Saturday , October 20 2018
Home / Top Stories / افسانوی سیاسی کرداروں اور مصلحین کے مجسموں کی بیحرمتی

افسانوی سیاسی کرداروں اور مصلحین کے مجسموں کی بیحرمتی

وزیراعظم نریندر مودی اور قومی صدر بی جے پی امیت شاہ کا سخت کارروائی کا انتباہ

کولکتہ ؍ چینائی ؍ نئی دہلی ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکرجی کے مجسمہ کی آج کولکتہ میں بے حرمتی کی گئی جبکہ کل لینن اور چینائی میں پریار کے مجسموں کی بے حرمتی کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں وزیراعظم نریندرمودی نے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا اور ان واقعات کی مذمت کی۔ مجسموں کی بیحرمتی پر گذشتہ چند دن سے ایک برہمی کا سیلاب اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ مکرجی کے مجسمہ کو بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی بنیاد پرست تنظیموں کے کارکنوں نے جنوبی کولکتہ میں بیحرمتی کی کارروائی کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ واضح طور پر سوویت یونین کی افسانوی شخصیت ولادیمیر لینن کے مجسموں کی تریپورہ میں بیحرمتی کا ردعمل تھا۔ ایک مجسمہ کو بلڈوزر کے ذریعہ مبینہ طور پر دائیں بازو کے کارکنوں نے بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگاتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کیا تھا۔ مکرجی کے مجسمہ کی بیحرمتی میں ملوث تمام 7 افراد کو بشمول ایک خاتون گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کولکتہ پولیس کمشنر راجیو کمار نے اس کی اطلاع دی۔ تریپورہ کے واقعہ کے بعد دراویڑین تحریک کے بارے ای وی راما سوامی پریار کے مجسمہ کی ٹاملناڈو میں بیحرمتی کی گئی جبکہ فیس بک پر ایک سینئر بی جے پی قائد کا بیان شائع ہوا تھا کہ اس کے ردعمل کے طور پر ریاست گیر سطح پر احتجاج شروع ہوجائے گا۔ وی آر امبیڈکر کے ایک مجسمہ کی یوپی کے شہر میرٹھ میں نامعلوم افراد نے بیحرمتی کی جس کے نتیجہ میں دلت برادری احتجاج پر اتر آئی۔ موانا میں احتجاج کا پروگرام واپس لے لیا گیا کیونکہ ضلعی عہدیداروں نے پرانے مجسمہ کی جگہ امبیڈکر کے نئے مجسمہ کی تنصیب کا تیقن دیا۔ مجسموں کی بیحرمتی کے مسلسل واقعات پر وزیراعظم نریندر مودی نے ایسے واقعات کی سخت لب و لہجہ میں مذمت کرتے ہوئے توڑپھوڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا۔

وزیراعظم نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سے بھی اس بارے میں بات چیت کی اور ایسے واقعات پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ وزارت داخلہ نے ریاستوں کو ہدایت دی ہیکہ تمام ضروری اقدامات ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے کئے جائیں اور خاطیوں سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے۔ قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے ان واقعات کو ’’انتہائی بدبختانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کا کوئی رکن ایسی کارروائیوں میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اپنے مسلسل ٹوئیٹر پیغامات میں امیت شاہ نے توڑپھوڑ کے واقعات سے پارٹی قائدین کی لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ بی جے پی کئی نظریات پر یقین رکھتی ہے اور ہندوستان میں تمام نظریات کے بقائے باہم کی قائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجسموں کی توڑپھوڑ کرنے کی کوشش انتہائی بدبختانہ ہے۔ پارٹی ایسے واقعات کی تائید نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو اور تریپورہ کی بی جے پی شاخوں سے ان کی بات چیت ہوچکی ہے۔ اگر کوئی شخص جو بی جے پی کا رکن ہو، مجسموں کے انہدام میں ملوث ہو تو پارٹی اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسی بھی پارٹی کے قومی سکریٹری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ ٹاملناڈو بی جے پی میں آج پارٹی کارکن جسے کل پریار کے مجسمے کی توڑپھوڑ کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا، آج پارٹی سے خارج کردیا۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری راجہ کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت کی گئی اور اظہاررنج کیا گیا۔ امیت شاہ نے کہا کہ نظریات کا سامنا نظریات سے کیا جانا چاہئے، تشدد سے نہیں اور نہ کسی کے جذبات مجروح کئے جانے چاہئیں۔ تاہم اپوزیشن ڈی ایم کے اور مختلف چھوٹی چھوٹی تنظیموں نے ٹاملناڈو میں پریار کے مجسمہ کی بیحرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ چینائی اور کڈلور میں بی جے پی کے قومی سکریٹری راجہ کے پتلے جلائے گئے۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرین بشمول ان افراد کو جو چینائی میں بی جے پی کے دفتر پر دھرنا دینے کی کوشش کررہے تھے، گرفتار کرلیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مجسموں کے انہدام کی مذمت کی گئی۔ ایم وینکیا نائیڈو نے راجیہ سبھا میں کہا کہ جس نے بھی ایسا کیا ہے وہ پاگل ہوسکتا ہے۔ مغربی بنگال کی برسراقتدار ٹی ایم سی نے مجسموں کی بیحرمتی کو سخت شرمناک قرار دیا اور کہا کہ شاید مستقبل میں وویکانند، نیتاجی سبھاش چندربوس اور مہاتما گاندھی کے مجسموں کی بھی بیحرمتی کی جائے گی۔ ڈریک اوبرائن نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک کارروائی ہے۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ نے بھی ان واقعات کی مذمت کی۔ بی جے پی کے دفتر واقع کوئمبتور پر پٹرول بم پھینکے گئے تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ خاطیوں کی تلاش جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT