Sunday , December 17 2017
Home / جرائم و حادثات / افشاں جبین، مزید 10 دن کیلئے پولیس تحویل میں

افشاں جبین، مزید 10 دن کیلئے پولیس تحویل میں

سائبرآباد پولیس کی درخواست پر عدالت کا حکم، داعش میں بھرتیوں پر پوچھ گچھ کی کوشش
حیدرآباد 15 ستمبر (پی ٹی آئی) دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس (داعش) میں نوجوانوں کی بھرتیوں میں مبینہ طور پر ملوث ایک ہندوستانی خاتون کو شہر کی ایک مقامی عدالت نے آئندہ 10 دن کے لئے سائبرآباد پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ 37 سالہ افشاں جبین عرف ’نیکی جوزف‘ کاک تعلق ٹولی چوکی سے ہے لیکن وہ خود کو برطانوی شہری ظاہر کرتے ہوئے سوشیل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کو داعش میں بھرتی ہونے کی ترغیب دے رہی تھی۔ متحدہ عرب امارات سے افشاں جبین کو ملک بدر کردیا گیا تھا جس کے بعد 11 ستمبر کو شمس آباد ایرپورٹ پہونچنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا اور فوری طور پر ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور 12 ستمبر تک 14 دن کیلئے عدالتی تحویل میں دیا گیا تھا جس کے بعد وہ چنچل گوڑہ جیل میں قید ہے۔ قبل ازیں سائبرآباد پولیس نے عدالت میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے افشاں کو مزید پوچھ گچھ کے لئے اپنی تحویل میں دینے کی درخواست کی تھی۔ افشاں جبین کی ابوظہبی میں موجودگی کا پتہ چلایا گیا تھا۔ وہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئرنگ گریجویٹ سلمان محی الدین کے ساتھ معاون ملزم بھی ہے۔ سلمان کو جنوری میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ براہ ترکی شام پہونچنے کے مقصد سے دبئی کو روانگی کے لئے شمس آباد ایرپورٹ پر طیارہ میں سوار ہورہا تھا۔ پولیس نے کہاکہ 32 سالہ سلمان محی الدین جو امریکہ سے واپس ہوا تھا، دہشت گرد گروپ میں شمولیت کے لئے شام روانہ کی کوشش کررہا تھا۔ سلمان کی گرفتاری کے بعد افشاں جبین کی سرگرمیوں کا پتہ چلا اور وہ (افشاں) اُس وقت ہندوستانی سکیوریٹی اداروں کی نظروں میں آگئی جب سلمان محی الدین نے دوران پوچھ گچھ یہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے دبئی میں رہنے والی ایک برطانوی لڑکی نیکی جوزف کے ساتھ فیس بُک پر کئی اکاؤنٹس کھولا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ افشاں اس پر اثرانداز ہوتی ہوئی دبئی پہونچنے دعوت دی تھی تاکہ شام روانہ ہوسکے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان دونوں نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ کئی نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کی تائید کے لئے متحرک کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT