید زبیر ہاشمی، مدرس جامعہ نظامیہ

اﷲ رب العزت نے امت محمدی صلی اﷲ علیہ وسلم کو خیر امت بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے جس کا ذکر قرآن مجید کے پارئہ چار کے تیسرے رکوع میں کچھ اس طرح آرہا ہے ’’تم ایک بہترین امت ہو ، نیکی کا حکم دیتے ہو ، برائیوں سے روکتے ہو، اور اﷲ سبحانہ وتعالیٰ پر ایمان لاتے ہو‘‘۔ {سورۂ نساء آیت ۱۱۰} امت محمدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم کا حقیقی مقصد اﷲ رب العزت کو راضی کرناہے، اس کے بعد حضرت محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنا ہے، مذکورہ دنوں چیزوں کے لئے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اصحاب رسول اﷲ علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ تاکہ فلاح و کامرانی ان کے نصیب ہوجائے۔ اگر یہ چیزیں چھوڑ دیں گے تو ناکامی و بدنصیبی ہی ہاتھ لگے گی۔صحابہ میں ہر ایک کا مقام و مرتبہ اپنے اپنے اعتبار سے ایک منفرد و اعلیٰ ہے۔ تاقیام قیامت کوئی بھی شخص کتنے ہی اچھے اعمال و افعال کو اختیار کرلے اگر چہ وہ شخص اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا محبوب و مقرب بن سکتا ہے، اونچا مقام حاصل کرسکتا ہے، ولایت کے درجہ کو پہنچ سکتا ہے، بزرگ بن سکتا ہے، مگر اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود وہ شخص ایک ادنیٰ سے صحابی کے مقام و مرتبہ تک ہر گز نہیں پہنچ سکتا۔ ایسے صحابہ جن کی تعداد بے حساب ہے اور ان کی حیات و خدمات جو خالق حقیقی اور ذات مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کو راضی کرنے کے لئے گزارے ہیں، اس کو مکمل طریقہ سے کوئی بھی انسان نہیں بتاسکتا، کیونکہ یہ ناممکن کام ہے، مگر ہر مؤرخ صحیح اپنی اپنی بساط و وسعت کے مطابق جو کچھ لکھے ہیں یقینا وہ ہمارے لئے بہت ہے۔ چنانچہ ایسے صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے ایک مشہور صحابی حضرت انس رضی اﷲ عنہ ہیں جن کے متعلق بے حساب فضائل و کمالات بیان کیئے ہیں مگر یہاں اختصار کے ساتھ لکھا جارہا ہے۔ ملاحظہ ہو:

حضرت سیدنا انس رضی اﷲ عنہ اسیران جمال محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم کی پہلی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ جب آنکھ کھولے تو گھر کی فضا، مہک کو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ اور رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کے خوبصورت ذکر و اذکار سے معمور پایا، گھر کا ایک ایک فردحضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کا جاں نثار اور شیدائی تھا۔ محبت رسول علیہ السلام انہیں ترکہ میں ملی تھی، تقریبا دس سال تک آقائے دوجہاں صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت پر بھی مامور رہے۔
رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کے کردار و سیرت سے اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیشہ، ہر لحظہ محبت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم میں بڑے مسرور اور مگن رہتے۔ جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ’’حضرت انس رضی اﷲ عنہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان فرمارہے تھے، حضور نبی محتشم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوبصورتی کا مبارک تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمانے لگے:

’’اور میں نے آج تک کسی دیبا اور ریشم کو نہیں چھویا جو رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہتھیلی مبارک سے زیادہ نرم ہو اور نہ کہیں ایسی خوشبو سونگھی جو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسم پاک کی خوشبو سے بڑھ کر ہو‘‘۔ {بخاری شریف} {از : اسیران جمال مصطفی}
جب نبی مکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال {ظاہری اعتبار سے} ہوا تو دیگر صحابہ عظام کی طرح حضرت انس رضی اﷲ عنہ پر بھی قیامت ٹوٹ پڑی۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم جیسے مشفق، رحیم اور بہترین ذات کا ایک ایک لحظہ کے لئے آنکھوں سے دور ہوجانا بڑا مشکل سا نظر آتا تھا، حضرت محمد عربی علیہ السلام کی یاد میں آنکھوں سے آنسو رواں دواں رہتے۔ جب کبھی ایسے مغموم وقت کے موقع پر تبرکات و اٰثار مصطفی علیہ السلام کی زیارت کرتے تو قلب کو بڑا سکون میسر ہوجاتا۔ چنانچہ آقائے دوجہاں حضور علیہ التحیۃ والثناء کے ذکر کی محفلیں منعقد کرتے، سجاتے۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھی تڑپتے اور دوسروں کو بھی تڑپاتے۔
اسیر جمال مصطفی حضرت انس رضی اﷲ عنہ کو اکثر رؤیا{خواب} میں آقائے دوجہاں حضور علیہ التحیۃ والثناء کی زیارت نصیب ہوتی۔ مثنی بن سعید روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اﷲ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’’{ظاہری وصال مصطفی علیہ السلام کے بعد} کوئی ایک رات بھی ایسی نہیں گذری کہ جس میں، میں اپنے حبیب مکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرتا ہوں۔ یہ کہ کر حضرت انس رضی اﷲ عنہ بے حساب، زار و قطار رونے لگے‘‘۔ {ابن سعد}

مذکورہ تمام باتوں سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت انس رضی اﷲ عنہ ایک جلیل القدر صحابی رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں جن کی ذات مقدسہ عظمت، فضیلت، اہمیت، افادیت اور بے پناہ مقبولیت کے حامل ہیں۔ تمام امت محمدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین کی مبارک زندگیوں کا مطالعہ کرتے رہیں تاکہ اس سے ہماری زندگیوں میں انقلاب پیدا ہوجائے۔ اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جو کوئی شخص اﷲ رب العزت اور رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم سے جتنا لگاؤ و جستجو رکھے گا اتنا ہی کامیابی و سرفرازی کا بڑا بہترین موقع ملیگا۔ اور یہ اُسوقت ممکن ہے جبکہ ہم سب صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلتے رہیں۔
اﷲ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم تمام کو راہِ ہدایت پر قائم و دائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
[email protected]

TOPPOPULARRECENT