Saturday , December 15 2018

افغانستان میں 16 سال بعد بھی امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟

l امریکی عوام کو جنگ سے کوئی دلچسپی نہیں
l افغان فوجیوں کی بہتر تربیت کیلئے مزید 800 امریکی فوجیوں کی آمد
l ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں عوامی اور سیاسی استحکام کیلئے کچھ نہیں کیا: رپورٹ
واشنگٹن۔12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان میں 16 سال قبل جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ نے اپنی فوج کی تعداد کو کم کرنے کے کئی بار کئے گئے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوئے اس کی تعداد میں اضافہ ہی کیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں اب کسی کو کچھ لینا دینا نہیں ہے اور کوئی توجہ بھی دینا نہیں چاہتا۔ امریکہ کی سکیوریٹی کو لاحق خطرہ پر ہوئی سنیٹ کی ایک سماعت کے دوران گزشتہ ہفتہ افغانستان کا لفظ ایک دوبار نہیں بلکہ پورے چار بار دہرایا گیا جس میں کہیں بھی جنگ سے متعلق دلچسپی کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آیا۔ ایک ایسی جنگ جہاں طالبان سے 15000 امریکی فوج نبردآزما ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کے خاتمہ کے آثار نظر آرہے ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ کی بات ہے کہ 800 امریکی فوجیوں پر مشتمل ایک قافلہ یہاں پہنچا ہے تاکہ افغانستان میں فوجیوں کو بہتر صلاح و مشورے اور تربیت فراہم کی جائے لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ جو جنگ 13 اکٹوبر 2001ء میں شروع ہوئی تھی اس کا خاتمہ کب ہوگا لہٰذا 800 زائد امریکی فوجیوں کی آمد کے بعد مختلف لڑاکا طیاروں اور دیگر طیاروں کو امریکی فوج میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے اب تک جتنے بھی ’’اصلاحی‘‘ کام کئے گئے ہیں ان میں ٹرمپ کا یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے اندرون سات ماہ ا فغانستان کے لیے مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی اور شاید 800 زائد فوجیوں کی افغانستان آمد اسی وعدہ کی تکمیل ہے لیکن واضح تصویر اسی وقت سامنے آئے گی جب اپریل یا مئی میں شدت کی لڑائی کا زمانہ شروع ہوگا۔ جہاں تک موسم سرما کا سوال ہے تو امریکی اور افغان جنگی طیاروں نے طالبان کے ان غیر قانونی منشیات کے اڈوں کو تباہ کرنے میں صرف کیا جو طالبان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ واشنگٹن میں سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے تعلق رکھنے والے انتھونی کورڈسمین جو افغانستان میں جاری جنگ پر گہری نظر رکھتے ہیں، نے گزشتہ ماہ ایک اپنے انتہائی دلچسپ مضمون میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یوں تو افغان فوج کی کارکردگیوں کو بہتر بنانے کے کے لیے فوجی حکمت عملی اور منصوبوں میں کافی بہتری پیدا کی ہے تاہم عوامی اور سیاسی استحکام کیلئے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ لہٰدا اس چیلنج کو مزید واضح طور پر اس وقت دیکھا جاسکے گا جب جولائی میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے منصوبہ پر عمل آوری ہوگی۔ کورڈسمین نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی انتخابات کے دوران ہی تصویر واضح ہوگی کہ ٹرمپ انتظامیہ کس طرح ناقص سکیوریٹی کی صورتحال، گورننس اور معاشی حکمت عملی وضع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے افغانستان میں ایک مشن امپاسبل کی ذمہ داری سنبھالی ہے جو آسان کام نہیں ہے۔ یاد رہے کہ مشن امپاسبل ہالی ووڈ کی مشہور و معروف فلم ہے جس میں ٹام کروز نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان کی مرکزی حکومت ا ور طالبان کی شورش پسندی ہی امریکی فوج کے مسائل نہیں ہیں بلکہ روس کی جانب سے مداخلت بھی امریکی فوج کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ یہ بات کہنے والے کوئی اور نہیں بلکہ افغانستان کی جنگ پر پل پل کی خبر رکھنے والے جنرل جوزف ووٹیل نے کہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ایک کانگریشنل پیانل کو بتایا کہ کس طرح روس، افغانستان میں دولت اسلامیہ کے جنگجوئوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے امریکی اور ناٹو افواج کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اسے امریکہ کی ناکامی سے تعبیر کررہا ہے۔ ٹرمپ نے ماہ اگست میں جس وقت افغانستان میں جاری جنگ کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکی عوام بغیر جیت والی جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ضمیر کبھی کبھی یہ کہتا ہے کہ افغانستان کی جنگ سے دستبرداری حاصل کرلی جائے تاہم اپنے بااعتماد رفقاء سے مشاورت کے بعد وہ اس جنگ کے ایک باوقار نتیجہ کے منتظر ہیں جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جنگ میں مزید وسائل کو جھونکا جائے۔ جنگ میں حصہ لینے والے کمانڈرس کو زائد اختیارات تفویض کئے جائیں اور افعانستان میں امریکی فوج کو اس وقت تک رکھا جائے جب تک اس کی ضرورت باقی ہے۔ اس موقع پر جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی امور کے پروفیسر اسٹیفن بڈل نے کہا کہ امریکی عوام کی جنگ میں عدم دلچسپی کی وجہ سے ٹرمپ کو اب اس جنگ کو جاری رکھنے کی سیاسی وجہ ہاتھ آگئی ہے تاہم یہ کوئی اچھا فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔
TOPPOPULARRECENT