Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / افغانستان میں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں 30 شہریوں کا اغوا اور قتل

افغانستان میں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں 30 شہریوں کا اغوا اور قتل

مہلوکین میں اکثریت چرواہوں کی، آئی ایس مشرقی علاقوں سے اب دیگر علاقوں میں سرگرم
کابل۔ 26 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے جہادی گروپ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے تقریباً 30 شہریوں کو جن میں بچے بھی شامل تھے، ہلاک کردیا۔ دریں اثناء متعلقہ افسران نے اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جہادی گروپ کی فوری بیخ کنی کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ اب وہ جہادی گروپ اپنے مستحکم مشرقی علاقوں کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔ مندرجہ بالا ہلاکتیں صوبہ گھور کے شمالی علاقہ فیروزکوہ میں ہوئیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ دولت اسلامیہ شام اور عراق کی سرحدوں کے قریب اپنا کنٹرول رکھتا ہے تاہم اب اس نے افغانستان میں بھی اپنی سرگرمیوں کو توسیع دیتے ہوئے خطہ میں تشویش پیدا کردی ہے۔ حالانکہ اب تک ان ہلاکتوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول نہیں کی ہے۔ دوسری طرف گورنر گھور ناصر قازہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سکیورٹی فورسیس نے مقامی افراد کے تعاون سے ایک آپریشن انجام دیتے ہوئے داعش کے ایک کمانڈر کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے داعش جنگجوؤں نے 30 دیہاتیوں کو جن میں اکثریت چرواہوں کی تھی، اغوا کرلیا جن کی نعشیں آج یہاں مقامی افراد نے پڑی ہوئی دیکھی۔ گھور صوبائی کونسل کے رکن عبدالحمید ناطقی نے بھی میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور دراصل طالبان کے جنگجو تھے۔

ان ہلاکتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ افغانستان میں آج بھی سیکیورٹی کی صورت حال دگرگوں ہے کیونکہ طالبان کو افغانستان سے 15 سال قبل ہی پسپا کرنے کے باوجود ان کی شورش پسندی ہنوز جاری ہے۔ دوسری طرف دولت اسلامیہ بھی افغانستان میں اپنے قدم جمانے کوشاں ہے اور ایسے لوگوں کی تلاش میں ہے جو ان کے ساتھ ہمدردی کریں یا ان کے گروپ میں بھرتی ہوجائیں تاکہ طالبان کو خود ان کی سرزمین پر شکست فاش دی جاسکے۔ خصوصی طور پر ملک کے مشرقی علاقہ میں۔ جاریہ سال مارچ میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ مقامی سکیورٹی فورسیس کے حرکت میں آنے کے بعد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر ایک ماہ کی طویل لڑائی کے بعد فتح حاصل کی گئی ہے تاہم اس اعلان میں اب سچائی نظر نہیں آتی کیونکہ دولت اسلامیہ کے جنگجو وقتاً فوقتاً حملے کررہے ہیں،

لہذا گھور صوبہ میں حال ہی میں کئے گئے حملے سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان کے حوصلے کتنے بلند ہیں جبکہ کچھ عرصہ قبل یہ عالم تھا کہ ان کی سرگرمیاں صرف مشرقی صوبہ نانگھرہار تک ہی محدود تھیں جہاں دولت اسلامیہ گروپ نے اپنی سفاکیت کا کھل کر مظاہرہ کیا تھا جن میں لوگوں کے سرقلم کرنا بھی شامل ہے۔ کابل میں افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک کے ایک محقق برہان عثمان نے کہا کہ دولت اسلامیہ نے متعدد شہریوں کی ہلاکت کے ذریعہ ایک بار پھر اپنے سَر ابھارنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گھور میں دولت اسلامیہ کے جنگجو وہ طالبان کے سابق جنگجو رہ چکے ہیں ۔ فی الحال تو حکومت افغانستان ایک آپریشن انجام دے رہی ہے جس کے لئے اسے ناٹو کے فضائی حملوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ دوسری طرف طالبان جو اپنے گرمائی حملوں کے وسطی مرحلے میں ہیں ، اور جنہیں دولت اسلامیہ سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جارہا ہے، نے گھور میں ہوئی ہلاکتوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT