Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اشتعال انگیز تقاریر کا مقدمہ فرحت خان اور امجد اللہ خالد با عزت بری

اشتعال انگیز تقاریر کا مقدمہ فرحت خان اور امجد اللہ خالد با عزت بری

حیدرآباد 19 ڈسمبر (سیاست نیوز) نامپلی کریمنل کورٹ کے آٹھویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے آج صدر مجلس بچاؤ تحریک مجید اللہ خان فرحت اور سابق کارپوریٹر امجداللہ خان خالد کو اشتعال انگیز تقریر مقدمہ میں باعزت بری کردیا۔ 12 جون 2015 کو ایم بی ٹی نے پانچ مسلم زیردریافت قیدیوں وقاراحمد اور ساتھیوں کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کے خلاف چنچل گوڑہ جونیر کالج میں احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا تھا۔ جلسہ میں مہاراشٹرا سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی مہمان خصوصی تھے ۔ یہ احتجاجی جلسہ رات دیر گئے تک جاری تھا۔ جس کے نتیجہ میں پولیس رین بازار نے ابو عاصم اعظمی، ڈاکٹر قائم خاں مرحوم صدر ایم بی ٹی، مجید اللہ خاں فرحت اور امجداللہ خالد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153A (دونوںفرقوں کے درمیان منافرت ) اور 188 (سرکاری ملازم کو ڈیوٹی انجام دینے سے روکنا ) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ تحقیقات کے بعد چارج شیٹ داخل کرنے کے دوران پولیس نے ابو عاصم اعظمی اور ڈاکٹر قائم خاں مرحوم کا نام حذف کردیا تھا جبکہ دیگر کے خلاف میٹرو پولیٹن سیشن جج عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ شواہد کی عدم دستیابی اور استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہونے کے نتیجہ میں عدالت نے مجید اللہ خاں فرحت اور امجداللہ خان کو باعزت بری کردیا۔ عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایم بی ٹی قائدین نے ساؤتھ زون پولیس پر الزام عائد کیا کہ سیاسی دباؤ کے تحت فرضی مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ زہر افشانی کرنے والے راجہ سنگھ کے خلاف پولیس ساؤتھ زون کارروائی سے قاصر ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT