Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / اظہرالدین کا حیدرآباد نشست سے مقابلہ کی پیشکش پر غور

اظہرالدین کا حیدرآباد نشست سے مقابلہ کی پیشکش پر غور

سابق کپتان کے حامیوں میں جوش و خروش ، کانگریس اظہر الدین کی نوجوانوں میں مقبولیت کا فائدہ اٹھانے کوشاں
حیدرآباد ۔ 20۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ہندوستانی کرکٹ کے سابق کپتان محمد اظہرالدین کو تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کی جانب سے اسٹار کیمپینر کے طور پر مہم میں شامل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ پارٹی کے ریاستی قائدین نے انہیں حیدرآباد لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کی پیشکش کی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ چارمینار کے دامن میں کل منعقدہ سدبھاؤنا تقریب کے موقع پر قائدین نے محمد اظہرالدین کی خدمات تلنگانہ میں حاصل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں حلقہ لوک سبھا حیدرآباد سے مقابلہ کا مشورہ دیا تھا ۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی اظہرالدین کے حامیوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا جارہا ہے ۔ ملک و بیرون ملک سے اظہرالدین کے حامی ان سے ربط قائم کرتے ہوئے حیدرآبادی عوام کی خدمت کے جذبہ کی ستائش کر رہے ہیں۔ سوشیل میڈیا پر بھی اظہرالدین کے حیدرآباد سے مقابلہ کی خبر تیزی سے پھیل رہی ہے اور عوام کی اکثریت اس فیصلہ کے حق میں اپنے ردعمل کا اظہار کررہی ہے۔ اسی دوران قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ اظہرالدین کو حیدرآباد حلقہ سے امیدوار کے طور پر ہائی کمان سے منظوری حاصل کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی موجودہ سیاست اور اظہرالدین کی نوجوانوں میں مقبولیت سے کانگریس پارٹی کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔

حیدرآباد روایتی طور پر کانگریس کا گڑھ ہے اور موزوں امیدوار ہوں تو پھر کانگریس کے حق میں نتائج کی امید کی جاسکتی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مختلف گوشوں سے انہیں مبارکباد پیش کی جارہی ہے کیونکہ حیدرآباد سے مقابلہ کی تجویز ان کی پیش کردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام گزشتہ 40 برسوں سے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور معمولی سی بارش ان کیلئے مصیبت بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی جماعت نے پرانے شہر کی ترقی پر عملاً روک لگادی ہے۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں پرانے شہر کی ترقی کیلئے ایکشن پلان تیار کیا گیا تھا اور حکومت نے بجٹ بھی تیار کرلیا لیکن مقامی عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی سے ترقیاتی منصوبہ پر عمل نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں نئی صنعتوں کے قیام اور کسی بھی نئے پراجکٹ کے آغاز میں عوامی نمائندے ہی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کو پرانے شہر کے علاقوں سے گزرنے سے روکنے کیلئے کون ذمہ دار ہیں، اس سے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ ایک طرف پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے کی مانگ کی جارہی ہے تو دوسری طرف طئے شدہ روٹ کو تبدیل کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اپنی حلیف جماعت کے آگے بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ کے ٹی آر پرانے شہر کی ترقی کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن عملی اقدامات میں وہ صفر ہیں۔ کانگریس پارٹی آئندہ اسمبلی اور بلدی انتخابات میں پوری شدت کے ساتھ شہر میں مقابلہ کرے گی۔ انہیں یقین ہے کہ عوام دوبارہ کانگریس کی طرف لوٹیں گے اور اس کے نمائندوں کو خدمت کا موقع دیا جائے گا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان بھی تلنگانہ میں پارٹی کو دوبارہ برسر اقتدار لانے کیلئے حکمت عملی طئے کر رہا ہے ۔ اس کے تحت عوامی مقبول قائدین کو پارٹی کی انتخابی مہم کی ذمہ داری دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اظہرالدین کے نام کی تجویز کے ساتھ ہی پرانے شہر کے نوجوانوں میں کافی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے اور پارٹی کی اس تجویز کا مختلف گوشوں سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے کانگریس قائدین نے تمام اسمبلی اور بلدی حلقوں میں پارٹی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قائدین کی کانگریس میں شمولیت کا امکان ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT