Saturday , January 20 2018
Home / دنیا / افغانستان میںسیلاب‘81افراد ہلاک

افغانستان میںسیلاب‘81افراد ہلاک

کابل۔8جون ( سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان کے پہاڑی علاقوں اور دورافتادہ شمالی علاقہ میں تباہ کن سیلاب آنے کے دو دن بعد 80سے زیادہ نعشیں برآمد کی جاچکی ہے ۔ سربراہ پولیس گزرگاہ نور ضلع صوبہ بغلان کے سربراہ پولیس لیفٹننٹ فضل الرحمن نے کہا کہ جمعہ کے اچانک سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 81ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 850مکان کئی دیہات میں مکم

کابل۔8جون ( سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان کے پہاڑی علاقوں اور دورافتادہ شمالی علاقہ میں تباہ کن سیلاب آنے کے دو دن بعد 80سے زیادہ نعشیں برآمد کی جاچکی ہے ۔ سربراہ پولیس گزرگاہ نور ضلع صوبہ بغلان کے سربراہ پولیس لیفٹننٹ فضل الرحمن نے کہا کہ جمعہ کے اچانک سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 81ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 850مکان کئی دیہات میں مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں ۔ زبردست بارش اور سیلاب سے ایک ہزار سے مکانوں کو نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں ۔

انہیں پناہ گاہ ‘ غذائی اشیاء ‘ پانی اور دواؤںکی ضرورت ہے ۔ وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر اعظمی نے کہا کہ فوجی ہیلی کاپٹرس راحت رسانی کی کوششوں میں مدد کررہے ہیں ۔ یہ دور افتادہ ضلع صوبائی دارالحکومت پُل قمری سے 140کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے لیکن سفر 8تا 9گھنٹے کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ دشوار گذار پہاڑی علاقہ ہے ۔ فضل الرحمن نے کہاکہ مقامی عہدیداروں کو تقریباً 100خیمے کئی سو بلانکس اور کچھ غذائی اجناس حاصل ہوئے ہیں ۔ لیکن مزید سربراہی کی ضرورت ہے ۔ شمالی پہاڑی علاقہ میں مقیم افغان عوام بڑے پیمانے پر ملک کی کئی دہائیوں سے جاری جنگ سے بچ گئے ہیں لیکن وہ آفات سماوی کے لئے اجنبی نہیں ہے ۔

گذشتہ ماہ زمین کھسکنے کے واقعات سے جو زبردست بارش کے بعد پیش آئے تھے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں ایک دو افتادہ دیہات میں کئی افراد کیچڑ کے نیچے زندہ دفن ہوگئے تھے ۔ یہ علاقہ چین کی سرحد سے متصل ہے ۔ 200خاندان بے گھر ہوگئے تھے ۔ عہدیدار ہنوز حقیقی تعداد ظاہر کرنے سے قاصر ہیں جو 2مئی کے زمین کھسکنے کے واقعہ سے ہلاک ہوئے تھے ۔ ایک تخمینہ کے بموجب 230سے 2700 افراد ہلاک ہوسکتے ہیں ۔ عہدیداروں کے بموجب تمام نعشوں کو ملبہ سے کھود کر برآمدکرنا ناممکن ہے ۔ 2012ء میں صوبہ بغلان میں زمین کھسکنے سے 71افراد ہلاک ہوئے تھے ۔کئی دن کی کھدوائی کے بعد صرف پانچ نعشیں دستیاب ہوئی تھیں بعد ازاں عہدیداروں نے کھدوائی کا کام ترک کردیا تھا اوراس علاقہ کو یادگار میں تبدیل کردیاتھا ۔

TOPPOPULARRECENT