Saturday , January 20 2018
Home / دنیا / افغانستان میں القاعدہ کی واپسی ناممکن: کرزئی

افغانستان میں القاعدہ کی واپسی ناممکن: کرزئی

کابل 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) صدر حامد کرزئی نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ سے وابستہ گروہ دوبارہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ جو کچھ عراق میں ہو رہا ہے، وہ افغانستان میں کبھی نہیں ہوسکے گا۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ موجود نہیں ہے۔ افغانستان سے

کابل 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) صدر حامد کرزئی نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ سے وابستہ گروہ دوبارہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ جو کچھ عراق میں ہو رہا ہے، وہ افغانستان میں کبھی نہیں ہوسکے گا۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ موجود نہیں ہے۔ افغانستان سے اس سال کے آخر میں ناٹو افواج تخلیہ کر رہی ہیں اور بعض ماہرین کی رائے ہے کہ ملک میں اسلامی شدت پسندی کے حوالے سے عراق جیسی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر افغانستان نے کہا کہ 9/11کے بعد دہشت گردی کے خلاف صدر بش کی جنگ افغان گھروں اور دیہاتوں میں نہیں لڑی جانی چاہئے تھی۔

بظاہر پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ جنگ افغانستان کی سرحدوں سے باہر (شدت پسندوں کی) پناہ گاہوں میں لڑی جانی چاہئے تھی۔انھوں نے کہا: ’’میرا خیال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایمانداری سے نہیں لڑی گئی اور اس کے نتائج پورے خطے میں محسوس کئے گئے۔صدر کرزئی نے کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ مسلسل رابطہ کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’وہ مجھ سے روزانہ رابطہ میں ہوتے ہیں۔ خطوط کا تبادلہ، ملاقاتیں اور امن کا مطالبہ بھی ہے۔ مگر وہ (طالبان) اکیلے امن نہیں لا سکتے جیسے میں، افغان حکومت اور عوام اکیلے امن نہیں لاسکتے‘‘۔ صدر کرزئی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کا تحفظ افغان عوام کا کام ہے۔

TOPPOPULARRECENT