Friday , June 22 2018
Home / ہندوستان / افضل گرو کی باقیات کی واپسی کے مطالبہ پر تازہ تنازعہ

افضل گرو کی باقیات کی واپسی کے مطالبہ پر تازہ تنازعہ

جموں ؍ نئی دہلی ۔ 2 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) پُرامن رائے دہی کے بارے میں اپنے بیان سے تنازعہ کھڑا کرنے والے چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے آج کہا کہ وہ اپنے تبصرہ پرقائم ہیں اور اس بارے میں شوروغل کرنے والوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’ تل کا تاڑ‘‘ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں ۔ وہ قانون سازک

جموں ؍ نئی دہلی ۔ 2 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) پُرامن رائے دہی کے بارے میں اپنے بیان سے تنازعہ کھڑا کرنے والے چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے آج کہا کہ وہ اپنے تبصرہ پرقائم ہیں اور اس بارے میں شوروغل کرنے والوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’ تل کا تاڑ‘‘ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں ۔ وہ قانون سازکونسل کے انتخابات کے موقع پر اس کے احاطہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور حُریت کے بارے میں کل انہوں نے جو کچھ کہا ہے اُس پر قائم ہیں ۔ کشمیر میں جمہوریت اور عقیدے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔ انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ (پاکستان اور حُریت کانفرنس ) دونوں نے اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ ان کا مقدر عوام کے ہاتھوں میں ہے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ووٹ کے ذریعہ ہوگا ‘ گولیوں اور دستی بموں کے ذریعہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ ہمیں دیا گیا ہے جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے حق پر سرحد پار کے عوام سے زیادہ بھروسہ ہے ۔ حریت کانفرنس اور سرحد پار سے اسی لئے انتخابات میں مداخلت نہیں کی گئی جیسا کہ سابق میں ہوتا آیا ہے ۔ اُن پر تنقید کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے مثبت تبصرہ کیا تھا لیکن یہ لوگ ’’تل کا تاڑ‘‘ بنارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوری حق ہے جو کشمیر کو دستور کے تحت دیا گیا ہے ۔ جمہوری اداروں کی طاقت موجود ہے اور یہ سب پرچہ رائے دہی کا نتیجہ ہے‘ انہوں نے اسے تسلیم کرلیا ہے ۔ وہ اپنی پوری کوششیں کرکے دیکھ چکے ہیں اور جمہوری اداروں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ تلاطم خیز آغاز کے بعد پی ڈی پی اور بی جے پی کی جموںو کشمیر میں مخلوط حکومت مزید تنازعات کا شکار ہوگئی جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے آج پارلیمنٹ پر حملہ کے مجرم افضل گرو کی باقیات ریاست کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ، جس کی وجہ سے بھگوا پارٹی کاچہرہ شرم سے سرخ ہوگیا ۔ مفتی محمد سعید کی دختر اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے اپنے والد کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے جس میں کوئی غلطی ہو ۔ پی ڈی پی ارکان اسمبلی کے ایک گروپ نے ایک بیان پر دستخط کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افضل گرو کی باقیات جسے تہاڑ جیل دہلی میں 9 فبروری 2013 ء کو پھانسی دے کر وہیں دفن کردیا گیا تھا ریاست جموںو کشمیر واپس کی جائیں ۔ تاہم محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ دونوں فریقین کیلئے متوازی اور متضاد نظریات کی وجہ سے مختلف مسائل پر دشواریاں پیش آئیں گی ۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں کئی مسائل درپیش ہوں گے ، ہرچیز عاجلانہ طورپر راتوں رات مکمل نہیں کی جاسکتی۔ حکومت پارلیمنٹ میں پسپا ہوگئی ہے جہاں اپوزیشن نے یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے ایوان پارلیمنٹ میں مرکز کے موقف کی وضاحت طلب کی ہے۔ کانگریسی قائد ملک ا رجن کھرگے نے کہا کہ چونکہ مفتی سعید کہہ چکے ہیں کہ وہ وزیراعظم کو اپنے احساسات سے واقف کرواچکے ہیں کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کا سہرا حریت کانفرنس کے سر ہے اس لئے خود وزیراعظم کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے ۔ رام مادھو نے جو بی جے پی کے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کے سلسلہ میں اہم ثالث کا کردار ادا کرچکے ہیں مفتی سعید کے تبصرے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس (انتخابات کے بلا رکاوٹ انعقاد ) کیلئے تین عناصر کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ ریاستی عوام ، صیانتی محکمہ اور الیکشن کمیشن ۔ سابق چیف منسٹر اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے اظہار حیرت کیا کہ کیا مفتی سعید اور اُن کی دختر اتحاد توڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور اسی مقصد سے انھوں نے پرامن انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کیا مفتی نے فیصلہ کرلیا ہے کہ مودی۔ مفتی معاہدہ ایک غلطی تھی اور کیا باپ بیٹی کی جوڑی بی جے پی کو اتحاد توڑنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر پر یہ بات تحریر کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT