Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / افغانستان میں ہندوستانی قونصل خانہ پر حملہ، نریندر مودی کیلئے چیلنج

افغانستان میں ہندوستانی قونصل خانہ پر حملہ، نریندر مودی کیلئے چیلنج

کابل /23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے صوبہ ہرات میں ہندوستانی قونصل خانہ پر حملہ نامزد وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے بہت بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے نئے وزیر اعظم کے لئے شاندار خارجہ پالیسی بنانے کا خواب چکنا چور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چار مسلح حملہ آوروں نے ہندوستانی سفارتی عملہ کو نشانہ بنایا اور انھیں یرغمال بنان

کابل /23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے صوبہ ہرات میں ہندوستانی قونصل خانہ پر حملہ نامزد وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے بہت بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے نئے وزیر اعظم کے لئے شاندار خارجہ پالیسی بنانے کا خواب چکنا چور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چار مسلح حملہ آوروں نے ہندوستانی سفارتی عملہ کو نشانہ بنایا اور انھیں یرغمال بنانے کی کوشش کی، لیکن 9 گھنٹوں تک جاری انکاؤنٹر کے دوران سیکورٹی فورس نے تمام چار حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔ نریندر مودی کو اپنی حلف برداری تقریب میں صدر سری لنکا راجہ پکسے کو دعوت دینا بھی اندرون ملک ناراضگی کو ہوا دینے کا موجب بن رہا ہے۔ ہرات میں حملہ کے ذریعہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو بھی یہ اشارہ دینا ہے کہ وہ مودی کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہ کریں۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لینے سے قبل ہی نریندر مودی کی خارجہ پالیسی آزمائش سے دو چار ہوکر چیلنج کھڑا کر رہی ہے۔ ہرات حملہ کے بعد صدر افغانستان حامد کرزئی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور نامزد وزیر اعظم مودی کو فون کرکے بات چیت کی اور تیقن دیا کہ ہندوستانی مشن کی سلامتی کو یقینی بنانے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ نواز شریف کو دعوت دینے والے نریندر مودی کے لئے سفارت خانہ پر حملہ ایک چیلنج ہے۔ افغانستان میں ہندستانی اثاثوں پر حملہ کے لئے پاکستان کے دہشت گرد گروپس کے رول کے بعد یہ واقعہ مزید سنگین بن گیا۔ اگرچہ کہ سیکورٹی فورس نے 9 گھنٹوں تک انکاؤنٹر کی کارروائی کرکے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔

سارا سفارتی عملہ محفوظ ہے۔ حملہ آور سفارتی عملہ کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی سرحد سے متصل افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں راکٹوں سے داغے جانے والے بارودی گولوں کے علاوہ مشین گنوں اور دیگر اسلحہ سے لیس مسلح بندوق برداروں نے آج طلوع آفتاب سے قبل ان دو عمارتوں پر حملہ کردیا، جہاں ہندوستانی قونصل واقع ہے۔ ہندوستانی سفیر امر سنہا نے کہا کہ ایک حملہ آور کو اس وقت گولی مارکر ہلاک کردیا گیا، جب وہ قونصل خانہ کی دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا، جس میں ہندوستانی قونصل جنرل کی رہائش گاہ بھی واقع ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حملہ کے وقت قونصل خانہ میں 9 ہندوستانی ارکان عملہ اور متعدد مقامی افغان موجود تھے۔ قبل ازیں نامزد وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان صوبہ ہرات میں ہندوستانی قونصل خانہ پر آج صبح کی اولین ساعتوں میں ہوئے حملہ کے بارے میں افغان صدر حامد کرزئی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور انھیں تیقن دیا گیا کہ افغانستان میں ہندستانی قونصل خانوں کے تحفظ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ نریندر مودی نے افغانستان میں متعینہ ہندوستانی سفیر امر سنہا سے بھی اس حملہ کے فوری بعد ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے حملہ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھے

سارا سفارتی عملہ محفوظ ہے۔ حملہ آور سفارتی عملہ کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی سرحد سے متصل افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں راکٹوں سے داغے جانے والے بارودی گولوں کے علاوہ مشین گنوں اور دیگر اسلحہ سے لیس مسلح بندوق برداروں نے آج طلوع آفتاب سے قبل ان دو عمارتوں پر حملہ کردیا، جہاں ہندوستانی قونصل واقع ہے۔ ہندوستانی سفیر امر سنہا نے کہا کہ ایک حملہ آور کو اس وقت گولی مارکر ہلاک کردیا گیا، جب وہ قونصل خانہ کی دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا، جس میں ہندوستانی قونصل جنرل کی رہائش گاہ بھی واقع ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حملہ کے وقت قونصل خانہ میں 9 ہندوستانی ارکان عملہ اور متعدد مقامی افغان موجود تھے۔ قبل ازیں نامزد وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان صوبہ ہرات میں ہندوستانی قونصل خانہ پر آج صبح کی اولین ساعتوں میں ہوئے حملہ کے بارے میں افغان صدر حامد کرزئی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور انھیں تیقن دیا گیا کہ افغانستان میں ہندستانی قونصل خانوں کے تحفظ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ نریندر مودی نے افغانستان میں متعینہ ہندوستانی سفیر امر سنہا سے بھی اس حملہ کے فوری بعد ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے حملہ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT