Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / افغانستان سے برطانوی فوج کا تخلیہ

افغانستان سے برطانوی فوج کا تخلیہ

لندن ۔ 17 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) برطانوی فوج نے آج افغانستان سے کامیابی کے ساتھ تخلیہ کردیا۔ اسے ایک تاریخی لمحہ تصور کیا جارہا ہے جہاں برطانوی فوج نے تمام اڈے افغان فوج کے حوالے کردیئے اور اب صوبہ ہلمند میں صرف دو فوجی اڈوں پر برطانیہ کا قبضہ ہے ۔ برطانوی فوج نے ایسے وقت افغانستان میں مداخلت کی تھی جب یہاں لڑائی اور خونریزی عروج پر ت

لندن ۔ 17 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) برطانوی فوج نے آج افغانستان سے کامیابی کے ساتھ تخلیہ کردیا۔ اسے ایک تاریخی لمحہ تصور کیا جارہا ہے جہاں برطانوی فوج نے تمام اڈے افغان فوج کے حوالے کردیئے اور اب صوبہ ہلمند میں صرف دو فوجی اڈوں پر برطانیہ کا قبضہ ہے ۔ برطانوی فوج نے ایسے وقت افغانستان میں مداخلت کی تھی جب یہاں لڑائی اور خونریزی عروج پر تھی ۔

برطانیہ کے دس ہزا ر سے زائد سپاہیوں کا 137 اڈوں پر کنٹرول تھا اور اس وقت صرف 4,000 فوجی سپاہی افغانستان میں رہ گئے ہیں۔ یہاں برطانیہ نے فوجیوں کے ساتھ ساتھ کمک اور عصری آلات کواُس مقام سے واپس کردیا جسے سب سے بڑا برطانوی فوجی اڈہ تصور کیا جاتا تھا ۔ طئے شدہ منصوبہ کے تحت جاریہ سال کے ختم تک برطانوی فوج افغانستان کا مکمل تخلیہ کردے گی ۔ اس عرصہ کے دوران 448 برطانوی سپاہی ہلاک ہوئے اور سب سے پہلا جانی نقصان 2002 ء میں ہوا تھا۔ بعد ازاں برطانیہ نے ایک منصوبہ بند آپریشن شروع کیا جس کے ذریعہ لشکر گاہ اور پٹرول بیس لشکر گاہ درائی کو افغانستان کے کنٹرول میں دیدیا گیا ۔ ایک اور فوجی اڈہ بند کیا جارہا ہے ۔ ایک مرحلہ پر افغانستان میں جہاں برطانوی فوج کے 137 اڈے تھے اب صرف دو اڈوں پر ہی اُس کا کنٹرول باقی رہ گیا ہے ۔ سرکاری عہدیداروں نے توثیق کی ہے کہ اکثر برطانوی فوجی اڈے اب افغان نیشنل سکیورٹی فورسیس کے کنٹرول میں ہے ۔

افغان فورس ملک میں 97 فیصد سکیورٹی محاذ سنبھالے ہوئے ہے اور 90 فیصد سے زائد فورس ازخود ٹریننگ حاصل کررہی ہے ۔ ڈیفنس سکریٹری فلپ ہمنڈ نے کہا کہ برطانوی فوج کا تخلیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبہ ہلمند میں سکیورٹی اور استحکام کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان فورس کو یہاں کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرنا بھی ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی فوجی آپریشنس سال کے ختم تک بند کردیئے جائیں گے لیکن افغان عوام کو ہماری تائید جاری رہے گی ۔ اس دوران ہماری فوج یہاں سے بھاری ہتھیار اور آلات اپنے ملک واپس لے جانے کا کام جاری رکھے گی اور ختم سال تک یہ مرحلہ بھی مکمل ہوجائے گا ۔ 24 فبروری 2014 ء کو منعقدہ ایک تقریب میں فوجی اڈہ لشکرگاہ کا مقامی سیول اور فوجی قائدین کے حوالے کیا گیا تھا ۔ یہ فوجی اڈہ 2006 ء میں قائم کیا گیا اور افغانستان میں برطانوی فوج کے ہیڈکوارٹر کے طورپر کام کررہا تھا اور یہ سلسلہ اگست 2013 ء تک جاری رہا جب ٹاسک فورس کو ہلمند میں واقعہ فوجی اڈہ منتقل کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT