Thursday , December 13 2018

اس سال موسم گرما شدید ہونے کا امکان

حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : شہرحیدرآباد میں موسم سرما کے دوران شدید سردی کو برداشت کرنے کے بعد اب شہریان حیدرآباد کو موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی شدید ترین گرمیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ماہرین موسمیات کے بموجب حیدرآباد میں شروع ہوئے موسم گرما کی تمازت جب انتہاء کو پہنچے گی تو جو صورتحال پیدا ہوگی وہ دو نسلوں کے لیے با

حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : شہرحیدرآباد میں موسم سرما کے دوران شدید سردی کو برداشت کرنے کے بعد اب شہریان حیدرآباد کو موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی شدید ترین گرمیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ماہرین موسمیات کے بموجب حیدرآباد میں شروع ہوئے موسم گرما کی تمازت جب انتہاء کو پہنچے گی تو جو صورتحال پیدا ہوگی وہ دو نسلوں کے لیے بالکل پہلی مرتبہ ہوگی چونکہ موسم گرما کے دوران دھوپ کی شدت عروج پر ہونے کا خدشہ ہے اور کہا جارہا ہے کہ حیدرآباد کے عوام اس سال 70 سال بعد گرمی کی ایسی شدت محسوس کریں گے جو کہ 70 برس قبل ہوئی تھی ۔ ماہ فروری کے وسط سے ہی ریاست کے بیشتر علاقوں بالخصوص شہری علاقوں میں گرمی محسوس کی جانے لگی ہے اور موسم گرما کے ابتداء میں ہی درجہ حرارت 32 تا 34 ڈگری سلسیس تک پہنچ چکا ہے اور امکان ہے کہ آواخر فروری میں ہی درجہ حرارت 38 تک پہنچ جائے گا ۔ محکمہ موسمیات کے بموجب ماہ مارچ کے وسط میں بھی گرمی کی شدت میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے اور اس شدت کی برقراری کافی دنوں تک رہنے کا خدشہ ہے ۔ شہری علاقوں میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے موسم گرما کے دوران 4 گھنٹے برقی کٹوتی کا فیصلہ بھی شہریوں کو مزید مشکلات میں مبتلا کرسکتا ہے چونکہ شدید گرمی اور اس پر برقی سربراہی نہ ہونے کے باعث حالات اور ابتر ہوسکتے ہیں ۔ ذرائع کے بموجب 1940 میں شہر حیدرآباد نے جو شدت کی گرمی کا سامنا کیا تھا وہی شدت 2015 کے موسم گرما کے دوران بھی ہوسکتی ہے ۔ عموما ماہ مارچ کے وسط میں شہر کا درجہ حرارت 36 تا 38 ڈگری پر پہنچتا ہے لیکن اس مرتبہ فروری کے اواخر میں ہی گرمی کی شدت اور دھوپ کی تمازت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا ۔ محکمہ موسمیات کے بموجب فروری میں عموما درجہ حرارت 34 ڈگری سے تجاویز نہیں کرتا لیکن اس سال حالات یکسر تبدیل نظر آرہے ہیں اور گزشتہ 5 یوم کے دوران درجہ حرارت میں 5 تا 6 ڈگری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ آئندہ دنوں میں بھی تیزی سے اضافہ کی پیش قیاسی کے مترادف ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ماہ فروری میں گذشتہ 70 برسوں کے دوران سب سے زیادہ درجہ حرارت سال 2009 میں 29 فروری کو ریکارڈ کیا گیا تھا اور درجہ حرارت 39.1 تک پہنچ چکا تھا ۔ ماہرین موسمیات و ماحولیات کے بموجب شہری علاقوں میں آلودگی بالخصوص فضائی آلودگی میں ہونے والے اضافہ اور شجرکاری میں ہورہی تخفیف کے سبب گرمی کی شدت ہر سال بڑھتی جارہی ہے اسی طرح شہر تیزی سے کنکریٹ کے جنگلوں میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے نواحی علاقوں میں بھی جو ٹھنڈک ہوا کرتی تھی وہ باقی نہیں رہ پا رہی ہے ۔ ایر کنڈیشنس کے استعمال میں ہورہے بتدریج اضافہ کے سبب بھی گرمی میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے چونکہ ایرکنڈیشنس کمروں ، گھروں اور دفاتر کے اندرونی حصوں کو ٹھنڈا رکھتے ہیں لیکن باہر کے ماحول میں گرمی پیدا کرتے ہیں اور یہ گرمی دھوپ کی تمازت اور فضا میں ملنے کے بعد گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT