Wednesday , June 20 2018
Home / دنیا / اعلیٰ تربیت یافتہ ہندوستانی پروفیشنلس کا برطانیہ میں احتجاج کا منصوبہ

اعلیٰ تربیت یافتہ ہندوستانی پروفیشنلس کا برطانیہ میں احتجاج کا منصوبہ

امیگریشن پالیسی سے متعدد ممالک کے تارکین وطن پریشان، پالیسی کیخلاف آن لائن 22500 سے زائد دستخط
لندن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ حکومت کی جانب سے ناموافق امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ کے خلاف مزاحمت میں ہندوستانی پیشہ وروں نے دوسرے ممالک کے تارکین وطن کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا قدم اٹھایا۔ اعلیٰ تربیت یافتہ غیرملکی تارکین وطن کا ایک گروپ جو تقریباً 1000 سے زیادہ ڈاکٹرس، انجینئرس، آئی ٹی پیشہ ور اور ٹیچرس پر مشتمل ہے، جن کا تعلق یوروپین یونین کے ممالک کے علاوہ دوسرے ممالک سے ہے، یہ گروپ جنوبی ایشیاء اور افریقہ کے تارکین وطن کے ساتھ مل کر چہارشنبہ کو اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کرے گا۔ واضح رہیکہ پیشہ ور اپنے اہل خانہ کے خصوصاً جن کا تعلق ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور نائجیریا سے ہے، وہ برطانوی وزارت داخلہ آفس کے روبرو احتجاج کرکے اس فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دیں گے جس میں حکومت نے غیرمعینہ مدت تک لندن میں رہنے کی عرضی کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ واضح رہیکہ گروپ کے ایک اہم رکن آدیتی بھردواج نے بتایا کہ واضح رہیکہ زیادہ لوگ اس احتجاجی مظاہرے میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ اب ان پر یہ بات واضح ہوچکی ہیکہ بغیر کسی مناسب وجہ کے ان کو برطانیہ کے میں قیام اور کام سے منع کردیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایسے پیشہ ور جو سالوں پہلے جنرل ویزا سے برطانیہ آئے تھے اب ان کو پانچ سالوں تک امریکہ میں رہنے کے بعد آئی ایل آر کیلئے فارم بھرنا پڑ رہا ہے جبکہ متعدد ہندوستانی سافٹ ویر پروفیشنل جس ویزا کے تحت امریکہ گئے تھے اسے 2010ء میں ہی بند کیا جاچکا ہے۔ لہٰذا سابقہ درخواست دہندہ اپنے تمام ضروری لوازمات کے ساتھ اس سال اپریل کے آخر تک برطانیہ میں رہائش کیلئے درخواست بھرنے کے اہل ہیں۔ وہیں دوسری جانب اعلیٰ تربیت یافتہ پیشہ وروں کے گروپ کا کہنا ہیکہ ان کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں ایسے معاملات ہیں کہ جن کو بلاوجہ طویل وقت تک انتظار میں رکھا گیا یا انہیں امیگریشن ایکٹ کے سیکشن کا حوالہ دے کر مستردکردیا گیا۔ واضح رہیکہ اعلیٰ تعلم یافتہ اور پروفیشنل تارکین وطن کو آئی ایل آر دینے سے منع کردیا گیا اور ان کو صرف اس وجہ سے ملک کیلئے خطرہ گردانہ جارہا ہے کیونکہ وہ اپنا ٹیکس تھوڑی تاخیر سے بھرتے ہیں یا اپنے ٹیکس میں کچھ ترمیم کراسکتے ہیں۔ بھردواج کے مطابق ان کے گروپ نے تقریباً 22,500 سے زیادہ آن لائن درخواست پر دستخط کرایا ہے جس میں وزیراعظم تھریسامے، داخلہ سکریٹری امبررڈ اور اپوزیشن لیبر پارٹی لیڈر جیرلی کاربائن کو مخاطب کرکے لکھا گیا ہیکہ ’تارکین وطن کیلئے ناموافق حالات کو بنانا بند کرو‘۔ پٹیشن میں اس بات کا بھی تذکرہ ہیکہ اگر امیگریشن پالیسی میں تبدیلی نہ کی گئی تو اس کی وجہ سے وہ اعلیٰ تربیت یافتہ تارکین وطن جو اچھی پوسٹوں پر برسرروزگار ہوں نامساعد حالات سے دوچار ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT