Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / اعلیٰ عدالتوں میں ہندی کا استعمال ناممکن

اعلیٰ عدالتوں میں ہندی کا استعمال ناممکن

لوک سبھا میں مرکزی وزیر کرن رجیجو کا بیان
نئی دہلی ۔ 10 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے آج بتایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کی منفی رپورٹ کی بناء اعلیٰ عدالتوں میں ہندی کے استعمال کو لازمی قرار نہیں دیا جاسکا ۔ انہوں نے لوک سبھا میں بتایا کہ فی الحال 4 ریاستوں اترپردیش ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور بہار کی ہائی کورٹس میں ہندی زبان زیر استعمال ہے ۔ تاہم چیف جسٹس آف انڈیا کی منفی رپورٹ کی وجہ سے سپریم کورٹ اور دیگر ہائی کورٹس میں ہندی کے استعمال کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا اور اس مسئلہ پر مکرر غور و خوض کے لیے دوبارہ بھیج دیا گیا ۔ وقفہ صفر کے دوران ایک رکن یہ شکایت کی کہ پٹنہ ہائی کورٹ میں ہندی کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔ مسٹر کرن رجیجو نے کہا کہ قرار واقعی ایسا ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ریاست کے ارکان پارلیمنٹ کو چاہئے کہ یہ مسئلہ بہار کے گورنر اور چیف منسٹر سے رجوع کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ، ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کے فروغ کے حق میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سرکاری زبان کو یہ شکایت موصول ہوئی کہ مرکزی حکومت کے اداروں کی جانب سے ہندی میں کی گئی مراسلت کا جواب انگریزی میں دیا جارہا ہے ۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہندی میں موصولہ میں 99.4 فیصد خطوط کا جواب صرف ہندی میں دیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات صحافتی اعلامیے ( پریس ریلیز ) انگریزی میں جاری کیے جاتے ہیں اور اس طرح کی شکایات کو متعلقہ محکمہ کے سربراہ سے رجوع کردی جاتی ہے تاکہ قواعد کے مطابق مناسب کارروائی کی جاسکے ۔۔

دشمن کی جائیدادوں پر اجیت ڈول
کے مراسلہ کی تلاش
نئی دہلی۔/10مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) معتمد داخلہ راجیو مہرشی نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے روبرو یہ انکشاف کیا ہے کہ  دراصل اجیت ڈول نے جنہیں 1936 میں ہندوستانی قونصل کی حیثیت سے اسلام آباد میں متعین کیا گیا تھا ہندوستان کو موسومہ  ایک مراسلہ میں یہ اطلاع دی تھی کہ تقسیم ہند کے وقت نقل مقام کرنے والوں کی جائیدادوں کو پاکستان نے دشمن کی املاک قرار دیتے ہوئے قرق کرلیا ہے۔ مہرشی نے بتایا کہ حکومت اس مکتوب کا پتہ چلانے کی کوشش میں ہے جو کہ غائب ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT