اضلاع کی تنظیم جدید بہت بڑا اصلاحی عمل: کے چندرشیکھر راؤ

ریاست کو فائدہ ہوگا، نظم و نسق عوام کی دہلیز تک پہنچ گیا، اسمبلی میں چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔ 17 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اضلاع کی تنظیم جدید کو بہت بڑا اصلاحی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوائے مغربی بنگال اور آندھراپردیش کے تمام ریاستوں نے اضلاع کی تنظیم جدید کی ہے۔ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ اضلاع کی تنظیم جدید سے ریاست کو بہت فائدہ ہوا۔ نظم و نسق عوام کی دہلیز تک پہنچ گیا ہے۔ سارے ملک میں مغربی بنگال اور آندھراپردیش ایسی ریاستیں ہیں جہاں اضلاع کی تنظیم جدید نہیں ہوئی ماباقی تمام ریاستوں نے اضلاع کی تعداد میں اضافہ کرلیا ہے۔ عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے تلنگانہ میں بھی اضلاع کی تنظیم جدید کی گئی ہے۔ سرکاری نظم و نسق کو پھیلادینے سے ہی ترقی ممکن ہے اور عوام کو بھی مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ نظم و نسق کو باقاعدہ اور عوام کیلئے جوابدہ بنانے میں اضلاع کی تنظیم جدید معاون و مددگار ثابت ہورہی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ اضلاع کی تنظیم جدید ریاستوں کا اختیار ہے۔ اس میں مرکز کوئی مداخلت نہیں کرسکتی۔ اس کیلئے مرکز کو اعلامیہ جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آر بی آئی، این سی کے تحت 31 اضلاع کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر کے علاوہ تمام مرکزی وزراء کے دفاتر کو تلنگانہ کے اضلاع کی تنظیم جدید سے واقف کرایا گیا ہے۔ نئے اضلاع کے تحت مرکز سے فنڈز وصول ہورہے ہیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ 2 لاکھ خاندان والے اضلاع کی تعداد 14 ہے۔ اندرون 3 لاکھ خاندان والے اضلاع کی تعداد 14 ہے۔ اندرون 4 لاکھ خاندان والے اضلاع کی تعداد 4 ہے۔ 5 لاکھ سے زائد خاندان والے اضلاع میں حیدرآباد، رنگاریڈی، میڑچل کا شمار ہے۔ سارے تلنگانہ میں 468 ڈیویژنس، 584 منڈلس، 9 پولیس کمشنریٹس، 814 پولیس اسٹیشن موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT