Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / اس مرتبہ گجرات میں بے اثر سیاسی پارٹیوں نے کھیل بگاڑا

اس مرتبہ گجرات میں بے اثر سیاسی پارٹیوں نے کھیل بگاڑا

5.5 لاکھ نوٹا اور 12 لاکھ آزاد امیدواروں کو ووٹ ملے
حیدرآباد۔19ڈسمبر(سیاست نیوز) انتخابی نتائج پارٹی کارکنوں میں حوصلہ ‘ مایوسی یا خوشی کے جذبات پیدا کرتے ہیں لیکن گجرات انتخابات کے نتائج کے بعد گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کارکنوں میں وہ جوش اور جذبہ نظر نہیں آیا جو پارٹی کی کامیابی پر ہوتا ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی نے بنیادی سطح پر فوری کام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست گجرات کی مجموعی ترقی کے منصوبہ کو روشناس کرواتے ہوئے عوام کو قریب کیا جائے اور پارٹی کو مستحکم کیا جائے۔ کانگریس کو حاصل ہونے والی کامیابی اور گجرات کے عوامی اعتماد نے کانگریس میں نیا حوصلہ پیدا کیا ہے جو کہ کانگریس قائدین کیلئے 2019میں کافی سود مند ثابت ہو سکتا ہے ۔ گجرات انتخابات کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات انتخابات میں کامیابی کے حصول کیلئے اسمبلی انتخابات کے دوران کسی سیاسی جماعت کو استعمال نہیں کیا بلکہ آزاد امیدواروں کے ذریعہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کی راہیں ہموار کی اور اس میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے بھی ان انتخابات میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے تھے جس کے سبب بعض مقامات پر کانگریس کو نقصان اٹھانا پڑا۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ایسی صورت میں اگر تمام مقامات پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہورہا ہوتا تو بھارتیہ جنتا پارٹی گجرات میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اسے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑتا ۔گجرات میں ہوئی جملہ رائے دہی میں ووٹ کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کے بعد ریاست میں سب سے زیادہ ووٹ آزاد امیدواروں نے حاصل کئے ہیں ۔ مجموعی رائے دہی میں 49.1 فیصد ووٹ جو کہ 1کروڑ 47لاکھ 24ہزار 427 ہوتے ہیں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں گئے ہیں اور اس کے بعد کانگریس نے جملہ 41.4 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں جو کہ 1 کروڑ 24لاکھ 38ہزار 937 ہوتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر کسی نے اپنے ووٹ درج کروائے ہیں تو وہ آزاد امیدوار ہیں جنہوں نے 12لاکھ90ہزار278 ووٹ حاصل کئے ہیں جو 4.3فیصد حصہ ہے۔ اس کے علاوہ گجرات انتخابات میں NOTA کے حق میں بھی ووٹ کا استعمال بڑی تعداد میں کیا گیا ہے اور اس کا فیصد 1.8 رہا اور ان کی تعداد 5 لاکھ 51 ہزار615 رہی۔ اس کے علاوہ بہوجن سماج پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں تھے لیکن ان سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کوئی مہم نہیں چلائی بلکہ مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹ کے استعمال کی اپیل کرتے ہوئے خاموش رہے لیکن اس کے باوجود بھی انہیں کچھ ووٹ حاصل ہوئے جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی میں کلیدی کردار کے حامل رہے۔ووٹوں کی تقسیم کے سبب کانگریس کے امیداروں کو نقصان کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں اور ان کا مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے جائزہ لیا جا رہاہے کہا جارہا ہے کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی میں روایتی رائے دہندوں سے زیادہ اہم کردار ووٹوں کی تقسیم کا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی اسPost بات کا شدت سے احساس ہے کہ ریاست کے عوام نے پارٹی کو مسترد کردیا ہے لیکن وہ سیاسی چالبازیوں کے ذریعہ کامیاب ہوئی ہے۔عام آدمی پارٹی نے 29امیدوار میدان میں تھے جنہوں نے جملہ 29ہزار 517 ووٹ حاصل کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT