Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / اصلاحات کے بغیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا جواز داؤ پر

اصلاحات کے بغیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا جواز داؤ پر

نیویارک 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اصلاحات کے بغیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ’’تاریخی غلطیوں کی مرتکب‘‘ قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے کہاکہ اقوام متحدہ کا جواز داؤ پر لگ جائے گا، اگر اِس کے انتہائی طاقتور شعبہ کو بین الاقوامی برادری کا نمائندہ نہ بنایا جائے۔ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے چوتھی عالمی کانفرنس برائے پارلیمانی اسپ

نیویارک 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اصلاحات کے بغیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ’’تاریخی غلطیوں کی مرتکب‘‘ قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے کہاکہ اقوام متحدہ کا جواز داؤ پر لگ جائے گا، اگر اِس کے انتہائی طاقتور شعبہ کو بین الاقوامی برادری کا نمائندہ نہ بنایا جائے۔ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے چوتھی عالمی کانفرنس برائے پارلیمانی اسپیکرس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ تیاری کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس ’’عالمی امن اور جمہوریت‘‘ کے لئے ایک کلیدی چیلنج ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سلامتی کونسل کی ہیئت ترکیبی کا تعین 1945 ء میں کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ کیا یہ ہیئت ترکیبی آج بھی بین الاقوامی برادری کی نمائندہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اُس وقت 51 رکن تھے جبکہ آج 193 ہیں۔ 1945 ء میں افریقہ کے 3 ارکان تھے جبکہ آج 54 ہیں۔ سمترا مہاجن نے سوال کیاکہ سلامتی کونسل کے کتنے ارکان افریقہ کے ہیں اور کونسل کی مستقل رکنیت کو زیادہ جائز بنانے کے لئے کیا کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عمل کے طریقوں یا ضابطۂ اخلاق ویٹو کے استعمال کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے۔ کونسل کو جواز بخشنے کے لئے اس میں اصلاحات ضروری ہیں۔ یہ کہنا کہ یہ کونسل تاریخی غلطیوں کی مرتکب ہے، صرف اِس کی اہمیت کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم موجودہ ٹھوس مسائل سے اپنی توجہ نہیں ہٹاسکتے۔ اُنھوں نے یاد دہانی کی عالمی قائدین نے 2010 ء میں سلامتی کونسل میں عاجلانہ اصلاحات سے وابستگی کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ اقوام متحدہ کی 65 ویں سالگرہ منائی جارہی تھی اور آئندہ سال اقوام متحدہ کی 70 ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ کیا ابھی عاجلانہ اصلاحات کی مدت ختم نہیں ہوئی۔ کیا سکریٹری جنرل خود اعلان کریں گے کہ خود اقوام متحدہ کے دیگر دو ستونوں میں اصلاحات کئے جائیں گے۔ عالمی قائدین کو دنیا کو درپیش چیالنجوں کا جائزہ لینا چاہئے جو امن، سلامتی اور انسانی حقوق سے تعلق رکھتے ہیں اور اُن کا ازالہ کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکرس کی چوتھی عالمی کانفرنس کا علیحدہ اجلاس 2015 ء میں منعقد ہوگا۔ اِس کا مرکزی موضوع سمترا مہاجن نے تجویز کیاکہ اِس کانفرنس کا موضوع ’’جمہوری حکمرانی اور پائیدار ترقی: پارلیمنٹس کا کردار‘‘ ہونا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ آئندہ سال پارلیمنٹ کے اسپیکرس کی عالمی کانفرنس نئے عالمی ایجنڈہ کے لئے سیاسی عزم کو مستحکم کرنے کا موقع فراہم کریں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ مناسب ہوگا کہ اِس کانفرنس میں جمہوری حکمرانی کو پائیدار ترقی کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ مقاصد کے حصول میں پارلیمنٹس کے کردار کا تعین کیا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2015 ء سے ترقیاتی ایجنڈہ میں مقاصد کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی پارلیمانی یونین کے درمیان قریبی تعاون سے ایک نئے تعاون معاہدہ کی منظوری کی راہ ہموار ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس سے اقوام متحدہ کے ایجنڈہ کو اصل دھارے میں لانے میں بھی مدد ملے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT