Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / افضل امام

افضل امام

کے این واصف
حضرات ایک کہاوت ہے ’’ایک بہاری سو پہ بھاری‘‘ ۔ اس کہاوت کے حوالے سے ہم نے کسی بہاری کو آزمایا تو نہیں لیکن میرے اچھے دوست عبید الرحمن صاحب جو پکے بہاری ہیں معلوم نہیں وہ سو پے بھاری ہیں یا نہیں مگر وہ مجھ پر ضرور بھاری ہیں۔ وہ مجھے نئے نئے چیلنجس دیتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں آپ فوری فلاں موضوع پر مضمون لکھئے ۔ کبھی خواہش کرتے ہیںکہ آپ فلاں صاحب پر خاکہ لکھئے ۔ مضمون نگاری یا خاکہ لکھاتو خیر ٹھیک ہے مگر ایک مرتبہ اس بندے نے تو مجھ کوایک شادی میں کسی شاعر کا لکھا سہرا پڑھنے کا کام سونپ دیا اور وہ جو بھی کام دیتے ہیں ، اس انداز سے کہتے ہیں کہ اس میں انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتے۔ جب شکایت کروں تو کہتے ہیں واصف بھائی دراصل مجھے آپ پر بڑا اعتماد ہے۔ آپ سے کہنے کے بعد مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ آپ میری خواہش ضرور پوری کریں گے ۔ حضرات! کسی دوست کا اعتماد حاصل کرنا نعمت سے کم نہیں۔ اسی لئے میں ان کی ہر بات مان لیتا ہوں۔

پچھلے ہفتہ عبید صاحب کا فون آیا ، کہا کہ ’’بہار فاؤنڈیشن سعودی چاپٹر‘‘ کے تحت معروف ادیب و شاعر جناب افضل امام کے اعزاز میں ایک نشست کا انعقاد ہے اور آپ کو اس محفل میں افضل امام پر ایک تعارفی خاکہ پڑھنا ہے ۔ میں نے اس مرتبہ بغیر کسی تردد و اعتراض کے مضمون لکھنے کی حامی بھرلی بلکہ عبید الرحمن خواہش نہ بھی کرتے تو میں یہ مضمون لکھتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افضل امام صاحب اردو کی بقاء ، ترقی و ترویج میں پچھلے 40 سال سے اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے ہیں اور میں ہر اس شخص کی عزت کرتاہوں اور اسے اپنا قابل احترام دوست مانتاہوں جو اردو زبان کی بقاء ، ترقی و ترویج اور ادبی روایات کے تحفظ میں اپنا وقت اور توانائیاں لگائے ہوئے ہے۔یہ ایک گھاٹے کا سودا ہے اور یہ گھاٹے کا سودا وہی کرسکتا ہے جواپنی زبان کے ساتھ محبت کا سچا جذبہ رکھتا ہے۔ حضرات !میں افضل امام کو صرف ان کی تحریروں اور ان کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے جانتا ہوں۔ ان سے ملنا توکجا کبھی ان سے خط و کتابت یا ٹیلی فونی رابطہ بھی نہیں ہوا۔ کوئی مہینہ بھر قبل جب وہ ریاض پہنچے تھے تو فون کیا تھا اور پھر ازراہِ کرم اپنی دو کتابیں ’’یادو کی خوشبو‘‘ (مضامین کا مجموعہ) اور ’’ذوقِ جنوں‘‘ (شعری انتخاب) اپنے کسی عزیز کے ذریعہ ارسال فرمایا ۔افضل امام صاحب سے فون پر یہ جان کر مسرت ہوئی کہ وہ ہمیں ہماری تحریروں کے حو الے سے جانتے ہیں۔ افضل امام کے اس انکشاف پر ہم نے اپنا کالر کھڑا کرتے ہوئے اپنے آپ سے کہا کہ میاں تم کو لوگ دور افتادہ شہر ٹورنٹو (کینیڈا) میں تمہارے کالمس کے حوالے سے جانتے ہیں۔

افضل امام صاحب کی بھیجی دونوں کتابیں کوئی ایک ماہ سے میرے آفس کی میز پر ہیں اور میں اپنے فرصت کے لمحوں میں ان کی نثری اور شعری تخلیقات پڑھتا رہا ۔ ایسے ادیب یا شاعر جس سے کبھی شخصی ملاقات نہ ہوئی ہو تو اس کی تحریروں کو پڑھ کر ذہن میں ایک خاکہ بن جاتاہے ۔ مگر چونکہ میرے سامنے رکھی کتابوں پر چھپی  افضل امام کی تصویر بھی تھی ۔ اس لئے ذہن میں خیالی خاکہ بنانے کی ضرورت نہیں پڑی لیکن متعدد بار تصویر دیکھنے کے باوجود اُن سے ملنے کا اشتیاق ہنوز باقی رہا۔ ہماری خوش بختی کہئے کہ ایک دن خود افضل امام صاحب نے فون کر کے ملاقات کا دن طئے کردیا ۔ طئے شدہ وقت پر وہ ہمارے پاس پہنچ گئے۔ یعنی اب تصویر والے نہیں بلکہ اصلی افضل امام ہمارے سامنے تھے۔ مگر تصویر والے اور اصل افضل امام میں فرق تھا ۔ یعنی اب انگور کشمش ہوگیا تھا اور انگور جب کشمش ہوجاتا ہے تو اس کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یعنی اب افضل امام کی قدر و قیمت ہمارے لئے اور بھی بڑھ گئی ۔ افضل امام سے ہوئی اس پہلی ملاقات میں ہمارے کچھ احباب اور بھی تھے۔ اس ملاقات میں ہم نے محسوس کیا کہ افضل امام صاحب نہ صرف محفلیں آراستہ کرنے میں کمال رکھتے ہیں بلکہ محفل پر چھا جانے کا گر بھی جانتے ہیں۔ محفل میں کافی دیر اُن سے گفتگو رہی جس سے ان کے گفتگو کا سلیقہ ، فراست، ادب پر اُن کی گہری نظر کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے اس مختصر وقت میں اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا، اپنی چالیس (40) سالہ کہانی کو مختصر کر کے یوں پیش کیا کہ دریا کو کوزے میں نہیں جام سفال (کلیا) اُتار دیا۔

افضل امام صاحب اس عمر سے مغربی دنیا میں آباد ہیں جس عمر میں لغزشوں کا ارتکاب فطری مانا جاتا ہے اور آپ تو جانتے ہی ہیں ، مغربی دنیا میں جہاں عریانیت طرز زندگی ہے، جہاں ادب ، لحاظ، شرم و حیا جیسے ، الفاظ لغت سے خارج کردیئے گئے ہیں۔ جہاں ہم مشرب سے زیادہ ہم مشروب پائے جاتے ہیں، جہاں بے پردگی تہذیب بن چکی ہے، جہاں انسانی اقدار اور روایتوں کا توڑنا اخلاقی جرم نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے ملک و ماحول میں افضل امام کا دامن تر نہیں ہوا کیونکہ ان کی بنیادی مذہبی تربیت بے حد مضبوط اور مستحکم تھی۔ افضل امام ساری زندگی نہ صرف اسلامی اقدار کی سختی سے پابندی کی بلکہ اس کی تبلیغ بھی کی۔افضل امام کواردو زبان و ادب ورثہ میں ملا تھا ۔ افضل امام نے اپنے ادبی ورثہ کی حفاظت کو اور ایسے ماحول میں اردو زبان ادب کی تبلیغ کی جہاں اردو جاننے والے یا اردو جاننے کا اعتراف کرنے والے خال خال ہی ملتے ہیں ۔ افضل امام نے چند ہم خیال احباب اور سینئر علمی شخصیات کے زیر سایہ ’’انجمن اردو ٹورنٹو‘‘ کا قیام عمل میں لایا ۔ اس انجمن نے کئی عالمی مشاعرے منعقد کئے جس میں ہند و پاک کے نامور شعراء نے شرکت کی۔

فعال و متحرک شخصیت کے مالک افضل امام نے زبان و ادب کی بقاء و ترقی کے سلسلہ میں ایک رسالہ ’’سخنور‘‘ بھی جاری کیا تھا ۔ افضل امام کو دنیائے ادب کا ہر فن مولا بھی کہا جاسکتا ہے۔ وہ بیک وقت ادیب ، شاعر، نقاد، مبصر اور صحافی ہیں۔ شاعری میں آپ کو علامہ کلیم عاجز سے شرف تلمیذ حاصل رہا۔ ان کی شاعری میں ترقی پسند فکر ، جدیدیت ، معاشی یا سیاسی نظریات نہیں ملتے۔ ان کی سادہ لو شاعری معاشرتی روابط ، انسانی احساسات و جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔ افضل امام کوئی چار دہائیوں سے شعر کہہ رہے ہیں لیکن اپنی مختلف الجہت مصروفیات اور کچھ طبیعت کے لاابالی پن کی وجہ سے اپنے کلام کی حفاظت نہ کرپائے ۔ حالیہ عرصہ میں اپنے اوراق پراگندہ کو اپنے قریبی دوست ڈاکٹر اسلم جاوداں کے تعاون سے یکجا کیا جو ’’یادوںکی خوشبو‘‘ اور ’’ذوقِ جنوں‘‘ کی شکل میں شائع ہوکر دنیائے ادب میں پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔
مرد کی زندگی میں عورت بیک وقت طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ حضرات یہاں عورت سے مراد’’بیوی‘‘ لیجئے تو آئیے اب اس مضمون کا پردہ گرانے سے قبل افضل امام کے کچھ درپردہ یا درون خانہ کا ذکر بھی ہوجائے۔ قارئین کرام ، شاید یہ دور جدید کا مشاہدہ ہو، کسی نے واٹس اپ پر لکھا کہ مرد اپنی بیوی کو ابتدائی زندگی میں بے پناہ چاہتا ہے اور ایک عرصہ بعد صرف پناہ چاہتا ہے۔ مگر یہ بات افضل امام پر صادق نہیں آتی۔ افضل امام نے کوئی 60 سال کی عمر میں اپنے مجموعے کلام شائع کروائے ۔ اپنی کتاب میں انہوں نے لکھا کہ ان مجموعوں کی طباعت و اشاعت میں جن شخصیات کی معاونت انہیں حاصل رہی ان میں افضل امام نے اپنی شریک حیات محترمہ تبسم بانو کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ان کی ادبی سرگرمیوں میں انہیں اپنی شریک حیات کا بھرپور تعاون حاصل رہتا ہے۔ حالانکہ عام مشاہدہ یہ ہے کہ ادیبوں اور شاعروں کی بیویاں اپنے شوہروں کی ادبی سرگرمیوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں بلکہ بسا اوقات لاتعلق سی رہتی ہیں۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ آج کے اردو لکھنے والوں کی بیویاں پڑھی لکھی تو ہوتی ہیں مگر اردو سے ناواقف رہتی ہیں۔ یہاں ہمیں ایک لطیفہ یاد آرہا ہے۔ ایک شاعر صاحب نے اپنی بیوی کو سردیوں کی رات ایک شعر سنایا جو یوں تھا۔

سردیوں کا موسم ہے آگ کی ضرورت ہے
تم ذرا قریب آؤ یہ بھی اک صورت ہے
شاعر کی انگریزی میڈیم بیوی نے شعر سنا اور بھڑک اٹھیں اور کہا آپ کے ذہن میں میرے متعلق کبھی کوئی اچھا خیال آئے گا ۔ آپ مجھے آگ سمجھتے ہیں اور فلاں فلاں … بے چارے شاعر نے سوچا تھا کہ شعر سن کر بیوی پگھل جائے گی مگر وہ تو گرم ہوگئی ۔ مگر ہم کہیں گے کہ افضل امام صاحب اس معاملے میں خوش نصیب ہیں جن کی نصف بہتر نہ صرف شعر و ادب سے واقف ہیں بلکہ اپنے شوہر کی ادبی سرگرمیوں میں معاون و مددگار بھی رہتی ہیں۔ ویسے لفظ تبسم صیغہ مذکر میں آتا ہے مگر ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت افضل امام کی تبسم اور خود ان کو صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے کیونکہ اردو زبان کو ان جیسے مخلصین کی بے حد ضرورت ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT