Monday , December 18 2017
Home / دنیا / افغانستان میں ہندوستان کا کوئی سیاسی یا دفاعی رول نہ ہو : عباسی

افغانستان میں ہندوستان کا کوئی سیاسی یا دفاعی رول نہ ہو : عباسی

صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کے اندیشے
پاکستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے
امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارین ریلیشنز کے
اجلاس سے خطاب
نیویارک ۔ 21 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان اس بات کا خواہاں ہیکہ افغانستان میں ہندوستان کا سرے سے کوئی سیاسی یا دفاعی رول ہی نہ ہو۔ یہ بیان انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہفتوں بعد دیا ہے جہاں ٹرمپ نے ہندوستان سے افغانستان میں قیام امن اور استحکام کیلئے اپنی کوششیں تیز تر کرنے کی خواہش کی تھی۔ یاد رہیکہ گذشتہ ماہ جس وقت ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیاء پر اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا، اس وقت انہوں نے پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ بہرحال جب عباسی سے افغانستان میں ہندوستان کے رول کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا ’’صفر‘‘۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مستقبل میں ہم افغانستان میں ہندوستان کی جانب سے کوئی بھی سیاسی یا دفاعی رول ادا کرتے نہیں دیکھ سکتے۔ خصوصی طور پر معاشی تعاون اور ترقی کے شعبہ میں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی جس کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔ بعدازاں ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں افغانستان میں ہندوستان کو بحیثیت سرمایہ کار کا رول ادا کرنے کے امکانات ہیں جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو دوسرے ملک کے ساتھ تجارت کرنے اور سرمایہ کاری کا حق ہے اور اگر ہندوستان ایسا کرنا چاہتا ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ ماضی میں بھی ہندوستان نے افغانستان میں سرمایہ کاری کی ہے۔ البتہ عباسی نے اس سوال کو یکسرمسترد کردیا جہاں پوچھا گیا تھا کہ کیا حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کی انٹلیجنس ایجنسی کے درمیان روابط ہیں۔ عباسی نے کہاکہ پاکستان میں ایسے کسی بھی گروپ کی سرگرمیاں جاری نہیں ہیں جو ملک کے لئے خطرہ کی وجہ بنے یا پھر دوسرے ممالک تک اس خطرہ کا احساس دلائے۔

یہ کہنا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، بالکل غلط بات ہے۔ ہم نے خود اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے تو پھر یہ الزام لگانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ آج افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوکر سیکوریٹی فورسیس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ہم نے افغانستان کو واضح طور پر کہہ دیا ہیکہ اگر انہیں دہشت گردوں کے کسی محفوظ ٹھکانوں کا علم ہو تو حکومت پاکستان کو مطلع کریں، ہم ان ٹھکانوں کو تباہ و تاراج کردیں گے۔ یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے آج کوئی ایسے محفوظ ٹھکانے موجود نہیں جہاں سے افغانستان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ حافظ سعید کے بارے میں پوچھے جانے پر عباسی نے کہا کہ ان کا (سعید) تعلق ایک باوقار تنظیم سے ہے، اس کے باوجود بھی ہم نے سعید کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں ان کے ہی مکان میں نظربند رکھا۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں ایک امیدوار نے سعید کی تصویر کا استعمال کیا تھا جو غیرقانونی ہے اور الیکشن کمیشن اس امیدوار کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ہم نے قبل ازیں بھی سعید کے خلاف کارروائی کی تھی اور اب بھی اگر ضرورت محسوس ہوئی تو کارروائی کی جائے گی جبکہ 2 تا 3 سال سے وہ زیرحراست ہیں۔ وزیراعظم عباسی نیویارک میں ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک کونسل آن فارین ریلیشنز کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے کشیدہ تعلقات کے باوجود ہم امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں اور اس میں مزید پیشرفت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس راہ میں انہیں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ ہمارا مقصد یکساں ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنا اور افغانستان میں امن کی بحالی۔ اگر پاکستان کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری کارکردگی اطمینان بحش رہی اور اسی پالیسی پر ہم عمل پیرا رہنا چاہتے ہیں۔ امریکی ڈرون حملوں کے متعلق پوچھے جانے پر عباسی نے کہاکہ اس خطہ میں سرگرم تمام فورسیس کو پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔ ہم افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیںاور افغانستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ معاشی تعلقات کو وسیع تر کرنا چاہتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT