Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / افریقہ میں مہلک مرض ایبولا ساری دنیا میں چوکسی

افریقہ میں مہلک مرض ایبولا ساری دنیا میں چوکسی

جان لیوا مرض کا کوئی علاج نہیں ، احتیاط بہتر عالمی ادارہ صحت کا مشورہ ،ہندوستان محفوظ

جان لیوا مرض کا کوئی علاج نہیں ، احتیاط بہتر عالمی ادارہ صحت کا مشورہ ،ہندوستان محفوظ

حیدرآباد /8 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) انتہائی خطرناک و مہلک مرض ایبولا کی وباء مغربی افریقہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ ایشیائی ممالک کے بالخصوص ہندوستان میں تاحال ایبولا کا کوئی کیس نہیں پایا گیا ہے ۔ جس کے پیش نظر اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے اس وباء سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر کے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ایبولا ایک ایسا زہریلا مادہ یا زہریلا جرثومہ ہوتا ہے جو انسان کے جسم میں خون کے بہاؤ پر حملہ کرتا ہے ۔ سائنسدانوں نے ایبولا کو جریان یا سیلان خون کے بخار کا نام دیا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ایبولا سے متاثرہ شخص کے جسم کے کسی یا تمام حصوں سے خون رسنے لکتا ہے ۔ بالخصوص سے سے بہت زیادہ خون رستا ہے اور کثرت سے خون رسنے کے سبب مریض فوت ہوجاتا ہے ۔ ایبولا ایک انتہائی مہلک وباء ہے اور خطرناک حد تک متعدی ہے ۔ مریض کا جسمانی سیال مادہ سے خون ، پسینہ ، تھوک ، پیشاب وغیرہ لگنے سے یہ مرض دوسرے شخص تک پھیل جاتا ہے ۔ تاہم یہ ہوا کہ ذریعہ ایک سے دوسرے تک نہیں پھیل سکتا اس انتہائی مہلک مرض سے متاثر 90 فیصد افراد اندرون ایک ہفتہ فوت ہوجاتے ہیں۔ اس مرض کا ہنوز کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ہے ۔ بالعموم آثار و علامات کی بنیاد پر دوائیں دی جاتی ہیں اور مریض کے پتہ ہونے کی شاذ و نادر ہی کوئی امید کی جاسکتی ہے ۔
ایبولا کی علامات
٭ بخار ، سردرد ، دست و قئے ، جوڑوں اور رگ پٹھوں کا درد ، پیٹ میں درد ، بھوک میں کمی ۔
خود کو کیسے محفوظ رکھیں
بالخصوص موسم بارش میں محتلف وباؤں سے بچنے کیلئے احتیاطی اقدامات ضروری ہیں ۔
ہاتھ صابن سے دھوتے رہیں اور صاف ستھرے کپڑے سے ہاتھ پوچے جائیں ۔ افراد سے غیر ضروری جسمانی روابطوں جیسے مصاحفہ وغیرہ سے گریز کیا جائے ۔ اپنے آپ کو صرف اپنے گھر میں پکائی غذاؤں تک ہی محدود رکھیں ۔ گھر اور اپنے بسنے اور اٹھنے بیٹھینے کی جگہ کو صابن اور ڈٹرجنٹس کے ذریعہ دھوئیں اور جراثیم کش ادویات چھڑکاؤ کریں ۔ کیونکہ ایبولا جیسا زہرہ مادہ اور جرثومہ جراثیم کش ادویات ، گرمی ، سورج کی راست روشنی صابن اور ڈٹرجنٹس کے آگے زندہ نہیں رہ سکتا اور چند سکنڈ میں ختم ہوجاتا ہے ۔
٭ زندہ چوہے اور جانوروں کو نعشوں سے مرض کا پھیلاؤ ہوسکتا ہے۔ پالتو جانوروں کو صحتمند رکھا جائے ۔ چوہوں کو ختم کیا جائے کیونکہ چوہے بھی ایبولا وائرس پھیلاسکتے ہیں ۔ گھر کے اطراف ماحول صاف ستھرا رکھیں بالخصوص کسی چھوٹے بڑے جانور کی نعش موجود ہوتو فی الفور اس کو ٹھکانے لگایا جائے کیونکہ بعض جانوروں کی نعشوں میں بھی ایبولا وائرس پیدا ہوسکتا ہے ۔جانوروں کی نعشوں کو ہاتھ نہ لگایا جائے بلکہ دستانے استعمال کئے جائیں ۔
علاج سے احتیاط بہتر
آپ صاف ستھرے رہیں ، سب کو صاف ستھرا رہنے کی تلقین کریں ۔ بالخصوص پڑوسیوں ، گھریلو ملازمین کو تاکید کریں ۔ اپنے آپ میں یا کسی دوسروں میں مشتبہ علامات پائے جانے پر فی الفور ڈاکٹر سے رجوع ہوں ۔

TOPPOPULARRECENT