Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج سیول سپلائز آفس کا گھیراؤ، حکومت پر ڈی سدھیر ریڈی کی تنقید

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج سیول سپلائز آفس کا گھیراؤ، حکومت پر ڈی سدھیر ریڈی کی تنقید

حیدرآباد /26 اگست (سیاست نیوز) سابق رکن اسمبلی ڈی سدھیر ریڈی کی قیادت میں کانگریس کارکنوں نے سیول سپلائز آفس کا گھیراؤ کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف احتجاجی دھرنا منظم کیا اور قیمتوں پر کنٹرول کرنے میں ناکامی کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سدھیر ریڈی نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کا خواب دکھانے والے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پریشانیوں میں مبتلاء کرنے والی ریاست پیش کر رہے ہیں، کیونکہ گزشتہ کی بہ نسبت جاریہ سال اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نمک، دال، پیاز، شکر اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے غریب عوام پر زائد مالی بوجھ عائد ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 100 دن میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ کرنے والی بی جے پی اور ٹی آر ایس حکومتیں بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کرنے میں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے چیف منسٹر تلنگانہ سستی شہرت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اشیائے ضروری کی قیمتوں میں کمی لانے کی بجائے شراب کو عام اور سستی کرکے عوام کو نشہ کا عادی بنانا چاہتے ہیں،

جب کہ انتخابی مہم کے دوران کے سی آر نے قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لئے 500 کروڑ علحدہ بجٹ مختص کرنے کا وعد کیا تھا، لیکن اب وہ سارے وعدے فراموش کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وعدہ کے مطابق ٹی آر ایس حکومت بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت، ڈبل بیڈ روم کا فلیٹ اور دلتوں کو افراضی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ اسی طرح فیس باز ادائیگی کی عدم اجرائی سے طلبہ اور ان کے سرپرست پریشان ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاسٹل کے میس چارجس اور اسکالر شپس کی اجرائی کو حکومت نے روک رکھا ہے۔ انھوں نے ریاستی وزیر اکسائز پدما راؤ کی جانب سے عوام کو صحت مند رکھنے کے لئے سستی شراب عام کرنے کے ادعا کو مضحکہ خیز قرار دیا اور غریب عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لئے چیف منسٹر نے اب تک عہدہ داروں کے ساتھ ایک بھی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا، جب کہ سستی شراب کو عام کرنے کے لئے کئی اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔ انھوں نے اشیائے ضروریہ کی بلیک مارکٹنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT