Monday , December 18 2017
Home / اداریہ / افغانستان کی صورتحال

افغانستان کی صورتحال

ہر اک کی ترقی کے لئے امن ہے لازم
اسکے لئے مہماں کا تحفظ ہے ضروری
افغانستان کی صورتحال
ایسے وقت جبکہ ہندوستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کو یقین بنانے کے لئے چین کے اشتراک کے ساتھ اہم پہل کی ہے ‘ مزارشریف میں دہشت گردوں نے ہندوستانی قونصل خانہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا ۔ گذشتہ سال عسکریت پسندوں نے ہیرات میں ہندوستانی قونصل خانہ پر حملہ کیا تھا ‘ مزار شریف میں عسکریت  پسندوں کا حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ ویزاعظم نریندر مودی نے روس کے دورہ سے واپس ہوتے ہوئے کابل میں توقف کیا تھا اور انہوں نے افغانستان کی پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کیا یہ عمارت ہندوستان کے اشتراک و تعاون سے تعمیر ہوئی ہے۔جنگ زدہ افغانستان کی تعمیر نو میں ہندوستان کا تعاون و اشتراک افغانستان کے لئے ناقابل فراموش ہے ۔ اس کا اعتراف سابق صدر افغانستان حامد کرزئی اور موجودہ صدر اشرف غنی بارہا  کرچکے ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مزار شریف میں ہندوستانی قونصل خانہ پر ہوئے حملہ کے باوجود ہندوستان افغانستان کاساتھ نہیں چھوڑے گا ۔ ہندوستان اور چین نے افغانستان میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے اپنی مساعی تیز تر کر دی ہے ۔ دونوں ممالک نے مختلف امور بشمول انسداد دہشت گردی اقدامات اور نئے علاقائی تجارتی گروپ کے قیام کے امکانات پر تبادلہ کیا ہے۔ بات چیت کے عمل میں طالبان کو شامل کرنے کے سوال پر ہندوستان اور چین کے موقف متضاد ہیں ۔ دونوں  کاطرز عمل مختلف ہے ۔ لیکن چین میں ہندوستان کے سفیر اشوک کانتا کا کہنا ہے کہ اس اختلاف رائے کے باوجود دونوں ممالک تال میل کے ساتھ افغانستان میں دیرپا امن اور سیاسی استحکام کے لئے اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ افغان مسئلہ پر ہند ۔ چین بات چیت اب تک کارآمد رہی ہے اور چین کا یہ احساس ہے کہ افغانستان علاقائی تعاون میں ہندوستان اور چین کے ساتھ رہے گا اور اس سلسلہ میں چین اور ہندوستان افغانستان سے متعلق اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں ۔ چین کے صدر زی جنپ پنگ کے دورہ ہند اور وزیراعظم نریندر مودی کے جوابی دورہ بیجنگ سے باہمی تعلقات کو فروغ حاصل ہوا اور علاقائی تعاون کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ پیرس میں دہشت حملوں اور مصر میں روسی طیارہ  کو مار گرانے کے واقعہ کے بعد نئی دہلی اور بیجنگ کے مابین سیکوریٹی تعاون خاص کر دہشت گردی سے نمٹنے میں باہمی تال میل و اشتراک کی اہمیت اور افادیت بڑھ گئی ہے ۔ اس سلسلہ میں گذشتہ سال نومبر میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے چین کا دورہ کیا اور  دونوں ممالک نے خفیہ اطلاعات کے باہمی تبادلہ سے اتفاق کیا ۔ اس سے ایک دوسرے پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے ۔ افغانستان میں امن و استحکام کی برقراری اصل مسئلہ ہے اور ہندوستانی سفیر نے بجا طور پر کہا ہے کہ نئی دہلی اور بیجنگ کو اپنے تال میل کو یقینی بناتے ہوئے افغانستان کی ترقی و استحکام کی سمت مشترکہ پہل کرنی ہوگی اور یہ کام آسان نہیں ہے ۔ گذشتہ چند دنوں سے دہشت گرد وقفہ وقفہ سے کابل کو حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ 4 ؍ جنوری کو تازہ واقعہ میں کابل انٹرنیشنل ایرپورٹ جانے والے راستہ میں خودکش بم دھماکہ ہوا اور یہ حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ مزار شریف میں ہندوستانی قونصل خانہ پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کر دیا گیا ۔ اس سے پہلے کابل کے انتہائی سیکوریٹی والے  سفارتی زون میں بھی حملے ہوچکے ہیں ۔ گذشتہ جمعہ کو کابل میں بیرونی باشندوں کی پسندیدہ فرنچ ریستوراں پر طالبان نے خودکش حملہ کیا تھا ۔ اس سے پہلے کئے گئے حملوں میں ‘دو بیرونی باشندوں کو ہلاک کیا گیا ‘   ان حالات میں افغانستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے کام کرنا ہندوستان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ہندوستانی انجنیئرس اور تکینکی عملہ نے انتہائی پرآشوب حالات میں افغانستان کی تعمیر نو کے کام میں گراں بہا حصہ ادا کیا ہے ۔ مستقبل میں اس کام میں چین کی ہندوستان سے شراکت اہمیت رکھتی ہے لیکن مزار شریف اور کابل میں تازہ دہشت گرد حملوں کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ افغانستان میں تمام غیر ملکی باشندوں اور سفارتی عملے کی جان و املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT