افغانستان میں دولت اسلامیہ کی موجودگی اقوام متحدہ اور روس کیلئے باعث تشویش

اقوام متحدہ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان میں اقوام متحدہ کے اعلی سطحی سفارت کار نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر حالیہ رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو یہ اشارے ملتے ہیں کہ دولت اسلامیہ گروپ نے افغانستان میں بھی اپنے قدم جما لئے ہیں اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس کا اظہار روس نے بھی کیا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ سلامتی کونسل کو انتہا

اقوام متحدہ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان میں اقوام متحدہ کے اعلی سطحی سفارت کار نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر حالیہ رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو یہ اشارے ملتے ہیں کہ دولت اسلامیہ گروپ نے افغانستان میں بھی اپنے قدم جما لئے ہیں اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس کا اظہار روس نے بھی کیا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ سلامتی کونسل کو انتہا پسند گروپ کو مزید وسعت حاصل کرنے سے روکنا ہے ۔ کل کونسل کو یہ بات بتاتے ہوئے نکولاس ہیسم نے کہا کہ اقوام متحدہ نے بھی جو معلومات حاصل کی ہیں اُن کے تحت دولت اسلامیہ نے افغانستان میں حالانکہ اپنے قدم جمائے نہیں ہیں تاہم مستقبل میں بھی ایسا نہ ہوگا ۔ اس کے بارے میں قطعی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ روس کے نائب اقوام متحدہ سفیر والادیمیر سافر و نکوف نے بتایا کہ روس کو اس بات پر بیحد تشویش ہے کہ دولت اسلامیہ افغانستان میںبھی اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہا ہے خصوصی طور پر اُن شمالی علاقوں میں سرحد کے قریب ایسے ممالک جو ہمیشہ امن کا گہوارہ رہے ہیں اور جو ہمیشہ سے افغانستان کے پڑوسی اور اچھے دوست رہے۔ کل کے اجلاس میں سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے فیصلہ کو 17 مارچ 2016 تک توسیع دی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT