Sunday , June 24 2018
Home / دنیا / افغانستان میں دو غیرملکی خاتون صحافیوں پر حملہ، ایک ہلاک

افغانستان میں دو غیرملکی خاتون صحافیوں پر حملہ، ایک ہلاک

کابل ، 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست میں ایک غیرملکی خاتون صحافی کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ایک اور غیر ملکی خاتون جرنلسٹ زخمی بھی ہوئی ہے۔ خوست کی صوبائی حکومت کے ترجمان موباریز محمد زردان نے فرانسیسی خبررساں ادارہ اے ایف پی کو بتایا، ’’دو خاتون صحافیوں پر آ

کابل ، 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست میں ایک غیرملکی خاتون صحافی کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ایک اور غیر ملکی خاتون جرنلسٹ زخمی بھی ہوئی ہے۔ خوست کی صوبائی حکومت کے ترجمان موباریز محمد زردان نے فرانسیسی خبررساں ادارہ اے ایف پی کو بتایا، ’’دو خاتون صحافیوں پر آج صبح ضلعی پولیس ہیڈکوارٹرز میں فائرنگ کی گئی۔ ان میں سے ایک ہلاک ہو گئی جبکہ دوسری شدید زخمی ہے۔‘‘

امریکی نیوز ایجنسی ’اسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق مہلوک صحافی دراصل 48 سالہ جرمن آنیا نیڈرنگ ہاؤس تھیں جو عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہیں اور اس امریکی خبر رساں ادارہ سے بحیثیت فوٹوگرافر وابستہ تھیں، جبکہ زخمی ہونے والی کیتھی گینون رپورٹر ہیں اور طبی امداد ملنے کے بعد اب مستحکم حالت میں ہیں اور ڈاکٹرز سے بات کررہی ہیں۔ اسوسی ایٹڈ پریس کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر کیتھلین کیرول نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’آنیا اور کیتھی کئی برسوں سے افغانستان میں جاری بحران کے بارے میں رپورٹنگ کیلئے ایک ساتھ کام کر رہی تھیں … ہم آنیا کو کھونے پر انتہائی دلگرفتہ ہیں‘‘۔

زردان اور خوست پولیس کے نائب سربراہ دونوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملہ آور نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔ مہلوک خاتون صحافی وہ دوسری غیرملکی صحافی ہیں جو افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران ہلاک ہوئی ہیں۔ قبل ازیں 11 مارچ کو سویڈن کے صحافی نِلس ہارنر کو کابل میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔ آج جمعہ 4 اپریل کو غیر ملکی خاتون صحافیوں پر یہ حملہ افغان صدارتی انتخابات سے ایک روز قبل ہوا ہے۔

افغان طالبان قبل ازیں یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ بم دھماکوں اور قتل وغارت گری کے ذریعے ان انتخابات کو سبوتاج کریں گے۔ اے ایف پی کے افغانستان میں رپورٹر سردار احمد، ان کی اہلیہ اور تین بیٹے 20 مارچ کو کابل کے سیرینا ہوٹل پر پیش آئے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ انتہائی سخت سکیورٹی کی حامل سیرینا ہوٹل میں اُس حملے کے نتیجے میں کْل 9 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں چار غیرملکی افراد بھی شامل تھے۔ برطانوی خبررساں ادارہ روئٹرز کے مطابق صوبہ خوست کے گورنر کے ترجمان کا خیال ہے کہ ان دو خاتون صحافیوں پر فائرنگ کرنے والا دراصل پولیس والا تھا۔ روئٹرز کے مطابق زردان نے کہا، ’’نقیب اللہ، جو خوست کے ضلع ٹانی کا پولیس اہلکار ہے اس نے دو غیرملکی خاتون صحافیوں پر فائرنگ کر دی۔ ان میں سے ایک ہلاک ہوئی جبکہ دوسری زخمی۔‘‘

TOPPOPULARRECENT