Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / اظہار خیال کے دستوری حق پر ضرب کاری ناقابل برداشت

اظہار خیال کے دستوری حق پر ضرب کاری ناقابل برداشت

ایمرجنسی کا تلخ تجربہ فراموش نہ کیا جائے، چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی کا بیان

گوہاٹی ۔ 7 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت پر عوام کے بنیادی حقوق سلب کرلینے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی نے آج کہا کہ یہ پارٹی ملک پر واحد نظریہ کو مسلط کرنے کی کوشش میں ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عرصہ دراز سے متضاد نظریات حاوی ہیں لیکن آر ایس ایس کی ایماء پر بی جے پی کا یہ ایجنڈہ واحد نظریہ کو مسلط کیا جارہا ہے لیکن ہندوستان جیسے متنوع ملک میں یہ ممکن نہیں ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دستور نے ہمیں اظہار خیال کی آزادی کا بنیادی حق فراہم کیا لیکن بی جے پی تحدیدات کے ذریعہ یہ حق چھین لینا چاہتی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین صدر کنہیا کمار کی حالیہ تقریر پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے ترون گوگوئی نے کہا کہ کمار نے یہ درست نشاندہی کی ہے کہ وہ دستور کے تحت آزادی کی ضمانت چاہتے  ہیں لیکن مرکز نے ان کے خلاف غداری کے الزامات عائد کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے بھی آزادی کے معاملہ پر کنہیا کمار کی تائید کی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگرچیکہ وہ کنہیا کمار کے ہر ایک نکتہ سے اتفاق نہیں کرتے لیکن ان کے اظہار خیال اور رائے کے حق کوئی چھین نہیں سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی میں بھی اظہار خیال کی آزادی پر پابندی کو عوام نے قبول نہیں کیا تھا اور اس وقت متعدد مثبت اقدامات کے باوجود کانگریس حکومت کو بیدخل کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے جے این یو کے معاملہ میں کہا کہ بی جے پی حکومت کا یہ تحکمانہ رویہ ہے کہ ہم ان کی تعلیم کیلئے فنڈس دے رہے ہیں۔ لہذا طلباء پر تنقید نہیں کرسکتے جو کہ یکسر غلط اور ناقابل قبول ہے۔ علاوہ ازیں چیف منسٹر ترون گوگوئی نے آج یہ ادعا کیا ہے کہ ریاستی عوام کو یہ محسوس ہوگیا کہ وزیراعظم نریندر مودی صرف بلند بانگ وعدے کرتے ہیں لیکن اس کی تکمیل میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ نریندر مودی کے پاس مارکیٹنگ کی مہارت بہت خوب ہے لیکن اس کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے اور سنہرے خواب بتاکر عوام کو زیادہ دنوں تک بے وقوقف نہیں بنایا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT