Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / افرازل الاسلام کا بہیمانے قتل ملک کے سکیولرزم پر بدنما داغ۔ جمعیتہ علماء 

افرازل الاسلام کا بہیمانے قتل ملک کے سکیولرزم پر بدنما داغ۔ جمعیتہ علماء 

قتل کے خلاف ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی قیادت میں جمال پور عیدہ گاہ پر مظاہرہ ‘ صدرجمہوریہ کے نام پر ضلع انتظامیہ کو میمورنڈم
مہلوک کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف او رقاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے جانے کا مطالبہ کیاگیا
علی گڑھ۔ قاری محمد قمر عالم صدیقی نائب صدر جمعیتہ علماء علی گڑھ نے راجستھان کے راجسمند ضلع میں قتل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پچاس برس کے افرازالاسلام کا زندہ جلا یاجانا ہندوستان کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ انہو ں نے کہاکہ یہ صرف قتل نہیں بلکہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سماج دشمن عناصر کشمیر سے کنیا کماری تک اور کچھ سے کوہیما تک ہندوستان کو بھگوا کفن میں لپیٹا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مقتول کے گاؤں میں ماتم کاماحول ہے اس کے علاوہ اب مفلس نادار طبقہ پردیش میں مزدوری کراپنے عیال کا پیٹ بھرنے کے بھی کہیں آنے جانے سے گھبرانے لگے ہے۔انہوں نے کہاکہ جس طرے سرعام مقتول افرازالاسلام کو قتل کیاگیا ہے اسی طرح یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو جلد ازجلد کیفر کردار تک پہنچائے۔تاکہ آئندہ کوئی ایسی حیوانیت سوز اور گھناؤنی حرکت نہ کرسکے۔مولانا رمیز علی خان نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی شخص اس طرح کے جرم اسی وقت انجام دیتا ہے جب اس کو بچنے کی پوری امیدہوتی ہے ۔

انہو ں نے کہاکہ ا ن بھیڑوں کی جبکہ انسانی بستی نہیں ہے بلکہ قید خانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابل غور بات یہ ہے کہ کانگریس کے لیڈر منی شنکر ائیرنے وزیراعظم کے متعلق کچھ کہاتو خود وزیر اعظم نے پوری ملک کو سرپر اٹھالیامگر افسوس راجستھان کے ایک گاؤں میں ایک بے بس اور نہتے بے قصور مزدور مقتول کی تعزیت کے لئے وزیراعظم کے پاس کوئی الفاظ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس واقعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ بی جے پی نے ملک بھر میں زہر پھیلا دیا ہے ۔ مولانا جابر ولی نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک ایک جانب ملک کی سیول سوسائٹی انصاف پسند اور انسانیت نواز باشندوں کی جانب سے کوشاں ہے کہ ملک بھر میں امن وامان قائم ہوسکے وہیں پر دوسری جانب ملک کے مختلف گوشوں سے مسلسل سننے او ر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جو سلوک میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ کیاگیا ‘ تقریبا وہی سلوک اب ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ بھی ہورہا ہے ۔

راجستھان کے ایک گاؤں میں انسانیت کو اس قدر شرمسار کیاگیا ہے کہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک میں انسانیت شرمند ہ ہوکر جائے پناہ کی تلاش کررہی ہے۔ ڈاکٹر سلیم شاہی نے کہاکہ بی جے پی نے 2014میں اقتدار میںآنے کے بعد سے ہی 2019کا الیکشن جیتنے کی تیاری شروع کردی تھی۔ بی جے پی کو اچھی طرح علم تھا کہ ایک مرتبہ مرکز میں اقتدار میںآکر اس کو برقرار رکھنا او راپنی کارکردگی کے بل پر دوبارہ حکومت قائم کرنا مشکل ہے ۔ مرکزی اور ریاستوں میں اقتدار پر قبضہ کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے وہ یہ ہے کہ ماحول کو کسی بھی طرح سے خراب کیاجائے کیونکہ کشیدگی بھرے ماحول میں ہی بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں لایاجاسکتا ہے۔ فرقہ پرستوں کی زبانیں مودی کے اقتدار میں آتے ہیں دراز ہوگئیں۔ایسی دراز ہوئیں کہ مسلمانوں کو پاکستان جانے تک کا مشورہ دیاجانے لگا ۔ لوجہاد کا شوشہ چھوڑا گیا‘ رام زادہ حرام زادہ کی بات کہی ۔

اسی پر بس نہیں کیاگیا اس کے فوراً بعد ہی نام نہاد گاؤ رکشکوں کی شکل میں دہشت گردوں کا گروہ ملک بھر میں سرگرم ہوگیاجس نے دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ مسلم مزدور افرا زلاسلام کا زندہ جلاکر قتل کئے جانے کے خلاف ال انڈیامجلس اتحاد المسلمین ضلع صدر سید کاظم علی کی قیادت میں جمال پورہ عیدگاہ پر زبردست مظاہرہ کیاگیااور صدر جمہوریہ کے نام ایک میمورنڈ ضلع انتظامیہ کو دیاگیحا۔ میمورنڈم میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ مہلوک افرازالحق کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف کیاجائے او رقاتلوں کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچایاجائے ۔

اس موقع پر سید ناظم علی نے کہاکہ افرازالاسلام ا قتل انسانیت سوز ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا بدنما داغ ہے جسے چھڑایا نہیں جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مظلوم کو جس سفاکی او روحشیانہ پن کے ساتھ قتل کیاگیا ہے اس سے ہر انصاف پسند او ر ذی ہوش حیرا ن ‘ پریشان ہے۔ انہو ں نے کہاکہ اس واقعہ پر ملک کا امن پسند باشندہ غم زدہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سے ایک کمزور مزدور پر فرضی لوجہاد کی کہانی بناکر دھا دار ہتھیار سے مارا گیا اور جب وہ بے بس درد او رتکلیف سے چیخنے تڑپنے لگا اس کو زندہ جلادیاگیا ہے ۔

ان سماج دشمن عناصر کے حوصلے یہ بتارہے ہیں کہ ان کے ارادے کیاہیں اور ان افراد کو حوصلہ کون دے رہا ہے۔انہو ں نے کہاکہ ہنوستان کے اندر مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے ہاتھوں بے بس اور بے قصور مسلمانوں کو کبھی گاؤ رشکہ ‘ کبھی لو جہاد کے نام پر مارا جارہا ہے اور ملک کے لااینڈآرڈر پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ابھی ہم اپنے ایک مقتول کر بھی نہیں پاتے ہیں۔ ابھی بیواؤں کے آنسو خشک بھی نہیں ہوپاتے ‘ یتیموں کی سسکیاں ابھی تھم بھی نہیں پاتی ہیں‘ خوف زدہ بچوں کا خوف ابھی کم نہیں ہوتامقتولیں کی قبروں کی مٹی کی نمی ابھی ختم بھی نہیں ہوپاتی ہے کہ ایک دوسرا بے گناہ دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کردیاجاتا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ پر واقعہ کے پچھلے واقعوں سے کہیں زیادہ دہشت ناک ہوتا ہے ۔

انہو ں نے کہاکہ اخلاق پھر پیہلو خان‘ جنید ‘ عمر او رافرازالاسلام جیسے بے قصور مسلمانوں کو کبھی بھیڑ ‘ تو کبھی دہشت گرد تنظیمیں نشانہ بنارہی ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ شمبھولال جیسے افراد نے قتل کردیا لیکن واہ رہے حکومت اندھی ‘ بہری ‘ او رگونگی بن کر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو تنظیمیں شمبھولال جیسے سماج دشمن عناصر کو بچانے میں مصروف ہیں ان تنظیموں پر پابندی عائد نہیں کی جاتی ہے تو ملک کی وحدت بچانے کی خاطر آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کے ہزاروں کارکناں سڑکوں پر اتر ائیں گے۔اس موقع پر چودھری زاہد‘ انیس ملک ‘ ارشاد صداقی‘ مشتاق ملک ‘ رضوان عباسی‘ شان محمد ‘ شمشیر ملک‘ علی غفران ‘ مولانا ہاشم ‘ ڈاکٹر بنی حسن وغیر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT