Wednesday , July 18 2018
Home / دنیا / افغانستان میں پہلے چینی فوجی اڈے کیلئے تیاریاں شروع

افغانستان میں پہلے چینی فوجی اڈے کیلئے تیاریاں شروع

کابل۔3 فروری (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے محکمہ دفاع نے چین کے ساتھ فوجی اڈے کی تعمیر کے حوالے سے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر دونوں ممالک میں اتفاق ہے تاہم جزئیات واضح کی جارہی ہیں۔افغانستان کے محکمہ دفاع کے نائب ترجمان محمد رادمنیش کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں فوجی اڈے کی تعمیر کے حوالے سے سب سے پہلے دسمبر 2017 میں بیجنگ میں مذاکرات ہوئے تھے۔ اس حوالے سے جزئیات ابھی واضح کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس فوجی اڈے کی تعمیرخودکرنا چاہتے ہیں لیکن چینی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ڈویڑن کی مالی مدد فراہم کرے گا اور افغان فوجیوں کو تربیت فراہم کرنے سمیت فوجی سازوسامان، ہتھیار اور دیگرمدد فراہم کرے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ چین، افغانستان میں دور افتادہ اور پہاڑی علاقے واخان میں فوجی اڈا تعمیر کرے گا جہاں اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کی فوجیں مشترکہ پٹرول کرتی ہیں تاہم اس وقت اس حوالے سے تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تھی۔دوسری طرف افغانستان اور چین کے درمیان واخان کی شمالی افغان پٹی میں ایک چینی فوجی اڈے کے مبینہ قیام کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی خبروں پر پاکستان کے بہت سے حلقوں میں بڑی دلچسپی اور تجسس دیکھنے میں آ رہے ہیں۔پاکستان میں چند تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کابل حکومت کا یہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہو گا کہ وہ چین کو اپنے ریاستی علاقے میں ایسی کوئی ملٹر ی بیس قائم کرنے کی اجازت دے دے۔ لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کی غیر اعلانیہ مخاصمت کے پیش نظر افغان حکومت کے لیے یہ بہت ہی مشکل ہو گا کہ وہ ان دونوں عالمی طاقتوں سے اپنے متوازن تعلقات کو یقینی بنا سکے۔بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ ایک دانش مندانہ اقدام ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بین الاقوامی ادارہ برائے امن و استحکام سے وابستہ ڈاکٹر بکر نجم الدین کے خیال میں افغانستان اس وقت مدد کا متلاشی ہے اور یہ مدد اسے کہیں سے بھی ملے گی، تو وہ لے لے گا۔ ان کے مطابق ’’افغانستان خانہ جنگی سے تباہ ہو چکا ہے۔ وہ امن کی تلاش میں ہے۔ ایسے میں کوئی بھی ملک اگر اس کو مدد دے گا، تو کابل اسے قبول کر لے گا۔ چاہے یہ مدد چین سے آئے، روس یا پھر یورپی یونین سے۔‘‘پختونوں کا ایک حصہ پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتا ہے جب کہ سیکولر اور لبرل افغان امریکہ اور یورپ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ تو یہ سیاسی تقسیم اور امریکہ کا یہ اعلان کہ چین اس کا اسٹریٹیجک حریف ہے، اْن عوامل میں سے محض چند ہیں، جن کی وجہ سے افغان حکومت کے لیے یہ مشکل ہو گا کہ وہ بیجنگ اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کر سکے۔

TOPPOPULARRECENT