Monday , November 20 2017
Home / مضامین / اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی خانگی افواج حکومت کی زبان پر تالا

اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی خانگی افواج حکومت کی زبان پر تالا

عقیل احمد
ہندوستان کی فوج کو ساری دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ دنیا کی تین سب سے بڑی افواج میں اس کا دوسرا نمبر ہے ۔ ہندوستانی فوج جہاں ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی وہیں ہنگامی حالات و آفات سماوی بشمول طوفان و سیلاب ‘ زلزلوں کے علاوہ دہشت گردانہ حملوں ‘ حادثات بالخصوص ٹرین حادثات اور فرقہ وارانہ فسادات میں عوام کی بھرپور مدد کرتی ہے ۔ ہندوستانی فوجی اپنی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال کر دوسروں کی زندگیوں کوبچاتے ہیں ‘ عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں تب ہی تو ملک میں فوجیوں کا بہت احترام کیا جاتا ہے ۔ اسکے برعکس عوام پولیس اہلکاروں کا کوئی احترام نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ محکمہ پولیس میں رشوت خوری سب سے زیادہ پائی جاتی ہے ۔ معمولی ’’پولیس اہلکار بھی بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک ہوتے ہیں ان میں متعصب عہدہ داروں کی شکل میں سماجی غلاظت‘‘ بھی پائی جاتی ہے ۔ پولیس کا محکمہ اقلیتوں خاص کر مسلم نوجوانوں سے تعصب ‘ان پر ظلم و جبر اور انہیں بناء کسی قصور کے جھوٹے الزامات کے تحت مقدمات میں ماخوذ کرنے کے معاملہ میں بھی کافی بدنام ہے ۔ غرض ہندوستانی عوام کی اکثریت پولیس پر بھروسہ نہیں کرتے اس کے برعکس فوج تمام ہندوستانیوں کیلئے قابل فخر ہوتی ہے لیکن افسوس کہ تعداد کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی فوج کے حامل ہندوستان میں کرایہ کے سپاہیوں پر مشتمل خانگی فوجیں ( ملیشیا) بھی کافی سرگرم ہیں ۔ خانگی فوج کے معاملہ میں اگر افریقی ممالک بدنام ہیں لیکن ایشیائی ملکوں میں بھی یہ بیماری بہت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ چنانچہ ہندوستان خانگی فوج رکھنے والے دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل ہے ۔ ہمارے ملک میں خانگی فوجیں مذہبی قائدین اور ان کے حامی چلارہے ہیں ۔ ان لوگوں نے ملیشیا کے نام پر معاشرہ میںاپنے مخالفین پر ایک عجیب قسم کا رعب جما رکھا ہے  ۔ ان خانگی افواج کے بارے میں بتایا جاتا ہیکہ ان فوجوں کی تشکیل نکسلائٹس اور اپنے مخالفین سے نمٹنے کیلئے عمل میں لائی گئی ۔ یہ ملیشیا یا خانگی افواج نہ صرف عصری اسلحہ کا استعمال کرتی ہیں بلکہ ان میں بم بنانے والے ماہرین بھی پائے جاتے ہیں ۔ اس کی تازہ ترین مثال اترپردیش کا متھرا ہے جہاں یادو کی ایک خانگی فوج بم تیار کرنے کے فن سے بھی اچھی طرح واقف پائی گئی ۔ پولیس اور حکام ان کے قبضے سے برآمد کردہ خود کار اسلحہ دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ حیران کیا وہ خوف میں مبتلا ہوگئے ۔ ان لوگوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ یہ خانگی افواج عصری اسلحہ سے لیس ہوں گی ۔ حیرت اور دلچسپی بلکہ قابل غور بات یہ ہیکہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو کرایہ کے ان سپاہیوں اور خانگی فوج کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے لیکن بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والی پولیس اورحکومتیں ان خانگی افواج سے مجرمانہ غفلت برتتے ہیں ۔ ایسی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں جیسے انہیں حکومت ‘ دستور اور قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے ان کی دھجیاں اڑانے والی خانگی فوج کے بارے میں کچھ ہی پتہ نہیں ۔ ہاں اگر کسی مسلمان کے ہاتھ میں لاٹھی بھی نظر آجائے تو راتوں رات نہ صرف اس کی گرفتاری عمل میں آتی ہے بلکہ اسے حراست میں اس قدر جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جاتی ہیں کہ وہ کئی دن تک چلنے پھرنے اُٹھنے بیٹھنے کے قابل نہیں رہتا ۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں میں موجودہ چند عناصر کے ایسے ہی دوغلے پن کے نتیجہ میں ملیشیا کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔یہ راست دستور اور قانون کو چیلنج کرنے لگی ہیں جہاں تک ہندوستان میں خانگی فوج کا سوال ہے ‘ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے اس کی بنیاد ڈالی اور کرایہ کے سپاہیوں پر مشتمل فوج کے رجحان کو فروغ دیا ۔ اس ضمن میں انہیں اعلیٰ ذآت سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی بھرپور تائید حاصل رہی ۔ خانگی فوج یا ملیشیا کے معاملہ میں جرنیل سنگھ بھنڈاں والا کی ملیشیا کافی شہرت اختیار کرگئی تھی ۔ 1984ء میں جرنیل سنگھ بھنڈروالا کو ہندوستانی فوج نے گولڈن ٹمپل پر کئے گئے آپریشن بلیو اسٹار میں ہلاک کیا ۔ 90کے دہے میں جنوبی ہند کے بعض مقامات بھی ملیشیا کے ضمن میں کافی بدنام ہوئیں ۔ 1970ء میں تو چمبل کی وادیوں میں ڈاکوؤں نے باضابطہ اپنی فوج تیار کر کے دہشت مچا رکھی تھی ۔ رنویر سینا اور کوئیر سینا جیسی خانگی افواج کی ذات پات کی بنیاد پر تشکیل عمل میں آئی ۔ 1970 – 80ء میں ذات پات کی بنیاد پر وجود میں آنے والی خانگی افوج کے بہت زیادہ چرچے رہے ۔ آج کل ایک اور خانگی فوج سوادھین بھارت سبھاش سینا ( ایس بی ایس ایس ) کے بہت زیادہ چرچے ہیں ۔ اس ملیشیا میں سمجھا جاتا ہیکہ 3000 نوجوان شامل ہیں ۔ رام وار شکار یادو اس خانگی فوج کا لیڈر تھا جو متھرا میں سرکاری پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا ۔ رام وارشکا یادو کی زیرقیادت خانگی ملیشیا نے 220ایکڑ اراضی پر محیط جواہر باغ پر ناجائز قبضہ کرلیا تھا اور جب پولیس اس ناجائز قبضہ کو برخواست کرنے کیلئے پہنچی تب پولیس اور یادو کے مسلح گارڈس میں تصادم ہوگیا جس میں متھرا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مکل دیویدی کے بشمول دو پولیس عہدیدار دیگر 22لوگوں کے ساتھ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ پولیس کو یادو کی ملیشیا کے قبضہ سے بھاری مقدار میں نہ صرف اسلحہ دستیاب ہوئے بلکہ AK-47 رائفلوں کی استعمال شدہ گولیاں یا کارتوس بھی ملے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہیکہ یہ ملیشیا کس طرح ہندوستانی دستور اور قانون کا مذاق اُڑا رہی تھی ‘ پر افسوس کہ سیاستداں بالخصوص بی جے پی قائدین سوادھین بھارت سبھاش سینا کی تائید وحمایت میں آگئے اور اکھلیش یادو حکومت نے بھی سارا الزام متھرا کے انتظامیہ پر ڈال دیا ۔ اعلیٰ ذات کے ہندو دلتوں اور نکسلائٹس سے حفاظت کیلئے ملیشیا قائم کر رکھی ہیں جس میںکرایہ کے ہزاروں سپاہی کام کررہے ہیں ۔ ایسی ہی ایک تنظیم راشٹریہ سماج سیوا سمیتی (RSSS) ہے اس کی قیادت خود ساختہ ہندو مذہبی قائد رامپال کرتا ہے ۔ ہائیکورٹ کی ہدایت پر ہریانہ پولیس نے بڑی مشکل سے رامپال کے ستلوک آشرم کو جو ہسار کے بروالا میں ہے نومبر 2014ء کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا لیکن اس سے قبل پولیس کی کو تقریباً 6000انتہائی تربیت یافتہ اور عصری اسلحہ سے لیس کرایہ کے سپاہیوں سے لڑنا پڑا تھا جس میں رامپال کے مسلح حامیوں نے بندوقوں ‘ پتھروں اور پٹرول بموں کا آزادانہ طور پر استعمال کیا ۔ رامپال کے حامی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے گرو کو گرفتار کیا جائے ۔ یہ ڈرامہ چار دن تک چلتا رہا اور 14نومبر 2014ء کو رامپال نے بالآخر خودسپردگی کردی  ۔ پولیس نے ریاست کے خلاف جنگ کے الزام میں رامپال اور اس کے 1000سے زائد حامیوں کے خلاف بے شمار مقدمات درج کئے ۔

انڈیا ٹائمز ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ رامپال کی خانگی ملیشیاء نے عصری اسلحہ ایسڈ ٹینکرس ‘ کروڈبم اور پٹرول بم استعمال کئے ۔ ان لوگوں نے رامپال کی سیفٹی کیلئے کوئک ری ایکشن سمیتی بھی تشکیل دے رکھی تھیں ۔ بات چیت کیلئے رامپال کی ملیشیاء واکی ٹاکی کا استعمال کرتی تھی اور آشرم میں ایک ’’ وار روم ‘‘ کے ذریعہ ان پر کنٹرول کیا جاتا تھا بعد میں پولیس نے انکشاف کیا کہ رامپال کی فوج کمپنیوں اور پلاٹونس میںمنقسم تھی اور ہر کمپنی یا پلاٹون کی قیادت ایک کمانڈر کرتا تھا ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہیکہ مذہب کی اڑ میںپُرتعیش زندگی گذارنے والا رامپال اپنے سپاہیوں کو معقول تنخواہ دیا کرتا تھا اس کیلئے کام کرنے والے سابق فوجیوں کو 40ہزار روپئے تنخواہ دی جاتی تھی ( یہ تنخواہ کمانڈر کیلئے تھی ) سب کمانڈر کو 25 ہزار اور دیگر کو 15ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی تھی ۔ رپورٹ  کے مطابق ڈیرا اسچاسودا کے رہنما گرمیت رام رحیم نے بھی اپنی الگ ملیشیا بنا رکھی ہے جس میں زائد از 8000 کرایہ کے سپاہی کام کررہے ہیں ۔ گرمیت رام رحیم کا ہیڈ کوارٹر بھی ہریانہ کے سرسا میں ہے ۔ انہوں نے ایم ایس ڈی نامی ایک فلم بھی بنائی ۔ گرمیت رام رحیم پر قتل کے الزامات بھی ہیں ۔ بتایا جاتا ہیکہ ان کی 8000سپاہیوں پر مشتمل ملیشیاء ریاست کے خلاف لڑنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتی ہے ۔ رام رحیم کا سرسا میں ہزارہا ایکڑ پر پھیلا آشرم ہے جہاں سمجھا جاتا ہیکہ ملیشیاء کو تربیت دی جاتی ہے ۔ یوگا گرو بابا رام د یو نے بھی یو پی اے دور حکومت میں 11000 افراد  پرم شتمل ملیشیاء کو تربیت دینے کی دھمکی دی تھی۔ ان کاکہنا تھا کہ ہر ضلع سے کم از کم 20 نوجوانوں کو بھیجئے تاکہ ہم انہیں شاہسترا اور شاسترا( ہتھیاروںکی تربیت) دیں تاکہ دہلی کے رام لیلا میدان میں ہم دوبارہ کوئی جنگ نہ ہاریں ۔ خانگی ملیشیاؤں کاجب ذکر آتاہے تو بہار میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی جانب سے قائم کردہ رنویر سینا کا حوالہ ضرور دیا جاتا ہے ۔ اعلیٰ ذات کے زمینداروں کی اس خانگی فوج میں 12000 سپاہی ہیں ۔ بھومی پار زمینداروں نے کمیونسٹوں کے خوف کے مارے یہ ملیشیاء تشکیل دی تھی ۔ یہ سینا جس کا 1994ء میں بھوجپور میں قیام عمل میں آیا ۔ نکسلائٹس اور سی پی آئی ۔ایم ایل کے صفائے کیلئے بنائی گئی 1997میں رنویر سینا نے لکشمی پور میں دلتوں کا قتل کیا جس میں 58دلت مارے گئے ۔ بہار میں رنویر سینا کے علاوہ کوئر سینا ‘ کسان سرکھشا سمیتی ‘ بھومی سینا ‘ لورپک سینا ‘ برہما رشی سینا ‘ کسان سنگھ ‘کسان سیوک سماج ‘ سن لائٹ سینا ‘ سواما لبریشن فرنٹ ‘ کسان سنگھ ‘ کسان مورچہ ‘ گنگا سینا ‘ گرام سرکھشا پریشد اور مزدور کسان سنگھ جیسی ملیشیاء بھی وجود میں لائی گئیں ۔ حیرت اس بات پر ہیکہ ہندوستانی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ملک میں ملیشیاء کی موجودگی کی تصدیق کے باوجود حکومت اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اگر کوئی مسلم تنظیم اس طرح کا قدم اٹھانے کی بھی بات کرتی تو اس کے خلاف قانون کی متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج کردیئے جاتے ۔ اسکے قائدین و کارکنوں کی زندگیاں اجیرن کردی جاتی لیکن جو لوگ ہندو مذہب کی آڑ میں عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے مصروف ہیں اور اپنے مفادات کے حفاظت کیلئے حکومت کے خلاف جنگ سے بھی گریز نہیں کرتے حکومت اور پولیس ان کے طرف پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی ۔

TOPPOPULARRECENT