Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اشرار نے پولیس کی سرپرستی میں تباہی مچائی ، سیول لبرٹیز کمیٹی

اشرار نے پولیس کی سرپرستی میں تباہی مچائی ، سیول لبرٹیز کمیٹی

خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ ، متاثرین کیلئے قانونی مدد کا تیقن

خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ ، متاثرین کیلئے قانونی مدد کا تیقن

حیدرآباد /23 مئی ( سیاست نیوز ) پولیس اگر چاہے تو فسادات کو منٹوں میں دبا سکتی ہے اور اگر پولیس ہی اشرار کی پشت پناہی اور انہیں حوصلے دینے لگے تو پھر فساد بد سے بدترین صورتحال اختیار کرجاتا ہے ۔ کشن باغ فساد بھی پولیس کے ایسے ہی کردار کا نتیجہ ہے جہاں اشرار کو قانون کے رکھوالوں کی مکمل پشت پناہی حاصل رہی ۔ اس کی تفصیلات فساد کے متاثرین نے شہری حقوق کمیٹی ’ سیول لبرٹیز کمیٹی ( سی ایل سی ) کے دفتر جوکہ یہاں صبح سے شام تک متاثرین سے فرداً فرداً ملاقات کرکے انکے بیانات قلم بند کر رہے تھے ،انہیں بتایا ۔ سی ایل سی کی یہ جماعت جو کشن باغ متاثرین سے ملاقات کی ان میں تقریباً وکلاء موجود ہیں ۔ جن ارکان نے کشن باغ فساد متاثرین سے ملاقاتیں کی ان میں سی ایل سی کے ریاستی نائب صدر پروفیسر کشن جوائنٹ سکریٹری وی رگھوناتھ جوائنٹ سکریٹری وی نارائنین ، سٹی پریسیڈنٹ بی ایم راجو ، سٹی سکریٹری محمد اسماعیل ، قانون نمائندہ ترجنی، کمیٹی ارکان ایم سرینواس ، کرن سمپتھ سیتارام اور شمل راؤ شامل تھے ۔ سی ایل سی ارکان سے ملاقات کے دوران فساد میں بری طرح زخمی سید سکندر نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ پولیس کی سرپرستی میں اشرار نے گھر میں گھس کر ان پر تلواروں سے حملہ کیا اور وہ جب شدید زخمی ہوگئے تو پولیس والوں نے حملہ آوروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’ اب بس بہت ہوگیا ‘ سی ایل سی ارکان نے جب فرداً فرداً ملاقات کرکے کشن باغ فساد متاثرین کے بیانات قلم بند کئے تو متاثرین نے کہا کہ اشرار پولیس کی سرپرستی میں حملہ کر رہے تھے اور ہم احتجاج کیلئے باہر نکلے تو ہم پر پولیس نے راست فائرنگ کردی ۔ فساد میں ہلاک 3 افراد کے خاندانوں کو گولیوں ، زخمی ہونے والے 6 لوگوں ، تلواروں سے زحمی ہونے والے 4 افراد جن 9 گھروںکو نذر آتش کردیا گیا ۔

3 دکانوں کو لوٹا گیا اور کئی مکانات کے دروازے توڑ کر سامان کو نقصان پہونچایا گیا ۔ ان حالات کا سی ایل سی کے وفد نے جائزہ لیا ۔ فساد سے جو افراد خوف زدہ ہیں انہیں معمول پر لانے ان ارکان نے کونسلنگ بھی کی ۔ متاثرین سے ملاقات اور بیانات قلم بند کرنے کے بعد وفد نے میڈیا سے کہا کہ وہ اس معاملے کے بعد کمشنر پولیس بلکہ کلکٹر اور گورنر سے ملاقات کرینگے اور خاطی پولیس کے خلاف کارروائی پر زور دیں گے ۔ سی ایل سی نے پولیس کے خلاف 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مہلوکین کیلئے جو 6 لاکھ روپئے کا اعلان ہوا ہے اسے 10 لاکھ کرنے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپئے دلانے کے علاوہ متاثرین کے گھر کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت کا بھی مطالبہ کیا ۔ مطالبات کے علاوہ سی ایل سی نے متاثرین کیلئے قانونی لڑائی کے اپنے منصوبے کو بھی ظاہر کیا ہے اور کہ کہ قانونی طور پر ان متاثرین کیلئے ہر ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT