Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / اعلی شرح کے ساتھ دیرپا ترقی کیلئے قیمتوںمیں استحکام ضروری : ریزرو بینک

اعلی شرح کے ساتھ دیرپا ترقی کیلئے قیمتوںمیں استحکام ضروری : ریزرو بینک

ممبئی 5 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) گورنر ریزرو بینک آف انڈیا رگھو رام راجن نے آج افراط زر کے خلاف اپنے موقف کو ایک بار پھر واضح کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہی زیادہ اور دیرپا شرح ترقی کی ضمانت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے تاہم یہ بھی تیقن دیا کہ اگر تمام امور ان کی توقع کے مطابق رہتے ہیں تو وہ شرح سود میں کمی بھی کرسکتے ہیں۔ انہو

ممبئی 5 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) گورنر ریزرو بینک آف انڈیا رگھو رام راجن نے آج افراط زر کے خلاف اپنے موقف کو ایک بار پھر واضح کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہی زیادہ اور دیرپا شرح ترقی کی ضمانت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے تاہم یہ بھی تیقن دیا کہ اگر تمام امور ان کی توقع کے مطابق رہتے ہیں تو وہ شرح سود میں کمی بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف افراط زر کی شرح کم ہونی چاہئے بلکہ میکرو سطح پر حالات بہتر ہونے چاہئیں اور بیرونی حالات بھی سازگار ہونے چاہئیں۔ رگھو رام راجن نے آر بی آئی معاشی پالیسی کے اعلان کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ضروری ہوگا اس وقت تک ہی شرح سود اضافی رہے گا اس سے زیادہ نہیں رکھا جائیگا ۔ اگر افراط زر کی شرحوں کو کم کرنے کیلئے ضروری ہو تو شرح سود میں کمی کی گنجائش نکل آئیگی۔ ریزرو بینک نے اپنی جانب سے تیسری مرتبہ دو ماہی معاشی پالیسی کا اعلان کیا ہے اور اس میں تمام طرح کے شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے اور کسی طرح کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ بینک نے کہا کہ افراط زر کی شرح میں جو اضافہ ہے اس کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے شرح سود میں کمی نہیں کی گئی ہے تاہم ایس ایل آر میں 0.5 بنیادی پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں بازاروں میں مزید 40000 کروڑ روپئے کی رقم دستیاب ہوسکتی ہے ۔ گورنر آر بی آئی نے کہا کہ ہم ایک مثبت راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر ہرے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ جنوری سے 6 فیصد کی شرح سے ترقی ہوسکے اور جنوری 2016 تک آٹھ فیصد کی شرح سے ترقی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترقی کے مخالف نہیں ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی کے فائدے اسی وقت مل سکتے ہیں جب ملک کی معیشت کو افراط زر سے راحت مل سکے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ در اصل افراط زر کی شرح کو کم کرنے کی جدوجہد ہے ۔ ہم اس لڑائی کو جیتنا اور ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جو ترقی کیلئے سازگار ہوں۔ مسٹر رگھو رام راجن نے افراط زر کی شرح کو مقررہ نشانہ تک کم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تعلق سے جو امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں وہ اب مزید مستحکم ہوگئی ہیں۔ رگھو رام راجن نے آج کہا کہ ہندوستان بحران کے وقت سے آگے نکل آیا ہے اور اب اس نے اپنے آپ کو ایسے مقام پر لالیا ہے جہاں سرمایہ کاری یہاں اپنی رقم مشغول کرسکتے ہیں۔رگھو رام راجن نے اپنی دو ماہی پالیسی کے اعلان کے بعد آر بی آئی ہیڈ کوارٹرس پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی فورمس میں وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ اب ہندوستان بحران کا شکار معیشت نہیں رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں گذشتہ سال اسطرح کے اندیشے ظاہر کئے جارہے تھے لیکن اب ان کے خیال میں یہ اندیشے بھی برقرار نہیں ہیں۔ آج اپنی پالیسی کے اعلان میں ریزرو بینک کی جانب سے شرح سود میں کسی طرح کی تبدیلی سے گریز کیا گیا ہے ۔

بینک نے تاہم رقومات کی دستیابی کو سہل بنانے کیلئے ایس ایل آر میں 50 بنیادی پوائنٹس کی کٹوتی کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک خارجی صورتحال کا سوال ہے ان کے خیال میں سیاسی استحکام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور حکومت اور آر بی آئی کی جانب سے اصل بنیادی عوامل کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی خسارہ کو حکومت کی تجویز کے مطابق کم سے کم کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں بھی کمی درج کی گئی ہے اور بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں کہ افراط زر کی شرح سے نمٹنے کے اقدامات کئے جائیں گے اب وہ مزید مستحکم ہوگئی ہیں ۔یہ واضح کرتے ہوئے کہ افراط زر کی شرح میں اضافہ کے نتیجہ میں بیرونی سرمایہ کار فکر مند ہیں انہوں نے کہا کہ انہیں اصل فکر یہی ہے کہ آیا ریزرو بینک افراط زر پر قابو پانے میں کامیاب بھی رہے گا یا نہیں ۔ کیونکہ اگر یہ شرح برقرار رہتی ہے تو ان کے فوائد متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بینک کی کوششوں کے نتیجہ میں افراط زر کی شرح میں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT