Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / اعتدال پسند مسلمان داعش کیخلاف کچھ نہیں کررہے ہیں : ملکہ رانیہ

اعتدال پسند مسلمان داعش کیخلاف کچھ نہیں کررہے ہیں : ملکہ رانیہ

جوائے ۔ این جوزاس (فرانس) 27 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اردن کی ملکہ رانیہ نے آج ایک چبھتی ہوئی بات کہی کہ اعتدال پسند مسلمان دولت اسلامیہ کے جہادیوں اور اُن کے خطرناک نظریات سے لڑنے کوئی مؤثر رول ادا نہیں کررہے ہیں۔ ایک فرانسیسی تجارتی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے 44 سالہ ملکہ نے کہاکہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں کی اس سلسلہ میں بھرپور مدد کی جانی چاہئے جبکہ عراق اور شام کے ایسے علاقے جو اُردن کی سرحد سے قریب تر ہیں، دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا قبضہ ہے۔ اس وقت ہمیں سخت مشکلات کا سامنا ہے اور داعش یا نام نہاد دولت اسلامیہ اپنے خطرناک نظریات کو مزید وسعت دے رہی ہے۔ حالانکہ ہم داعش کی کوئی مدد نہیں کررہے ہیں۔ لیکن ہم اُسے روکنے کی کوشش بھی نہیں کررہے ہیں اور اُس وقت تک انھیں مکمل طور پر روکا بھی نہیں جاسکتا جب تک تمام مسلمان (عالم اسلام) متحد نہیں ہوجاتا۔ اُنھوں نے ایک بار پھر کہاکہ مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں پر زائد توجہ دینا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے جو بے روزگار ہیں اور حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی وطن سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ انھیں تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ملکہ رانیہ کے مطابق اس خطہ میں 2020 ء تک کم و بیش 100 ملین روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہوئے اُنھیں جہادی گروپس میں شامل ہونے سے روکا جائے۔

TOPPOPULARRECENT