Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / افغانستان میں فوجی اڈہ پر طالبان کا حملہ، 43 سپاہی ہلاک

افغانستان میں فوجی اڈہ پر طالبان کا حملہ، 43 سپاہی ہلاک

صوبہ غزنی میں پولیس ہیڈکوارٹر کا محاصرہ، جاریہ ہفتہ 4 حملوں میں 120 سے زائد ہلاکتیں

قندھار ۔ 19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان میں دو علحدہ بم حملوں کے ذریعہ سیکوریٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس میں کئی درجن سپاہی ہلاک ہوگئے۔ جاریہ ہفتہ تباہ کن حملوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں مہلوکین کی تعداد 120سے زائد پہنچ گئی ہے اور ملک میں عدم سلامتی کی صورتحال بڑھتی جارہی ہے۔ وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی افغانستان میں فوجی اڈہ پر ہوئے بم دھماکہ میں تقریباً 43 افغان سپاہی ہلاک اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی اور انہوں نے دھماکوں سے لدی گاڑی فوجی احاطہ میں گھسادی۔ قندھار میں سیکوریٹی ذرائع نے بتایا کہ 50 فوجی ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں لیکن مہلوکین کی حقیقی تعداد میں اضافہ کا اندیشہ ہے کیونکہ یہ حملہ کافی شدت کا تھا۔ وزارت دفاع کے بموجب دہشت گردوں نے صوبہ قندھار کے مائیوند ضلع میں واقع چشمو علاقہ کے فوجی اڈہ کو زمین دوز کردیا۔ اس وقت کیمپ میں کچھ نہیں بچا ہے۔ دہشت گردوں نے فوجی اڈہ میں پائی جانے والی ہر چیز کو جلا ڈالا۔ صرف 2 سپاہی اس حملہ میں بچ پائے جبکہ 6 سپاہیوں کا ہنوز پتہ نہ چل سکا۔ افغان سیکوریٹی فورسیس کو مسلسل دہشت گردوں کا سامنا ہے جو انہیں نشانہ بناتے آرہے ہیں۔ سیکوریٹی فورسیس نے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ امریکی طیاروں نے آج مائیوند میں انسداد دہشت گردی کارروائی کے دوران فضائی حملے کئے۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ اس حملہ کا نشانہ کیا فوجی اڈہ کے پاس موجود دہشت گرد تھے۔ صوبائی عہدیداروں نے بتایا کہ اس حملہ میں دو گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ صدر اشرف غنی نے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی مدد کے ذریعہ یہ کارروائی کی گئی۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہیکہ اس کارروائی میں فوجی اڈہ پر موجود تمام 60 سیکوریٹی ارکان عملہ کو ہلاک کردیا گیا۔ ایک اور علحدہ واقعہ میں دہشت گردوں نے جنوب مشرقی صوبہ غزنی کے پولیس ہیڈکوارٹر کا محاصرہ کرلیا۔ جاریہ ہفتہ دوسری مرتبہ اسے حملہ کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کی مدد کیلئے فضائی حملوں کا سہارا لیا گیا جس میں دو سیکوریٹی فورسیس ہلاک ہوگئے۔ امریکی فورس نے اس حملہ کی فوری طور پر توثیق نہیں کی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس سے پہلے منگل کو ہیڈکوارٹر پر کئے گئے حملے میں 20 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہوئے تھے۔ آج ہوئے حملوں کے بعد جاریہ ہفتہ سیکوریٹی تنصیبات کو بم اور خودکش حملوں کے ذریعہ نشانہ بنانے کے واقعات 4 ہوگئے اور مہلوکین کی تعداد 120 سے زائد ہوگئی جن میں سپاہی، پولیس اور عام شہری شامل ہیں۔ ان چار حملوں کے منجملہ تین میں طالبان نے فوجی ٹرک کا استعمال کیا ہے۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے جاریہ سال افغانستان میں امریکی فوج کی برقراری کا اعلان کیا تھا جبکہ یہاں امریکہ اب تک کی طویل ترین لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن طالبان نے کہا ہیکہ حالیہ حملے امریکہ اور کابل حکومت کیلئے واضح پیام ہیکہ وہ اپنے نام نہاد نئے لائحہ عمل کے ذریعہ ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے کہا کہ ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے اور انشاء اللہ ہر محاذ پر کامیاب ہوں گے۔ دشمن جو یہ سمجھتا ہیکہ ٹرمپ کے نئے لائحہ عمل سے ہم خوفزدہ ہوں گے تو یہ غلط ہے اور ہم انہیں سبق سکھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT