Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / افرازل کے قتل کے بعد بنگالی مزدوروں میں خوف

افرازل کے قتل کے بعد بنگالی مزدوروں میں خوف

بڑی تعداد میں مزدورگھر واپس، خاندان کا پیٹ بھرنے ’جدو جہد‘ کرنے والے ’ لو جہاد ‘کیا کرینگے:مقامی افراد
مالدہ(مغربی بنگال)۔ 13دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال کا مالدہ ، مرشدآباد اور شمالی دیناج پور اضلاع بنگال کا مسلم اکثریتی علاقہ ہے ۔ انتہائی پسماندہ اور غربت زدہ علاقہ ہونے کے ساتھ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے باشندوں کو مختلف قسم کے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے ۔ فیکٹری اور کارخانے نہیں ہونے کی وجہ سے ان اضلاع میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم سے محرومی کی وجہ سے ان علاقوں کے بیشتر افراد اپنا گھر چلانے کیلئے راجستھان، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش اور ملک کی دوسری ریاستوں میں راج مستری اور تعمیراتی پروجیکٹ میں مزدوری کا کام کرتے ہیں ۔راجستھان کے راجسمند ضلع میں افرازل خان کے قتل کے بعدورکروں کی سیکورٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔ 8دسمبر کے بعد بڑی تعداد میں ورکرس اپنے اپنے گھرواپس آرہے ہیں ۔ بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل کالیا چک کا یہ علاقہ مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے ۔مقتول افرازل کے گاؤں سید پور میں چند گھرانے ہی خوش حال ہیں زیادہ تر گھروں کے مرد حضرات باہر کام کرتے ہیں۔

سید پور گاؤں کے ایک باشندے عقیل جو خود بھی راج سمند میں مزدوری کاکام کرتے ہیں نے بتایا کہ 8دسمبر کو یہ واقعہ پیش آنے کے بعد اب تک راجسمند ضلع سے کئی درجن افرا گاؤں واپس آچکے ہیں اور کئی لوگ دہلی اور دیگر جگہ چلے گئے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ صرف سید پور گاؤں میں اب تک30سے 40لڑکے واپس آچکے ہیں ۔اس نے بتایا کہ اس کے آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی واپس آچکے ہیں ۔ ایک نوجوان لڑکے نے بتایا کہ چوں کہ راجستھان اور دیگر ریاستوں میں تعمیراتی کام زیادہ ہوتے ہیں اور ہمیں خالی نہیں بیٹھنا پڑتا ہے اس لیے ہم لوگ وہاں کام کرنے کیلئے جاتے ہیں۔اس نے بتایاکہ اور ہمیں کام اس لیے زیادہ ملتے ہیں کہ ہم لوگ بہت ہی کم روپے مزدوری پر کام کرتے ہیں ۔ ایک پرائیوٹ پرائمری اسکول میں پڑھانے والے اشفاق عالم جو سید پور گاؤں کے باشندے ہیں اور افراز ل خان سے ملنے کیلئے آنے والے سیاسی لیڈروں ، میڈیا اہلکاروں اور سماجی کارکنوں سے بات کرتے ہیں اور اس خاندان کی ترجمانی کرتے ہیں نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کا مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہوجاتا ہے کیوں کہ زیادہ پڑھنے کے بعد مزدوری کرنے سے لڑکے ہچکچاتے ہیں اور وہ بے روزگار بن کر والدین کیلئے بوجھ بن جاتے ہیں۔اس لیے زیادہ تروالدین اپنے بچوں کو10ویں تک تعلیم دلانے کے بعد راجستھان، مدھیہ پردیش ، گجرات اور آندھرا پردیش جیسے علاقوں میں مزدوری کرنے بھیج دیتے ہیں ۔مگر جب انہیں سیکورٹی نہیں ملے گی تو وہ اب کہاں جائیں گے اور کیا کریں گے ۔اشفاق نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب یہ علاقہ ہونے کی وجہ سے ان ورکروں کو شک کی نظر سے بھی دیکھاجاتا ہے ۔کبھی بھی بنگلہ دیشی ہونے کی شک میں گرفتار کرلیے جاتے ہیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ غربت کے شکار افراد کیلئے سب سے بڑی ترجیح اپنے گھرکے لوگوں کو کھانا کھلانا ہوتا ہے ایسے یہ لوگ جہاد کیا کریں گے اور کیا ’لو ‘(محبت) کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT