Saturday , September 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / اطاعت ِرسول ﷺ کی مستقل حیثیت

اطاعت ِرسول ﷺ کی مستقل حیثیت

علامہ سید احمد سعید کاظمی

علامہ سید احمد سعید کاظمی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں بعض لوگوں کا یہ خیال قطعاً غلط ہے کہ اطاعت رسول کا حکم محض ایک امیر ہونے کی حیثیت سے دیا گیا ہے اور اس خیال کا مبنی اس آیت کریمہ کو قرار دیا جاتا ہے، جو سورۂ نساء میں وارد ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور اپنے حاکموں کی بھی اطاعت کرو‘‘۔ ان لوگوں کی وجہ استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر رسول کی اطاعت فرض ہونے کی وجہ سے رسول کا قول و فعل حجت شرعیہ ہو سکتا ہے تو ہر امیر کے اقوال و افعال بھی شرعاً حجت قرار پائیں گے، کیونکہ ’’اولی الامر منکم‘‘ فرماکر اللہ تعالی نے ان کی اطاعت کو بھی اہل ایمان پر فرض کیا ہے۔ اس خیال کے غلط ہونے کی دلیل خود اسی آیت میں موجود ہے اور وہ اسی آیت کا اگلا حصہ ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’اگر کسی مسئلہ میں کشمکش ہو جائے (نزاع ہو جائے) تو اگر تم ایماندار ہو اور اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس مسئلہ میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا مآل اچھا ہے (انجام نیک ہے)‘‘۔ (سورۃ النساء۔۵۹)

اس آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت تو مستقلاً فرض کی گئی اور تیسری اطاعت اولوالامر کی ان دو اطاعتوں کے ماتحت درج کردی گئی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ پہلی دو اطاعتوں کے لئے لفظ ’’اطیعوا‘‘ مکرر لایا گیا ہے اور تیسری اطاعت کے لئے جداگانہ امر کا صیغہ ارشاد نہیں فرمایا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس آیت قرآنیہ کی رو سے خدا اور رسول کی اطاعت مستقل حیثیت رکھتی ہے، لیکن اولوالامر کی اطاعت مستقل حیثیت نہیں رکھتی۔ یہاں استقلال کا مفہوم یہ ہے کہ خدا کی اطاعت کی طرح براہ راست ہم پر رسول کی اطاعت واجب ہے۔ جس طرح حکم خداوندی آجانے کے بعد ہمارے اوپر اس کا بجالانا واجب ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جب رسول کوئی امر فرمائیں تو بغیر اس کے کہ رسول سے اس امر کی دلیل طلب کی جائے، یا کتاب اللہ سے اس کا ثبوت حاصل کیا جائے، محض رسول کے فرمادینے سے اس کی بجاآوری ہم پر لازم ہو جاتی ہے، بخلاف اطاعت الی الامر کے کہ اس کی یہ شان نہیں کہ امیر جو حکم بھی دے دے، براہ راست ہمارے لئے واجب التعمیل قرار پائے، بلکہ ہم اسے خدا اور رسول کی طرف لوٹائیں گے اور کتاب و سنت کے معیار پر پرکھیں گے۔ اگر وہ اس کسوٹی پر صحیح اترا تو اس کا ماننا ہم پر واجب ہوگا کہ وہ امر خدا اور اس کے رسول کے موافق ہے۔ اسی موافقت کی وجہ سے اس کی اطاعت محض ظاہری صورت میں غیر مستقل طورپر ظاہر ہوگی۔ اصل اطاعت اللہ اور اس کے رسول ہی کی قرار پائے گی، اسی لئے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم کسی امر میں جھگڑنے لگو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو‘‘ یعنی کتاب و سنت کی روشنی میں اس کا حکم تلاش کرو۔ اگر اطاعت امیر کی حیثیت مستقل ہوتی تو اللہ اور رسول کی بجائے امیر کی طرف اس کو لوٹانے کا حکم دیا جاتا، یا کم از کم ’’الی اللہ والرسول‘‘ کے ساتھ ’’اولی الامر‘‘ بھی فرمادیا جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ معلوم ہوا کہ اطاعت رسول کا حکم بحیثیت امیر ہونے کے نہیں، بلکہ رسول ہونے کی حیثیت سے ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ رسول اور امیر کی اطاعت یکساں نہیں، اطاعت رسول مستقل ہے اور اطاعت امیر غیر مستقل، لہذا امیر کا قول و فعل حجت شرعیہ قرار نہیں پاسکتا اور رسول کا قول و فعل حجت شرعیہ رہے گا۔ اب ہم وہ آیات قرآنیہ پیش کرتے ہیں، جن سے حجیت حدیث کا روشن ثبوت ملتا ہے۔

٭ ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ نے ایمانداروں پر بڑا احسان کیا جب کہ ان میں ان ہی کے ہم جنسوں میں سے ایک رسول بھیجا، جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو (اخلاق بد، کفر و شرک کی گندگی سے) پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ کہ وہ (اس مقدس تعلیم) سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے‘‘۔ (سورہ آل عمران۔۱۶۴)
٭ ارشاد فرمایا: ’’وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ایک پیغمبر کو بھیجا، جو ان پر اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انھیں پاک کرتا اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے تھے‘‘۔ (سورۃ الجمعہ۔۲)
٭ ارشاد فرمایا: ’’جیسا کہ ہم نے تم ہی میں سے رسول بھیجا، جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور تم کو (علمًا و عملًا) پاک و صاف کردیتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تم کو تعلیم دیتا ہے جو تم جانتے نہ تھے‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۱۵۱)

٭ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں وارد ہے: ’’اور اے ہمارے رب! بھیج ان میں ایک رسول بھی خود ان (کی قوم) میں سے جو ان کو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان (کے ظاہر و باطن) کو پاک و صاف کردے، بے شک تو ہی عزت و حکمت والا ہے‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۱۲۹)
مذکورہ چاروں آیات میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ رسول کا کام صرف تلاوت آیات پر ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ اس کے علاوہ حسب ذیل کام بھی بعثت رسول سے متعلق ہیں: (۱) تعلیم کتاب (۲) تعلیم حکمت (۳) انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے مؤمنین کا تزکیہ اور ان کی پاکیزگی و اصلاح حال۔ ظاہر ہے کہ یہ تینوں کام محض الفاظ قرآن پڑھ دینے سے پورے نہیں ہوتے، بلکہ ان کی ابتدا تلاوت آیات کے بعد ہوتی ہے، ورنہ ان کو الگ بیان فرمانے کے کوئی معنی نہ تھے۔ امور مذکورہ کی انجام دہی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مامور تھے، جس کا تحقق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، اقوال و افعال اور احوال مبارکہ کے بغیر متصور نہیں۔ اگر ان سب چیزوں کو شرعاً حجت تسلیم نہ کیا جائے تو یہ جملہ امور عبث اور بے معنی ہوکر رہ جائیں گے، اس لئے تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور احوال سب حجت شرعیہ ہیں۔
اس مقام پر یہ کہنا کہ تعلیم کتاب سے مراد معانی قرآن کا بیان ہے اور معانی الفاظ سے جدا نہیں۔ اسی طرح حکمت بھی عین قرآن ہے، کیونکہ خود قرآن کریم کو حکیم کہا گیا ہے اور تزکیہ بھی قرآن کی صفت ہے، کیونکہ وہی قرآن کا مبداء ہے، لہذا آیات منقولہ میں جو کچھ مذکور ہے، وہ سب قرآن ہی ہے، ایسی صورت میں غیر قرآن کی حجیت پر ان آیات سے استدلال نہیں ہوسکتا۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ہم امور مذکورہ کو قرآن سے الگ نہیں مانتے، البتہ انھیں تلاوت آیات کا غیر سمجھتے ہیں اور یہ ایسی بدیہی بات ہے، جو قطعاً محتاج دلیل نہیں۔ معانی قرآن بے شک قرآن میں شامل ہیں، لیکن ان کا بیان رسول کے قول و فعل کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی طرح حکمت قرآن میں ہے، اسی لئے قرآن کو حکیم کہا گیا، لیکن اس کی تعلیم رسول کے قول و فعل ہی سے ہوسکتی ہے۔ علی ھذالقیاس پاکیزگی کا منبع قرآن مجید ہی ہے، لیکن اس کا حصول رسول کی وساطت کے بغیر ناممکن ہے اور جب رسول کی ذات سے اس کا حصول متحقق ہوگا تو وہ رسول کے احوال و اقوال و افعال ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔ یہی تعلیم و بیان، اقوال و افعال اور احوالِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ہیں اور وہ تلاوت آیات کا غیر ہیں، لہذا ان سے اعراض کرنا مقصد بعثت کو فوت کردینے کے مترادف ہے۔

TOPPOPULARRECENT