Wednesday , December 12 2018

اظہار ِمحبت میں مزاج محبوب کی پاسداری خالص محبت کا بنیادی لازمہ

مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر انسان کی تخلیق عبادت و بندگی کے لئے کی گئی ہے اور عبادت و بندگی کا اعلی مقام و مرتبہ عشق و محبت ہے، یعنی انسان کی تخلیق کا مقصد محبت خداوندی ہے۔ ذکر و شغل، عبادت و ریاضت اور طاعت و بندگی کا محور محبت الہی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے: سجدۂ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے

مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر
انسان کی تخلیق عبادت و بندگی کے لئے کی گئی ہے اور عبادت و بندگی کا اعلی مقام و مرتبہ عشق و محبت ہے، یعنی انسان کی تخلیق کا مقصد محبت خداوندی ہے۔ ذکر و شغل، عبادت و ریاضت اور طاعت و بندگی کا محور محبت الہی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
سجدۂ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے
خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے
سجدوں کے عوض فردوس ملے ، یہ بات مجھے منظور نہیں
بے لوث عبادت کرتا ہوں ، بندہ ہوں ترا مزدور نہیں
اس خاکدانِ گیتی میں بہت سے بندگان خدا گزرے ہیں، جو عبادت و بندگی کے اونچے اونچے مراتب و مناصب پر فائق ہوئے۔ کوئی مرتبہ ’’خلت‘‘ پر فائز ہوا تو کسی نے ہمکلامی خدا کا شرف حاصل کیا، تاہم کل کائنات میں ایک ہی ہستی ہے، جو بندگی کے اعلیٰ و ارفع مقام ’’محبوبیت‘‘ پر فائز و متمکن ہوئی اور وہی ذات خلاصہ کائنات ہے، اسی ہستی سے باغیچۂ دنیا میں رنگ و بو باقی ہے، اسی سے شمس و قمر ضوفشاں ہیں اور وہی ہستی وجہ تخلیق کائنات ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسی رازہائے سربستہ کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا:
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو ، خم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو ، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

وہی ذات ہے، جس نے خدائے تعالی کے وجود کو پایا، سمجھا اور دوسروں کو اس ذات وحدہٗ لاشریک کا پتہ بتایا۔ وہ نہ ہوتے تو ہم مسلمان نہ ہوتے، وہ نہ ہوتے تو دنیا میں توحید خالص نہ ہوتی۔ ہم نے خدا کو نہ دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ہم نے ذات وحدہٗ کا ادراک کیا ہے اور نہ ہی عرفان حاصل کیا ہے، اس کے باوصف ہمارے ایمان و ایقان میں رمق برابر شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ جنت و دوزخ ہم سے اوجھل ہیں، پھر بھی ہم ان کو مانتے ہیں۔ سابقہ انبیاء کرام اور ان کی کتابوں کو ہم نے نہیں دیکھا، پھر بھی ہم تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نے نورانی مخلوق فرشتوں کا مشاہدہ نہیں کیا، لیکن ہم ان کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ ہمارے ایمان کی بنیاد نہ عقل و شعور پر ہے، نہ فہم و ادراک پر اور نہ ہی علم و تجربہ پر، بلکہ ہمارے ایمان کی بنیاد صرف اور صرف اس ذات اقدس پر ہے، جو خدا کے وجود کی شاہد عدل ہے اور وہ ذات ہمارے آقا و محبوب خدا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ ان ہی کی گواہی اور بیان پر ہم ایمان لائے، اسی ذات پر ہمارا بھروسہ و توکل ہے، ہم کو خدا کے وجود پر کسی دلیل و برہان کی حاجت نہیں ہے، کسی سائنسی شواہد کی چنداں ضرورت نہیں ہے، ہم صرف اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان پر سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

ہم اس ذات اقدس کی روحانیت، نورانیت اور لطافت کا کیا ادراک کرسکتے ہیں، جس نے فرش پر رہ کر عرش والے کا سراغ پایا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو اس کے حقیقی آقا و مولیٰ سے جوڑا۔ خالق اور مخلوق کے درمیان موجود ذریعہ و وسیلہ کو ہماری ناقص عقل و کوتاہ فہم قطعاً ادراک نہیں کرسکتی۔ مولانا ابو الکلام آزاد رقمطراز ہیں: چوں کہ حقیقت محمدیہ روح حیات کا آخری نقطہ اور سرچشمہ قرار پائی۔ یقیناً سیر و اقدام کی آخری منزل بھی وہی ٹھہری، اس کے بعد جو کچھ ہے فوق اور وراء الوراء تعینات ہیں، اس لئے نہ سیر کی وہاں گنجائش ہے، نہ قافلہ طلب اور محمل شوق کا وہاں گزر، بلکہ طائر فکر و مرغ خیال بھی اس کی فضاء لاتعین میں درماندۂ پر و بال سوختہ:
اے بروں از وہم و قال و قیل من
خاک بر فرق من و تمثیل من
(مولانا روم) بحوالہ رسولِ رحمت

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو اس ہستی مقدس کا عرفان تھا، اس لئے وہ نہایت مؤدب اور دل و جان سے فدا تھے۔ بارگاہ رسالت کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ صحابہ کرام آپﷺ کی محفل بابرکت میں جلوہ گر ہوتے تو وہ ایسے باادب ہوتے کہ اپنے جسم کو تک حرکت نہ دیتے، گویا کہ وہ انسانی شکل میں جامد مجسمے ہیں اور ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ کی محفل مبارک میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کے سوا کوئی اپنی نگاہ اٹھاکر دیکھنے کی تاب نہ رکھتا۔ سالہا سال آپﷺ کی صحبت بافیض میں رہنے والے صحابہ کرام کا بیان ہے کہ ’’تم مجھ سے آپﷺ کے حلیہ مبارک سے متعلق سوال نہ کرو، کیونکہ میں کبھی جی بھر کے آپﷺ کو دیکھ نہ سکا‘‘۔

مشہور و جلیل القدر صحابی رسول حضرت برادہ بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ’’آپﷺ کا رعب اس طرح طاری رہتا کہ میں ایک مسئلہ سے متعلق آپﷺ سے دریافت کرنا چاہا تو دو سال تک آپ سے سوال نہ کرسکا‘‘۔ اسی لئے صحابہ کرام کسی اجنبی دیہاتی کے منتظر رہتے کہ وہ آئے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرے۔ بارگاہ رسالت کے ادب کا یہ عالم تھا کہ صحابہ کرام آپﷺ کے در اقدس پر حاضر ہوتے تو اپنے ناخنوں سے دروازہ پر دستک دیتے۔ (بخاری، ادب مفرد)

حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کی یہ حالت تھی کہ جب بارگاہ رسالت میں گویا ہوتے تو اس قدر اپنی آواز دھیمی رکھتے، گویا کوئی نہایت رازدارانہ بات ہو اور اس قدر آہستہ عرض کرتے کہ پھر دہرانے کی خواہش کی جاتی۔ وہ اس لئے تھا کہ بارگاہ رسالت کی ادنی بے توجہی اللہ تعالی کو قطعاً گوارہ نہیں اور تھوڑی سی بھی لاپرواہی ہو تو زندگی بھر کی پونجی ختم ہو جائے اور سارے اعمال حبط ہو جائیں۔ بناء بریں اسلاف نے نہایت تاکید سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور آپﷺ کی بارگاہ عالی کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھنے کی تائید و تلقین کی اور فرمایا:

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
یعنی زیر آسمان یہ ایک ادب ایسا مقام ہے، جو عرش سے زیادہ نازک تر ہے۔ جہاں جنید اور بایزید اپنی سانس کو گم کردیتے ہیں۔

درربار رسالت ایک ایسا مقام ہے، جہاں دیوانگی و جنون نہیں، بلکہ کامل ہوش و استحضار درکار ہے۔ ادنی سی غلطی دنیا و آخرت میں حرماں نصیبی کا موجب ہے۔

باخدا دیوانہ باشد و با محمد ہوشیار
جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیا جاتا تو محدثین کرام پر لرزہ طاری ہو جاتا، ایسا محسوس ہوتا کہ ان کے جسم کا خون سوکھ گیا ہے، چہرہ زرد ہو جاتا اور آنکھ سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جب حدیث شریف بیان کرنے کا ارادہ فرماتے تو اچھی طرح وضوء کرتے، عمدہ لباس زیب تن فرماتے، اپنی داڑھی سنوارتے اور نہایت وقار سے تشریف فرما ہوکر حدیث شریف بیان کرتے۔ ایک مرتبہ دوران درس سولہ مرتبہ بچھو نے ڈنک مارا، آپ کا رنگ متغیر ہو گیا، مگر آپ نے حدیث شریف کا درس جاری رکھا۔ جب حضرت عبد اللہ بن مبارک نے دریافت کیا تو فرمایا کہ ’’میں نے حدیث شریف کو موقوف کرنا گوارہ نہیں کیا‘‘۔

حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف میں ایک حدیث لکھنے سے قبل غسل فرماتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، پھر حدیث شریف نقل فرماتے۔ یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک، آپ کے فرامین و ارشادات کو سنتے اور سناتے وقت ادب و احترام بالخصوص استحضار کو ملحوظ رکھنے کی چند مثالیں ہیں اور ہم وہ خوش نصیب ہیں، جن کو بخاری شریف عمدۃ المحدثین حضرت مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ سے پڑھنے کا شرف حاصل رہا۔ دوران درس حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نہایت مؤدب رہتے، دو زانوں تشریف فرماتے ہوتے، بسا اوقات گھنٹوں درس جاری رہتا، لیکن آپ اپنی بیٹھک تبدیل نہ فرماتے اور کبھی آپ نے حدیث شریف کا درس ٹیک لگاکر آرام سے نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ باادب ہوتے اور جب کبھی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی آتا تو آپ کے چہرہ پر عجیب کیفیت طاری ہوتی اور استحضار کے جلوے نظر آتے۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک اور آپﷺ کا ذکر مبارک کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے؟ کس قدر ادب و احترام اور خشوع و خضوع درکار ہے، کسی بزرگ شاعر نے اپنے شعر میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے:
ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب
ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبیست
یعنی ہزار مرتبہ اپنے منہ کو مشک و گلاب سے دھو ڈالوں، اس کے باوجود آپﷺ کا نام ِمبارک لینا بہت بڑی بے ادبی ہے۔

یقیناً عشق محبت کے جذبات قابل قدر ہیں، قابل مبارکباد ہیں وہ لمحات، جو عشق و شیفتگی اور ذکر جمیل میں بسر ہوں۔ صد آفریں ہے وہ زبان، جو ذکر محبوب میں زمزمہ سنج رہتی ہے اور لائق تحسین ہیں وہ سینہ، جس میں عشق و محبت کی آگ بھڑکتی ہو، لیکن عشق جب کسی دل میں گھر کرجاتا ہے تو وہ عاشق کے دل کو محبوب خدا کی عظمت و محبت اور ادب و احترام سے معمور کردیتا ہے اور بارگاہ محبوب کے نت نئے آداب سکھاتا ہے۔

آج کل دعوائے محبت عام ہے، پتہ نہیں کہ عشق و محبت کے دربار عالی میں محبت کا دعویٰ روا ہے یا نہیں؟ لیکن یہ ضرور ہے کہ اظہار محبت میں محبوب کی مرضی، پسند اور طبع نازک کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ آج محافل و مجالس کی بہتات ہے، لیکن ادب و احترام ، خشوع و خضوع، تعلق خاطر اور ہوش و استحضار کی جو کیفیت ہونی چاہئے مفقود ہوتی نظر آرہی ہے، حتی کہ مقررین بڑی بے باکی و جرأت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک اور آپ کا ذکر جمیل کر رہے ہیں۔ اظہار محبت پر بڑے شاداں و فرحاں ہیں، جب کہ عملی طورپر نماز پنجگانہ کے اہتمام، صبح و شام سنتوں کو اپنانے اور اپنی زندگی کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اسوہ کے مطابق ڈھالنے کی قطعاً فکر نہیں ہے۔

۱۲؍ ربیع الاول کو خوشی کا اظہار کرنا اور مخصوص ایام و مخصوص اوقات میں شادمانی کا مظاہرہ کرنا مستحسن ضرور ہے، لیکن مطلوب و مقصود نہیں، کیونکہ مطلوب و مقصود اتباع کامل ہے، سنتوں کی پیروی ہے، آپﷺ کی سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے۔ اگر کوئی اصل مدعا و مقصود سے غافل ہو اور عارضی طورپر اظہار خوشی کرکے یہ سمجھ لے کہ اس نے حق غلامی ادا کردیا ہے، تو کیا یہ صحیح ہے؟۔ کیا یہ علماء و خطباء کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اہل اسلام کے جذبات عشق و محبت کی صحیح سمت میں رہبری کریں اور ان میں ادب و احترام اور خشوع و خضوع کے بیج بوکر دین و دنیا میں کامیاب و بامراد بنانے کے لئے کوشاں ہوں۔
غیرتِ ایمانی ملاحظہ ہو کہ علامہ اقبال اللہ تعالی کے دربار میں التجاء کرتے ہیں کہ ’’روز محشر میرے عذر کو قبول فرماکر نجات عطا فرما اور اگر میرے اعمال کا حساب و کتاب ناگزیر ہو تو پھر اے میرے مولیٰ میرے حساب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا، کیونکہ آپﷺ کے دربار میں حاضر ہوکر حساب و کتاب دینے کی مجھ میں تاب نہیں ہے‘‘۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:
تو غنی از ہر دوعالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پزیر
گر تو بینی حسابم را ناگزیر
اَز نگاہِ مصطفی پنہاں بگیر

TOPPOPULARRECENT